एक भारत श्रेष्ठ भारत है डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी ایک بھارت شریسٹھ بھارت ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی





एक भारत श्रेष्ठ भारत है
डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी 
एक भारत श्रेष्ठ भारत है
जिस की प्राचीन सभ्यता है महान
एकता में अनेकता इसकी 
इसकी अपनी अलग है एक पहचान
इस का अदभुत है संविधान अपना 
हैं सभी धर्म जिस में एक सामान 
भाई चारे के इसके हैं प्रतीक 
सुर ,तुलसी , कबीर और रसखान 
है यही देश विष्व में जिस में 
देवता के सामान है मेहमान 
मार्ग दर्शक है विश्र्व में सब का 
इस के आदर्श और योग का ज्ञान
देता है सब को प्यार का सन्देश 
जिस से करते हैं इस का सब सम्मान 
वह कला हो की आधुनिक विज्ञानं 
विश्र्व प्रसिद्ध इस के विद्वान् 
इस के संगीत के सुरों में है 
सब के ज़ेहनी सुकून का सामान 
इस की अज़मत के थे निशान टैगोर 
इस की अब्दुल कलम भी थे शान 
जैसे करते हैं इस का सब गुणगान 
इस का बढ़ता रहे यूँही सम्मान

ایک بھارت شریسٹھ بھارت
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
ایک بھارت شریسٹھ بھارت ہے
جس کی پراچین سبھیتا ہے مہان
ایکتا میں انیکتا اس کی
اس کی اپنی الگ ہے اک پہچان
اس کا ادبُھت ہے سمودھان اپنا
ہیں سبھی دھرم جس میں ایک سمان
بھائی چارے کے اس کے ہیں پَرتیک
سور، تُلسی ، کبیر اور رسکھان
ہے یہی دیش وشو میں جس میں
دیوتا کے سمان ہے مہمان
مارگ درشک ہے وشو میں سب کا
اس کے آدرش اور یوگ کا گیان
دیتا ہے سب کو پیار کا سندیش
جس سے کرتے ہیں اِس کا سب سممان
وہ کلا ہو کہ آدُھُنِک وگیان
وشوا پرسِدھ اس کے ہیں وِدوان
اس کے سنگیت کے سُروں میں ہے
سب کے ذہنی سکون کا سامان
اس کی عظمت کے تھے نشاں ٹیگور
اِس کی عبدالکلام بھی تھے شان
جیسے کرتے ہیں اس کا سب گُنگان
اس کا بڑھتا رہے یونہی سممان

A TRIBUTE TO KADER KHAN A BOLLYWOOD WRITER AND ACTOR BY DR AHMAD ALI BA...



A TRIBUTE TO KADER KHAN( A BOLLYWOOD WRITER AND ACTOR) BY DR. AHMAD ALI BARQI AZMI RECITED BY NAEEM SALARIA OF LONDON (UK)

A Pictorial Report Of Monthly Literary Meet Of Ghalib Academy New Delhi ...

شعری مجموعہ " روحِ سُخن " شاعر: ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ( اجمالی جائزہ ) اسلم چشتی ( پونے


شعری مجموعہ " روحِ سُخن " شاعر: ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ( اجمالی جائزہ ) اسلم چشتی ( پونے


شعری مجموعہ " روحِ سُخن " شاعر: ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ( اجمالی جائزہ )                                             
اسلم چشتی ( پونے )

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی اعظم گڈھ ( یو پی ) کے ایک علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں - ان کے والدِ محترم رحمت الہٰی برق اعظمی اعلٰی تعلیم یافتہ سرکاری ملازم تھے - ادبی دنیا میں نام تھا دبستانِ داغ دہلوی سے تعلق نوح ناروی کے توسط سے رہا ہے - قابل باپ برق اعظمی کے لائق سپوت برقی اعظمی نے بھی میدانِ ادب میں خوب نام کمایا - بزرگوں کی ہدایتوں پر چلنا ان کے کام آیا تبھی تو انھیں روحِ سُخن کو چھونے کا شعور آیا - برقی اعظمی مسلسل مشقِ سُخن کے عادی ہیں -مشق نے انھیں اپنے سُخن میں کمال عطا کردیا عرصۂ دراز سے شاعری کر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی مجموعۂ کلام شایع نہیں ہُوا تھا، تخلیق کار پبلیکیشن دہلی نے " روحِ سُخن " کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شایع کیا ہے - کتاب کی پشت پر پبلیکیشن کے روحِ رواں انیس امروہوی کی رائے چھپی ہے -اسکا ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں -*
" برقی اعظمی کو ۱۵ برس کی عمر سے شعر گوئی کا ذوق و شوق رہا ہے - ان کی خاص دلچسپی جدید سائنس میں انٹرنیٹ اور خاص طور پر اُردو کی ویب سائٹس سے جنون کی حد تک ہے - اُردو اور فارسی میں یکساں مہارت کے ساتھ غزل کہتے ہیں - فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں بھی آپ کو ملکہ حاصل ہے - " روحِ سُخن " احمد علی برقی اعظمی کا پہلا شعری مجموعہ ہے "-*
" روحِ سُخن " 464 صفحات کی ضخیم کتاب ہے - اس میں ۱۱۱ صفحات پر مُشاہرِ ادب کے برقی اعظمی کے فکروفن اور شخصیت پر مضامین شامل ہیں - سبھی نے برقی کی جائز تعریف سلیقگی سے کی ہے - ابتدائی صفحات کے کچھ اقتباسات مُلاحظہ فرمائیں -*
"جناب برقی اعظمی کی خوش فکری اور خوش کلامی
میں اگر ایک طرف ان کی خاندانی ادبی روایت کا حصّہ رہا ہے تو دوسری طرف انھوں نے اپنے عہد کے عصری تقاضوں سے اکتسابِ فیض کیا ہے، اور اس لئے ان کی شاعری حدیث حسن بھی ہے اور حکایتِ روزگار بھی "
( ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد لکھنؤ انڈیا )
" روحِ سُخن " اُردو غزلیہ شاعری میں ایک بیش بہا اضافہ ہے - یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ برقی صاحب کی شاعری غزل میں نئے تجربوں کی طرف اچھّی پیش قدمی ہے "
( سرور عالم راز سرور ) امریکہ
" آپ ہیئت اور موضوع دونوں اعتبار سے روایت کا دامن تھامے دکھائی دیتے ہیں، مجاز سے حقیقت کی جہت میں سفر اُردو شاعری کی پہچان رہی ہے ،اسی لئے شاعر کا ذہن بھی اسی حقیقت کو موضوعِ اظہار بناتا ہے "
( مظفر احمد مظفر ) انگلینڈ
" آج وہ شاید واحد شاعر ہیں جو انٹرنیٹ اور سوشل سائنس کی مدد سے دُنیا کے مُختلف حصّوں میں معروف و مقبول ہیں "
( عبدالحئی: اسٹنٹ ایڈیٹر، اُردو دُنیا نئی دہلی )
" جناب برقی اعظمی نئے عہد کے شاعر ہیں اور پوری تعلیم بھی یو نیورسٹیوں اور کالجوں میں ہُوئی ہے- لیکن ان کی علمی و ادبی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر اپنی تہذیب و روایت سے دامن کش نہیں ہوتے "
( ڈاکٹر تابش مہدی ) انڈیا
ڈاکٹر احمد علی برقی صاحب کا بہترین مجموعۂ کلام " روحِ سُخن " اپنی آب و تاب کے ساتھ منظرِ عام پر آگیا ہے جو قابلِ دید بھی ہے اور قابلِ داد بھی "
( سیّد ضیاء خیرآبادی ) امریکہ
" ڈاکٹر احمد علی برقی کا تخلیقی سفر خلوص اور مُحبّت کے گیت گاتا ہُوا نفرت کی دیواروں کو توڑتا ہوا ، ملکوں کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا ، انسانیت اور تہذیب کے وقار کو بڑھاتا ہوا ، امن اور شانتی کا درس دیتا ہوا ، حق کا پرچم اُٹھائے دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے "
( ڈاکٹر سیّدہ عمرانہ نشتر خیر آبادی) امریکہ
یہ تو خیر کچھ مضامین کے مختصر اقتباسات ہیں اس طرح کے تحسینی کلمات میں ان کی شاعری کے کئی ایک پہلو دیگر مضامین کی تحریروں میں جگہ جگہ روشن ہیں - اب برقی اعظمی کی غزلیہ شاعری سے کچھ اشعار مُلاحظہ فرمائیں -*
نہ دیتے گر ہمیں اقبال درسِ فکروعمل
تو ہوتا حال زبوں اپنا اور عبرت ناک
رفتہ رفتہ ہوں گے یہ حالات تیرے سازگار
یہ خزاں اک دن بہارِ جاوداں ہو جائے گی
میرا سرمایا ہے دیرینہ رفاقت ان کی
اُسے غیروں پہ لُٹاؤں تو لُٹاؤں کیسے
حالات مساعد نہیں رہتے ہیں ہمیشہ
ہموار نہیں راہ تو ہموار کےء جا
آپ کے ساتھ اگر کوئی کرے حُسنِ سلوک
آپ بھی حُسنِ عمل اس سے نبھانے لگ جائیں
لوحِ دل پر مُرتسم ہیں یہ جو یادوں کے نقوش
سوچتا ہوں کیا لکھوں ، کیسے لکھوں اور کیوں لکھوں
برقی کی غزلیہ شاعری میں جس شعری روئیے اور مواد کے
اشعار ہیں ان کی نمائندگی مندرجہ بالا اشعار کرتے ہیں -مطلب یہ کہ مُحبّت کے ہمہ پہلوؤں کو پیش کرنے والے اشعار بھی اس کتاب میں مل جائیں گے اور اخلاقیات اور انسانیت کے اعلٰی اقدار کی باتیں بھی سامنے آجاتی ہیں اور ہمّت اور حوصلہ دلاکر زندگی کے اندھیروں سے نمٹنے کی ترغیب دینے والے اشعار بھی " روحِ سُخن " کا حصّہ ہیں - غرض برقی کی غزلیہ شاعری زندگی کے خمیر سے اُٹھی ہے جو اپنے عہد کے ضمیر کی آواز ہے یہ بات ان کی غزلیہ شاعری کے ہر شعر پر صد فی صد صادق نہیں آتی لیکن بیشتر اشعار میں اس کی جھلک اور جلوے نظر آتے ہیں -*
برقی برق رفتاری سے شعر گوئی کے عادی ہیں - ایسے شاعر سے یک رُخی ، یک رنگی شاعری کی اُمّید رکھنا فضول ہے کیونکہ برقی کی شعری سوچ زمانے کے حالات کی بدلتی ہوئی تصویریں اخذ کرنے میں لگی رہتی ہیں اور پھر ذات کا اندرونی و بیرونی درد ، کرب ، المیہ اور نشاطی لمحاتی کیفیات کو بھی چھونا چاہتی ہے تو ایسے میں جو سوچ کے نتائج سامنے آتے ہیں وہ برقی کی شاعری میں پناہ لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ برقی کے ہاں زندگی کی ہمہ رنگی ہے - جذبوں کی سبک روانی ہے - خیالات کی ضوفشانی ہے -*
برقی اور ان کی شاعری سے میں عرصے سے متعارف ہوں -گاہے گاہے انٹرنیٹ فیس بُک اور صفحۂ قرطاس پر ان کے کلام کو پڑھنے کا موقع ملتا رہتا ہے - ان کے کلام میں مجھے جو بے ساختگی نظر آتی ہے وہ انھیں سچّا شاعر ثابت کرتی ہے - گو کہ ان کے اس مجموعے میں زیادہ تر غزلیں طرحی ہیں اور طرحی غزلوں میں اگر شاعر اپنے سُخن کی روح نہ قائم کر سکے تو طرحی غزل بے رنگ اور بے روح ہو جاتی ہے اس بات کا شعور برقی کو ہے - مصرعہ چاہے اساتـذہ کا ہو یا کسی نئے پرانے شاعر کا وہ اپنا رنگ اپنا تیور اور اپنی زبان ضرور رکھتا ہے اور اس پر کوئی شعر کہتا ہےتو طرحی مصرعہ کے اوصاف در آتے ہیں لیکن برقی ان شاعروں میں سے ہیں جو طرح پر بھی غزل کہیں گے تو اپنے ہی لہجے اور اپنے ہی رنگ میں اور یہ کام مشّاق شاعر ہی کر سکتا ہے - طرح پر کہی ہوئی غزلوں میں ان کا گرہ لگانے کا ہُنر دیکھئے اور داد دیجےء -*
سُناؤں کیسے میں حالِ زبوں زمانے کو
" رہا نہ لب پہ کوئی ماجرا سُنانے کو "
یہ بچّے آجکل بالغ نظر ہیں وقت سے پہلے
" تو مِٹّی کے کھلونوں سے انہیں بہلائےگا کیسے "
شامت اعمال میری مجھکو لے آئی وہاں
" ہائے کیسی اس بھری محفل میں رسوائی ہوئی "
مجھ سے دانستہ ہوئی کوئی خطا یاد نہیں
" جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں "
دیوانہ وار بڑھتے ہیں اس کی طرف قدم
" لے جا رہا ہے شوق چلا جا رہا ہوں میں "
جن میں کوئی بھی نہیں ہے آدمیت کا نشاں
" جانے کس بُنیاد پر انسان کہلاتے ہیں لوگ "
طرحی مصرعوں پر مصرعہ لگانے یا مصرعہ پہنچانے کی یہ مثالیں برقی اعظمی کے مشّاق ہونے کی دلیلیں پیش کرتی ہیں کہ برقی نے گویا طرحی مصرعے کو اپنا لیا ہے - یہ بھی فنکاری ہے - برقی اس فن میں بھی ماہر نظر آتے ہیں کہ ہر طرحی غزل کو برقی نے اپنا لہجہ دیا ہے اپنی بات کہی ہے -*
" روحِ سُخن " میں درجنوں غزلیں مُختلف بحور میں ہیں - ان کے مخصوص مزاج کی کوئی بحر گرفت میں نہیں آتی، برقی شعر کی خیال بندی ، فضا بندی کے لحاظ سے بحر کا انتخاب کرتے ہیں اور شعر کہتے ہیں - اس کتاب میں غزلیہ شاعری اپنے قاری کو مُطمئین کرنے کے اوصاف رکھتی ہے - غزل کے علاوہ اس کتاب میں " یادِ رفتگاں " کے عنوان سے مرحوم معتبر و مشہور شعراء کے فن پر غزل کے فارم میں نظمیں شایع کی گئی ہیں بہت ہی احترام ، عقیدت اور مُحبّت سے کہی گئی یہ نظمیں متعلقہ شعراء کے رُتبے اور فن کی پُختگی کو اُجاگر کرتی ہیں - برقی اعظمی نے اپنی پسند اور ترجیحات کے مطابق علامہ اقبال ، اصغر گونڈوی ، فراق گورکھپوری، الطاف حُسین حالی ، ابنِ انشاء ، جگر مراد آبادی، ابنِ صفی ، جوش ملیح آبادی، کیفی اعظمی ، اسرار الحق مجاز، مجروح سلطانپوری، ناصر کاظمی ، نظیر اکبر آبادی ، پروین شاکر ، شاد عظیم آبادی ، شکیل بدایونی، شبلی نعمانی کے فنی کمالات پر شعری زبان میں داد و تحسین سے نوازا ہے - یہ برقی کی کشادہ دلی ہے، فن شناسی اور بزرگوں کی قدردانی کا ثبوت ہے -*
" روحِ سُخن " ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے کلام کا خوبصورت گلدستہ ہے - اس کی ادبی حلقوں میں پذیرائی ہوگی - اس یقین کے ساتھ میں اپنی بات برقی کے ہی ایک شعر پر ختم کرتا ہوں -*
ہے رودادِ دل یہ غزل کے بہانے
کوئی اس حقیقت کو مانے نہ مانے
Aslam chishti flat no 404, shaan riviera aprt 45/2 riviera society wanowrie near jambhulkar garden pune maharashtra 411040
09326232141 / 09422006327


شعری مجموعہ " روحِ سُخن " شاعر: ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ( اجمالی جائزہ )اسلم چشتی ( پونے )




شعری مجموعہ " روحِ سُخن " شاعر: ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ( اجمالی جائزہ )                                             
اسلم چشتی ( پونے )

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی اعظم گڈھ ( یو پی ) کے ایک علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں - ان کے والدِ محترم رحمت الہٰی برق اعظمی اعلٰی تعلیم یافتہ سرکاری ملازم تھے - ادبی دنیا میں نام تھا دبستانِ داغ دہلوی سے تعلق نوح ناروی کے توسط سے رہا ہے - قابل باپ برق اعظمی کے لائق سپوت برقی اعظمی نے بھی میدانِ ادب میں خوب نام کمایا - بزرگوں کی ہدایتوں پر چلنا ان کے کام آیا تبھی تو انھیں روحِ سُخن کو چھونے کا شعور آیا - برقی اعظمی مسلسل مشقِ سُخن کے عادی ہیں -مشق نے انھیں اپنے سُخن میں کمال عطا کردیا عرصۂ دراز سے شاعری کر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی مجموعۂ کلام شایع نہیں ہُوا تھا، تخلیق کار پبلیکیشن دہلی نے " روحِ سُخن " کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شایع کیا ہے - کتاب کی پشت پر پبلیکیشن کے روحِ رواں انیس امروہوی کی رائے چھپی ہے -اسکا ایک اقتباس مُلاحظہ فرمائیں -*
" برقی اعظمی کو ۱۵ برس کی عمر سے شعر گوئی کا ذوق و شوق رہا ہے - ان کی خاص دلچسپی جدید سائنس میں انٹرنیٹ اور خاص طور پر اُردو کی ویب سائٹس سے جنون کی حد تک ہے - اُردو اور فارسی میں یکساں مہارت کے ساتھ غزل کہتے ہیں - فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں بھی آپ کو ملکہ حاصل ہے - " روحِ سُخن " احمد علی برقی اعظمی کا پہلا شعری مجموعہ ہے "-*
" روحِ سُخن " 464 صفحات کی ضخیم کتاب ہے - اس میں ۱۱۱ صفحات پر مُشاہرِ ادب کے برقی اعظمی کے فکروفن اور شخصیت پر مضامین شامل ہیں - سبھی نے برقی کی جائز تعریف سلیقگی سے کی ہے - ابتدائی صفحات کے کچھ اقتباسات مُلاحظہ فرمائیں -*
"جناب برقی اعظمی کی خوش فکری اور خوش کلامی
میں اگر ایک طرف ان کی خاندانی ادبی روایت کا حصّہ رہا ہے تو دوسری طرف انھوں نے اپنے عہد کے عصری تقاضوں سے اکتسابِ فیض کیا ہے، اور اس لئے ان کی شاعری حدیث حسن بھی ہے اور حکایتِ روزگار بھی "
( ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد لکھنؤ انڈیا )
" روحِ سُخن " اُردو غزلیہ شاعری میں ایک بیش بہا اضافہ ہے - یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ برقی صاحب کی شاعری غزل میں نئے تجربوں کی طرف اچھّی پیش قدمی ہے "
( سرور عالم راز سرور ) امریکہ
" آپ ہیئت اور موضوع دونوں اعتبار سے روایت کا دامن تھامے دکھائی دیتے ہیں، مجاز سے حقیقت کی جہت میں سفر اُردو شاعری کی پہچان رہی ہے ،اسی لئے شاعر کا ذہن بھی اسی حقیقت کو موضوعِ اظہار بناتا ہے "
( مظفر احمد مظفر ) انگلینڈ
" آج وہ شاید واحد شاعر ہیں جو انٹرنیٹ اور سوشل سائنس کی مدد سے دُنیا کے مُختلف حصّوں میں معروف و مقبول ہیں "
( عبدالحئی: اسٹنٹ ایڈیٹر، اُردو دُنیا نئی دہلی )
" جناب برقی اعظمی نئے عہد کے شاعر ہیں اور پوری تعلیم بھی یو نیورسٹیوں اور کالجوں میں ہُوئی ہے- لیکن ان کی علمی و ادبی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر اپنی تہذیب و روایت سے دامن کش نہیں ہوتے "
( ڈاکٹر تابش مہدی ) انڈیا
ڈاکٹر احمد علی برقی صاحب کا بہترین مجموعۂ کلام " روحِ سُخن " اپنی آب و تاب کے ساتھ منظرِ عام پر آگیا ہے جو قابلِ دید بھی ہے اور قابلِ داد بھی "
( سیّد ضیاء خیرآبادی ) امریکہ
" ڈاکٹر احمد علی برقی کا تخلیقی سفر خلوص اور مُحبّت کے گیت گاتا ہُوا نفرت کی دیواروں کو توڑتا ہوا ، ملکوں کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا ، انسانیت اور تہذیب کے وقار کو بڑھاتا ہوا ، امن اور شانتی کا درس دیتا ہوا ، حق کا پرچم اُٹھائے دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے "
( ڈاکٹر سیّدہ عمرانہ نشتر خیر آبادی) امریکہ
یہ تو خیر کچھ مضامین کے مختصر اقتباسات ہیں اس طرح کے تحسینی کلمات میں ان کی شاعری کے کئی ایک پہلو دیگر مضامین کی تحریروں میں جگہ جگہ روشن ہیں - اب برقی اعظمی کی غزلیہ شاعری سے کچھ اشعار مُلاحظہ فرمائیں -*
نہ دیتے گر ہمیں اقبال درسِ فکروعمل
تو ہوتا حال زبوں اپنا اور عبرت ناک
رفتہ رفتہ ہوں گے یہ حالات تیرے سازگار
یہ خزاں اک دن بہارِ جاوداں ہو جائے گی
میرا سرمایا ہے دیرینہ رفاقت ان کی
اُسے غیروں پہ لُٹاؤں تو لُٹاؤں کیسے
حالات مساعد نہیں رہتے ہیں ہمیشہ
ہموار نہیں راہ تو ہموار کےء جا
آپ کے ساتھ اگر کوئی کرے حُسنِ سلوک
آپ بھی حُسنِ عمل اس سے نبھانے لگ جائیں
لوحِ دل پر مُرتسم ہیں یہ جو یادوں کے نقوش
سوچتا ہوں کیا لکھوں ، کیسے لکھوں اور کیوں لکھوں
برقی کی غزلیہ شاعری میں جس شعری روئیے اور مواد کے
اشعار ہیں ان کی نمائندگی مندرجہ بالا اشعار کرتے ہیں -مطلب یہ کہ مُحبّت کے ہمہ پہلوؤں کو پیش کرنے والے اشعار بھی اس کتاب میں مل جائیں گے اور اخلاقیات اور انسانیت کے اعلٰی اقدار کی باتیں بھی سامنے آجاتی ہیں اور ہمّت اور حوصلہ دلاکر زندگی کے اندھیروں سے نمٹنے کی ترغیب دینے والے اشعار بھی " روحِ سُخن " کا حصّہ ہیں - غرض برقی کی غزلیہ شاعری زندگی کے خمیر سے اُٹھی ہے جو اپنے عہد کے ضمیر کی آواز ہے یہ بات ان کی غزلیہ شاعری کے ہر شعر پر صد فی صد صادق نہیں آتی لیکن بیشتر اشعار میں اس کی جھلک اور جلوے نظر آتے ہیں -*
برقی برق رفتاری سے شعر گوئی کے عادی ہیں - ایسے شاعر سے یک رُخی ، یک رنگی شاعری کی اُمّید رکھنا فضول ہے کیونکہ برقی کی شعری سوچ زمانے کے حالات کی بدلتی ہوئی تصویریں اخذ کرنے میں لگی رہتی ہیں اور پھر ذات کا اندرونی و بیرونی درد ، کرب ، المیہ اور نشاطی لمحاتی کیفیات کو بھی چھونا چاہتی ہے تو ایسے میں جو سوچ کے نتائج سامنے آتے ہیں وہ برقی کی شاعری میں پناہ لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ برقی کے ہاں زندگی کی ہمہ رنگی ہے - جذبوں کی سبک روانی ہے - خیالات کی ضوفشانی ہے -*
برقی اور ان کی شاعری سے میں عرصے سے متعارف ہوں -گاہے گاہے انٹرنیٹ فیس بُک اور صفحۂ قرطاس پر ان کے کلام کو پڑھنے کا موقع ملتا رہتا ہے - ان کے کلام میں مجھے جو بے ساختگی نظر آتی ہے وہ انھیں سچّا شاعر ثابت کرتی ہے - گو کہ ان کے اس مجموعے میں زیادہ تر غزلیں طرحی ہیں اور طرحی غزلوں میں اگر شاعر اپنے سُخن کی روح نہ قائم کر سکے تو طرحی غزل بے رنگ اور بے روح ہو جاتی ہے اس بات کا شعور برقی کو ہے - مصرعہ چاہے اساتـذہ کا ہو یا کسی نئے پرانے شاعر کا وہ اپنا رنگ اپنا تیور اور اپنی زبان ضرور رکھتا ہے اور اس پر کوئی شعر کہتا ہےتو طرحی مصرعہ کے اوصاف در آتے ہیں لیکن برقی ان شاعروں میں سے ہیں جو طرح پر بھی غزل کہیں گے تو اپنے ہی لہجے اور اپنے ہی رنگ میں اور یہ کام مشّاق شاعر ہی کر سکتا ہے - طرح پر کہی ہوئی غزلوں میں ان کا گرہ لگانے کا ہُنر دیکھئے اور داد دیجےء -*
سُناؤں کیسے میں حالِ زبوں زمانے کو
" رہا نہ لب پہ کوئی ماجرا سُنانے کو "
یہ بچّے آجکل بالغ نظر ہیں وقت سے پہلے
" تو مِٹّی کے کھلونوں سے انہیں بہلائےگا کیسے "
شامت اعمال میری مجھکو لے آئی وہاں
" ہائے کیسی اس بھری محفل میں رسوائی ہوئی "
مجھ سے دانستہ ہوئی کوئی خطا یاد نہیں
" جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں "
دیوانہ وار بڑھتے ہیں اس کی طرف قدم
" لے جا رہا ہے شوق چلا جا رہا ہوں میں "
جن میں کوئی بھی نہیں ہے آدمیت کا نشاں
" جانے کس بُنیاد پر انسان کہلاتے ہیں لوگ "
طرحی مصرعوں پر مصرعہ لگانے یا مصرعہ پہنچانے کی یہ مثالیں برقی اعظمی کے مشّاق ہونے کی دلیلیں پیش کرتی ہیں کہ برقی نے گویا طرحی مصرعے کو اپنا لیا ہے - یہ بھی فنکاری ہے - برقی اس فن میں بھی ماہر نظر آتے ہیں کہ ہر طرحی غزل کو برقی نے اپنا لہجہ دیا ہے اپنی بات کہی ہے -*
" روحِ سُخن " میں درجنوں غزلیں مُختلف بحور میں ہیں - ان کے مخصوص مزاج کی کوئی بحر گرفت میں نہیں آتی، برقی شعر کی خیال بندی ، فضا بندی کے لحاظ سے بحر کا انتخاب کرتے ہیں اور شعر کہتے ہیں - اس کتاب میں غزلیہ شاعری اپنے قاری کو مُطمئین کرنے کے اوصاف رکھتی ہے - غزل کے علاوہ اس کتاب میں " یادِ رفتگاں " کے عنوان سے مرحوم معتبر و مشہور شعراء کے فن پر غزل کے فارم میں نظمیں شایع کی گئی ہیں بہت ہی احترام ، عقیدت اور مُحبّت سے کہی گئی یہ نظمیں متعلقہ شعراء کے رُتبے اور فن کی پُختگی کو اُجاگر کرتی ہیں - برقی اعظمی نے اپنی پسند اور ترجیحات کے مطابق علامہ اقبال ، اصغر گونڈوی ، فراق گورکھپوری، الطاف حُسین حالی ، ابنِ انشاء ، جگر مراد آبادی، ابنِ صفی ، جوش ملیح آبادی، کیفی اعظمی ، اسرار الحق مجاز، مجروح سلطانپوری، ناصر کاظمی ، نظیر اکبر آبادی ، پروین شاکر ، شاد عظیم آبادی ، شکیل بدایونی، شبلی نعمانی کے فنی کمالات پر شعری زبان میں داد و تحسین سے نوازا ہے - یہ برقی کی کشادہ دلی ہے، فن شناسی اور بزرگوں کی قدردانی کا ثبوت ہے -*
" روحِ سُخن " ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے کلام کا خوبصورت گلدستہ ہے - اس کی ادبی حلقوں میں پذیرائی ہوگی - اس یقین کے ساتھ میں اپنی بات برقی کے ہی ایک شعر پر ختم کرتا ہوں -*
ہے رودادِ دل یہ غزل کے بہانے
کوئی اس حقیقت کو مانے نہ مانے
Aslam chishti flat no 404, shaan riviera aprt 45/2 riviera society wanowrie near jambhulkar garden pune maharashtra 411040
09326232141 / 09422006327
[11:51 AM, 6/8/2019] aabarqi: ب

Poetic Compliment Of Ahmad Ali Barqi Azmi To His Friend Muzaffar Ahmed Muzaffar in London Recited By Ustad Naeem Salaria Of London

اردو دنیا کے نومبر ۲۰۱۴ کے شمارے میں برقی اعظمی کے شعری مجموعے روح سخن پر تبصرہ بقلم شاکر علی صدیقی، بشکریہ ماہنامہ اردو دنیا






Courtesy : Love Islam Channel Kalam: Ahmad Ali Barqi Azmi Recited By: Azharuddin jalali New Ramadan Kalam 2019-Zikar hai kono makan me Aamade ramadan ka





Courtesy : Love Islam Channel

Kalam: Ahmad Ali Barqi Azmi
Recited By: Azharuddin jalali
New Ramadan Kalam 2019-Zikar hai kono makan me Aamade Ramadan ka

ہرصاحب ایماں کو ہو رمضان مبارک : ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے زیرِ اہتمام ۸۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی





ہفت روزہ فیس بُک ٹائمز کے زیرِ اہتمام ۸۶ ویں عالمی آنلاین  فی البدیہہ طرحی مشاعرےکے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
ہرصاحب ایماں کو ہو رمضان مبارک
تسبیح و تراویح کا فیضان مبارک
رمضان جو اسلام کی ہے شان مبارک
جو جملہ عبادات کی ہے جان مبارک
اللہ کا بندوں پہ یہ احسان مبارک
تسکینِ دل و روح کا سامان مبارک
روحانی غذا سب کو جو کرتا ہے فراہم
ہر سال میں اک ماہ کا مہمان مبارک
اس ماہِ مبارک کو یہ حاصل  ہے فضیلت
نازل ہوا جو اس میں وہ قرآن مبارک
مسجد میں ہیں محمود و ایاز ایک ہی صف میں
یہ عدل و مساوات کی میزان مبارک
قرآن مجسم ہے جو حفاظ کا سینہ
اس سینے کوگجینۂ عرفان مبارک
ہرشخص کو رمضان کی برکات ہوں حاصل
برقی کو بھی ہو اس کا یہ فیضان مبارک



Dr. Ahmad Ali BarqiAzmi Reciting A Topical urdu poem On Delhi In India International Centre New Delhi India

Ahmad Ali Barqi Azmi Azmi Recites His Ghazals In Bazm e Adab Sarai Of Ja...

Barqi Azmi Recites A Ghazal From Poetry Collection Of Diya GemIn A Literary Meet In New Delhi

Ahmad Ali Barqi Azmi || All India Mushairah New Delhi || Gh Nabi Kumar غ...








 جناب عبد المجید
خان کے شعری مجموعے دستِ ہُنر کی رونمائی پر منظوم تاثرات اور غزل سرائی
احمد علی برقی
اعظمی
شعری مجموعہ ہے
جو دستِ ہنر
اس میں حسنِ فکر
وفن ہے جلوہ گر
اس کے گلہائے
سخن ہیں دلپذیر
نخلِ دانش کا ہے
یہ دلکش ثمر
اس میں عصری
آگہی کی ہے جھلک
ہے نمایاں ندرتِ
فکرو نظر
مطلعِ انوار ہے
یہ پیشکش
روح پرور ہو یہ
تخلیقی سفر
دلنشیں ہے کاوشِ
عبد المجید
ہو یہ برقی
مرجعِ اہلِ نظر

کلام شاعر بہ زبان شاعر : احمد علی برقی اعظمی Kalam E Shair Bazaban E Shair : Ahmad Ali Barqi Azmi

استادان و صاحبنظران از خدمات ارزنده 'نول کشور' به زبان فارسی تقدیرکردند احمد علی برقی اعظمی' شاعر فارسی و اردو سرای هندی از بخش فارسی رادیو دهلی یکی از سروده هایش را در باره منشی نول کشور برای حضار قرائت کرد.






در همایش بین المللی در دانشگاه دهلی
استادان و صاحبنظران از خدمات ارزنده 'نول کشور' به زبان فارسی تقدیرکردند
دهلی نو-ایرنا- شماری از استادان و علاقه مندان زبان فارسی شرکت کننده در همایش بین المللی 'نول کشور و انتشارات در هند استعماری' ، از خدمات ارزشمند' نول کشور' به زبان و ادبیات فارسی تقدیر کردند.
استادان و صاحبنظران از خدمات ارزنده 'نول کشور' به زبان فارسی تقدیرکردند
به گزارش ایرنا، این افراد، جمع آوری نسخه های خطی زبان فارسی دردوره جایگزینی زبان انگلیسی به جای فارسی در هند را بسیار با اهمیت دانستند و اظهار کردند حفظ و چاپ بسیاری از کتاب های فارسی در هند مدیون زحمات وی است.
این افراد از محققان و دانشجویان زبان فارسی خواستند که اهتمام لازم را برای تصحیح و چاپ دوباره این آثار داشته باشند.
سفیر تاجیکستان در هند روز پنجشنبه دراین همایش خدمات 'منشی نول کشور' به زبان فارسی را فراتر از هند و آسیای میانه دانست و تصریح کرد این خدمات ارزشمند دارای تاثیرات جهانی است.
'میرزا شریف جلال اف ' اظهار کرد برگزاری همایش و ارج نهادن به تلاش های وی برای جمع آوری آثار مکتوب فارسی در ان دوره خاص تاریخی از اهمیت زیادی برخوردار است.
وی تصریح کرد کتاب هایی که با زحمت و امانت داری توسط 'نول کشور' جمع آوری و چاپ شده راه مناسبی برای شناخت آن دوره تاریخی است.
'علی دهگایی' رایزن فرهنگی جمهوری اسلامی ایران در دهلی نو نیز دراین همایش گفت تلاش های 'منشی نول کشور' از آن نظر که در زمان جایگزینی زبان انگلیسی به جای فارسی در هند صورت گرفته از اهمیت دوچندانی برخوردار است.
وی خاطرنشان کرد زبان فارسی به مدت 700 سال در هند به عنوان زبان دیوانی و رسمی این کشور بوده است.
رایزن فرهنگی جمهوری اسلامی در دهلی نو گفت که نول کشور برای حفظ میراث ادبی و علمی ایران اهمیت ویژه ای داشت.
وی، هند را مهد نشر آثار مکتوب فارسی خواند و گفت چاپ بسیاری از نخستین روزنامه های فارسی در هند چاپ شد.
'مجید غلامی جلیسه' مدیر خانه کتاب ایران نیز جمع آوری حجم زیادی از آثار نخبگان درشعر ، تذکره ها ،فرهنگ ها توسط 'نول کشور' در حالیکه از برخی از این کتاب ها تنها یک نسخه باقی مانده بود را کاری بسیار ارزشمند دانست .
وی افزود: بزرگداشت این گونه افراد تاثیر گذار و بزرگ برای همه علاقه مندان به زبان فارسی یک تکلیف است.
مدیر خانه کتاب ایران از دانشجویان و محققان خواست برای تصحیح و نشر این اثار اهتمام لازم را داشته باشند.
پروفسور 'عارف مزقول' استاد فارسی از دانشگاه اردن نیز اهتمام منشی در نجات نسخه های خطی نادر را ارزنده دانست و گفت این اقدام باعث شده که این اثار ارزشمند به دست ما برسد.
دکتر 'ای کی سرکار' استاد زبان فارسی دانشگاه داکا بنگلادش، منشی نول کشور را از پیشگامان چاپ قرآن در عصر خود دانست و گفت با وجود تعداد زیاد کشورهای اسلامی وی دراین زمینه جزء افراد سرآمد بود.
پروفسور چندرا شکر رییس سابق گروه فارسی دانشگاه دهلی نیز 'منشی نول کشور' را فردی بسیار با ایمان دانست و گفت وی به هنگام چاپ قرآن نهایت احترام را به این کتاب بزرگ داشت.
پروفسور شریف حسین قاسمی رییس اسبق گروه فارسی دانشگاه دهلی درسخنانی به برخی از خدمات ارزنده نول کشور اشاره کرد و افزود:اگر خدمات ارزنده منشی نول کشور نبود بسیاری از کتاب ها به زبان فارسی در هند از بین می رفت .
وی افزود:حفظ علوم و بسیاری از کتاب های فارسی در هند مدیون تلاش های نول کشور است.
در مراسم افتتاحیه این همایش از تندیس 'منشی نول کشور' و تعدادی از کتاب های جدید که توسط خانه کتاب ایران در خصوص نول کشور منتشر شده ، رونمایی شد.
همچنین 'احمد علی برقی اعظمی' شاعر فارسی و اردو سرای هندی از بخش فارسی رادیو دهلی یکی از سروده هایش را در باره منشی نول کشور برای حضار قرائت کرد.
همایش بین المللی ' منشی نول کشور و انتشارات در هند استعماری ' از امروز به مدت دو روز با حضور استادان و صاحب نظران زبان فارسی از کشورهای ایران ،هند ،بنگلادش ،پاکستان،انگلستان و قزاقستان در دانشگاه دهلی آغاز شد.
این همایش با همکاری رایزنی فرهنگی جمهوری اسلامی ایران در دهلی نو ،دانشگاه دهلی ،خانه کتاب ایران ، موسسه مطالعات و بنیاد فارسی هند و شورای گسترش زبان اردو در دانشگاه دهلی در حال برگزاری است.
در مدت دو روز برگزاری این همایش بین المللی 26 مقاله توسط استادان و شرکت کنندگان ارائه می شود.
'نول کشور ' ناشر هندی درمدت 37 سال بین سالهای 1860تا 1895 بیشترین و ارزشمندترین کتاب ها به زبان فارسی را در چاپخانه نول کشور در هند منتشر کرد به گونه ای که تاکنون هیچکدام از ناشران ایرانی تاکنون از نظر تنوع و تعداد به وی نمی رسند.
کتاب‌های مثنوی معنوی، شاهنامه، جامع‌التواریخ، دیوان بیدل، دیوان صائب و کیمیای سعادت، اخلاق ناصری، آثار سنایی و جامی وآثار بسیاری از نویسندگان گمنام برای نخستین بار در این چاپخانه چاپ شده و به دست ایرانی‌ها رسیده است.
سمینار بین المللی ' منشی نول کشور و انتشارات در هند استعماری ' روز جمعه به کار خود در تالار 'ستیاکام بهاوان ' دانشکده علوم اجتماعی دهلی نو پایان می دهد.
آساق**انتشار دهنده:احمدعلی خلیل نژاد
انتهای پیام /*