NAAT E RASOOL E PAK BY Dr AHMAD ALI BARQI AZMI RECITED BY MOHOMMAD ASI...



NAAT-E-RASOOL-E-PAK BY Dr. AHMAD ALI BARQI AZMI  RECITED BY MOHOMMAD ASIF QADRI


کی خدا نے مصطفیٰ ﷺ کی وہ پذیرائی کہ بس : بشکریہ ادب و ادیب نواز ناظم شعرو سخن ڈاٹ نیٹ ،کناڈا محترم سردار علی صاحب

کی خدا نے مصطفیﷺ کی وہ پذیرائی کہ بس : بشکریہ ادب و ادیب نواز ناظم شعرو سخن ڈاٹ نیٹ ،کناڈا محترم سردار علی صاحب

Poetic Tribute of Barqi Azmi To Allama Iqbal Recited in International Gr...









Poetic Tribute of Ahmad Ali Barqi Azmi To Allama Iqbal Recited in International Group of Hindiran

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Ghazal In A Literay Meet Of Purple Pen ...

ازخود : تعارفی سلسلہ :1 شخصیت : احمد علی برقیؔ اعظمی بشکریہ : ادبی گروپ کرچیاں



ازخود : تعارفی سلسلہ :1
شخصیت : احمد علی برقیؔ اعظمی
بشکریہ : ادبی گروپ کرچیاں
کرچیاں اردو کا ہے ایسا گروپ
جس میں ہے عصری ادب کا انتخاب
ہو یہ معیاری ادب کا پاسدار
اس کے ہوں شرمندۂ تعبیر خواب
اقتضائے وقت ہیں ایسے گروپ
کرسکیں جو فکر و فن کا احتساب
ازخود : تعارفی سلسلہ :1
شخصیت : احمد علی برقیؔ اعظمی
میں احمد علی برقیؔ اعظمی
۲۵؍ دسمبر ۱۹۵۴ء کو شہر اعظم گڑھ (یو۔پی) کے محلہ باز بہادر میں پیدا ہوا۔ میں درجہ پنجم تک مدرسہ اسلامیہ باغ میر پیٹو، محلہ آصف گنج، شہر اعظم گڑھ کا طالبعلم رہا، بعد ازآں شبلی ہائر سیکینڈری اسکول سے دسویں کلاس کا امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ کلاس سے لے کر ایم۔اے اُردو تک شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ کا طالب علم رہا۔ میں نے ۱۹۶۹ء میں ہائی اسکول، ۱۹۷۱ء میں انٹرمیڈیٹ، ۱۹۷۳ء میں بی۔اے اور ۱۹۷۵ء میں ایم۔اے اُردو کی سند حاصل کی اور شبلی کالج سے ہی ۱۹۷۶ء میں بی۔ایڈ کیا۔
بعد ازآں مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے
۱۹۷۷ء میں دہلی آ کر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی میں ایم۔اے فارسی میں داخلہ لیا اور یہاں سے ۱۹۷۹ء میں ایم۔اے فارسی کی سند حاصل کی اور بعد ازآں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ہی سے پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
میرے والد کا نام رحمت الٰہی اور تخلص برقؔ اعظمی تھا جو نائب رجسٹرار قانون گو کے عہدے پر فائز تھے۔میرے والد ایک صاحب طرز اور قادر الکلام استاد سخن تھے جنہیں جانشینِ داغؔ حضرت نوحؔ ناروی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ میرے بچپن کا بیشتر حصہ والد محترم کے سایۂ عاطفت میں گزرا۔ مجھے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بیشتر وقت والد صاحب کے فیضِ صحبت میں گزرتا تھا جس سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا اور آج میں جو کچھ ہوں انہیں کا علمی،قلمی اور روحانی تصرف ہے۔ میرا اصلی نام احمد علی اور تخلص والد کے تخلص برقؔ کی مناسبت سے برقیؔ اعظمی ہے۔ والد صاحب کے فیضِ صحبت کی وجہ سے شعری اور ادبی ذوق کی نشوو نما بچپن میں ہو گئی تھی جو بفضلِ خدا اب تک جاری و ساری ہے۔ والد صاحب کے ساتھ مقامی طرحی نشستوں میں با قاعدگی سے شریک ہوتا رہتا تھا۔ اس وجہ سے تقریباً
۱۵؍سال کی عمر سے طبع آزمائی کرنے لگا۔ ادبی ذوق کا نقطۂ آغاز والدِ محترم کا فیضِ صحبت رہا اور میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا انھیں کا فیضانِ نظر اور روحانی تصرف ہے۔ اصنافِ ادب میں غزل میری محبوب ترین صنفِ سخن ہے۔ غزل سے قطع نظر مجھے موضوعاتی نظمیں لکھنے کا ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۹ء تک کافی شوق رہا اور میں نے اس عرصہ میں ماحولیات، سائنس، اور مختلف عالمی دنوں کی مناسبت سے بہت کچھ لکھا جو ۶؍سال تک مسلسل ہر ماہ ایک مقامی میگزین ماہنامہ ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوتا رہا اور اتنی نظمیں لکھ ڈالیں کی ایک مستقل شعری مجموعہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ’’یادِ رفتگاں ‘‘ سے خاصی دلچسپی ہے چنانچہ میں بیشتر شعرا، ادیبوں اور فنکاروں کے یومِ وفات اور یوم تولد کی مناسبت سے اکثر و بیشتر لکھتا رہتا ہوں۔ اس سلسلے میں نے حضرت امیر خسروؔ، ولیؔ دکنی، میرؔ، غالبؔ، حالیؔ، شبلیؔ، سر سیّد، احمد فرازؔ، فیضؔ، پروینؔ شاکر، ناصر کاظمیؔ، مظفرؔ وارثی، شہریارؔ، بابائے اُردو مولوی عبدالحق، ابن انشا، جگرؔ، شکیلؔ بدایونی، مجروحؔ سلطانپوری، مہدی حسن، صادقین، مقبول فدا حسین وغیرہ پر بہت سی موضوعاتی نظمیں لکھی ہیں جن کا بھی ایک مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ میں عملی طور سے میڈیا سے وابستہ ہوں اور ۱۹۸۳ء سے آل انڈیا ریڈیو کے شعبۂ فارسی سے وابستہ تھا اور بحیثیت انچارج شعبۂ فارسی ۳۳ سال کی خدمات کے بعد ۳۱ دسمبر ۲۰۱۴ کوملازمت سے سبکدوش ہوگیا اور فی الحال عارضی طور پر اسی شعبے سے وابستہ ہو۔
فیضؔ، ساحرؔ، مجروحؔ، جگر، حسرتؔ، فانیؔ، پروین شاکر، اور ناصر کاظمیؔ وغیرہ میرے پسندیدہ شعرا ہیں۔ ادیبوں میں سرسید احمد خاں اور شبلی نعمانی سے بیحد لگاؤ ہے۔ میں اُردو ویب سائٹس اور فیس بک پر بہت فعال ہوں اور فیس بک پر میری
۴۰۰۰ سے زائد غزلیں او ر نظمیں البم کی شکل میں موجود ہیں۔
موجودہ دور میں ادب اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور اس کی توسیع اور ترویج کے امکانات روشن ہیں۔معاصرانہ چشمک اور گروہ بندی فروغ زبان و ادب کی راہ میں سدِّ راہ ہیں۔ سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر اگر ادبی تخلیق کی جائے اور اس میں خلوص بھی کارفرما ہو تو فروغِ ادب کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔میں اپنی خوئے بے نیازی کی وجہ سے گوشہ نشین رہ کر اپنے ادبی اور شعری ذوق کی تسکین کے لئے انٹرنیٹ اور دیگر وسائلِ ترسیل و ابلاغ کے وسیلے سے سرگرمِ عمل ہوں۔ میں اُردو کی بیشتر ویب سائٹس اور اور فیس بُک کے بیشمار فورمز سے وابستہ ہوں۔مجھے خوشامدپسندی اور زمانہ سازی نہیں آتی اس لئے مقامی سطح پر غیر معروف ہوں۔
ہوتا زمانہ ساز تو سب جانتے مجھے..
کیا خوئے بے نیازی ہے دیوانہ پن مرا..
ویب سائٹوں پہ لوگ ہیں خوش فہمی کے شکار..
نا آشنائے حال ہیں ہمسائے بھی مرے..
عرضِ حال
ہوتے ہیں اُن کے نام پہ برپا مشاعرے..
معیار شعر اُن کی بَلا سے گِرے گِرے..
جن کا رسوخ ہے انہیں پہچانتے ہیں سب..
ہم دیکھتے ہی رہ گئے باہرکھڑے کھڑے..
جو ہیں زمانہ ساز وہ ہیں آج کامیاب..
اہلِ کمال گوشۂ عزلت میں ہیں پڑے..
زندہ تھے جب تو ان کو کوئی پوچھتا نہ تھا..
ہر دور میں ملیں گے بہت ایسے سر پھرے..
برقیؔ ستم ظریفیِ حالات دیکھئے..
اب ان کے نام پر ہیں ادارے بڑے بڑے..
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، غزل میری محبوب صنف سخن ہے۔ میرے اسلوبِ سخن پر غیر شعوری طور سے غزلِ مسلسل کا رنگ حاوی ہے۔ گویا میری بیشتر غزلوں میں جیسا کہ بعض احباب نے اس کی طرف اشارہ کیا، غزل کے قالب میں نظم یا مثنوی کا گمان ہوتا ہے جو بعض احباب کی نظر میں محبوب اور بعض لوگوں کے خیال میں معیوب ہے۔ میرا شعورِ فکر و فن میرے ضمیر کی آواز ہے۔ میری غزلیں داخلی تجربات و مشاہدات کا وسیلۂ اظہار ہونے کے ساتھ ساتھ بقول جناب ملک زادہ منظور احمد صاحب ’’حدیثِ حسن بھی ہیں اور حکایتِ روزگار بھی‘‘۔ میں جس ماحول کا پروردہ ہوں میری شاعری اس کے نشیب و فراز اور ناہمواریوں اور اخلاقی اقدار کے زوال کی عکاس ہے۔ میں جو کچھ اپنے اِرد گِرد دیکھتا یا محسوس کرتا ہوں اسے موضوعِ سخن بنانا اپنا اخلاقی اور سماجی فریضہ سمجھتا ہوں جس کے نتیجے میں میری بیشتر شعری تخلیقات اجتماعی شعور کی بازگشت کی آئینہ دار ہیں۔ میں کلاسیکی روایات کا پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ جدید عصری میلانات و رجحانات کو بھی موضوع سخن بنانے سے گریز نہیں کرتا۔ حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں بیدار مغز سخنور اور قلمکارجس ذہنی کرب کا احساس کرتے ہیں ان کی تخلیقات میں شعوری یا غیر شعوری طور سے اس کا اظہار ایک فطری اور ناگزیر امر ہے۔
چنانچہ…...
ہیں مرے اشعار عصری کرب کے آئینہ دار..
قلبِ مضطر ہے مرا سوزِ دروں سے بیقرار..
آپ پر ہوں گے اثر انداز جو بے اختیار..
میری غزلوں میں ملیں گے شعر ایسے بے شمار..
صفحۂ قرطاس پر کرتا ہوں اس کو منتقل..
داستانِ زندگی ہے میری برقیؔ دلفگار..
احمد علی برقیؔ اعظمی کے کلام سے کچھ اشعار اور دو چند غزلیں بطورِ انتخاب.....
ہے یہ میری شامتِ اعمال یا کچھ اور ہے..
میں سمجھتا تھا جسے آرامِ جاں خاموش ہے.
نیند آنکھوں سے شبِ ہجر اڑانے والا..
خواب گر، خواب نما، خواب کی تعبیر بھی تھا..
🍂
جان میں جان ہے جب تک رہیں سر گرمِ عمل..
وہ گراتا ہے اگر آپ بنانے لگ جائیں..

جاری رہے نہ جانے یہ سیلِ اشک کب تک..
یہ دل سمندروں کی گہرائی چاہتا ہے..
حساس ہے جو برقی انسان اس صدی کا..
دنیا کے شور و غل سے تنہائی چاہتا ہے..

غارتگرِ سکوں ہے یہ اُس دلربا کی نیند..
ٹوٹے گی جانے کب مرے درد آشنا کی نیند..
آنکھیں ہیں فرشِ راہ مری کب وہ آئے گا..
کتنا مجھے جگائے گی اُس بے وفا کی نیند..
اُس کا پیام دے کے وہ جو چاہے سو کرے..
ٹوٹی نہیں ہے کیا ابھی بادِ صبا کی نیند..
کیساہے خوابِ ناز کہ آنکھیں ہیں نیم باز..
ہے دلنواز اس کی یہ ناز و ادا کی نیند..
اوراق منتشر ہیں کتابِ جمال کے..
صبر آزما ہے کتنی یہ اُس بے ردا کی نیند..
جاگے تو جا کے اس سے کروں عرضِ مدعا
آنکھوں میں اس کی رہتی ہے برقیؔ بَلا کی نیند

تیرِ نظر کے اتنے نشانے لگے مجھے..
جو زخم تھے نئے وہ پرانے لگے مجھے..
پہلے ہی خون تھا آتشِ سیال جسم میں..
’’پھر یوں ہوا چراغ جلانے لگے مجھے‘‘..
اپنا سمجھ رہا تھا جنہیں میں تمام عمر..
وہ اپنے اپنے رنگ دکھانے لگے مجھے..
تھا سادہ لوح آ گیا اُن کے فریب میں..
پھر کیا تھا سبز باغ دکھانے لگے مجھے..
بہترتھا چھوڑ دیتے مجھے میرے حال پر..
احسان کرکے مجھ پہ جتانے لگے مجھے..
دیدہ دلیری دیکھئے اُن کی کہ بزم میں..
میرا ہی شعر آکے سنانے لگے مجھے..
رہتے تھے سرنگوں جو سدا میرے سامنے..
برقی وہی اب آنکھ دکھانے لگے مجھے..
 
سائے بھی اپنے آج ڈرانے لگے مجھے..
پھر یوں ہوا چراغ جلانے لگے مجھے..
میں سن رہا تھا اور وہ پڑھتے تھے فردِ جُرم..
الزام جو تھے مجھ پہ بتانے لگے مجھے..
جو کہہ رہے تھے اس کا نہ سر تھا نہ کوئی پیر..
وہ جُرمِ بیگناہی گنانے لگے مجھے..
ریشہ دوانیوں میں مہارت ہے اس قدر..
اپنا ہدف ہمیشہ بنانے لگے مجھے..
وہ چاہتے تھے اُن کی مِلاؤں میں ہاں میں ہاں..
وہ اُنگلیوں پہ اپنی نچانے لگے مجھے..
شیشے مین اُن کے جب نہ مکمل اُتر سکا..
از روئے مصلحت وہ رجھانے لگے مجھے..
میں نے کہاکہ مُردہ نہیں ہے مرا ضمیر..
پھر کیا تھا وہ ٹھکانے لگانے لگے مجھے..
میزانِ عدل ناگہاں آئی مجھے نظر..
کچھ لوگ تھے وہاں جو بچانے لگے مجھے..
مہدی حسن کی ناگہاں آئی صدا مجھے..
وہ ماجرائے شوق سنانے لگے مجھے..
اردو غزل ہے آج یہ برقی کی چارہ ساز..
سب جس کے دلنواز ترانے لگے مجھے..
ازخود : تعارفی سلسلہ :1
شخصیت : احمد علی برقیؔ اعظمی
بشکریہ : ادبی گروپ کرچیاں



میرے نادیدہ دوست عزیز مظفر احمد مظفر کے نام منسوب ایوارڈ سے سرفراز ہونے والوں کو منظوم تبریک و تہنیت :احمد علی برقی اعظمی



میرے نادیدہ دوست عزیز مظفر احمد مظفر کے نام منسوب ایوارڈ سے سرفراز ہونے والوں کو منظوم تبریک و تہنیت
احمد علی برقی اعظمی
ہیں مظفر میرے اک نادیدہ یار
شخصیت ہے جن کی وجہہ افتخار
ان سے ہےمنسوب جو ادبی ایوارڈ
اس سے ان کا مرتبہ ہے آشکار
مل رہا ہے جن کو یہ اعزاز آج

ہو فزوں تر اُن کا بھی عزو و قار

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یومِ تاسیس کی مناسبت سے محبانِ جامعہ کی خدمات پر منظوم تاثرات :احمد علی برقی اعظمی





جامعہ ملیہ اسلامیہ کے یومِ تاسیس کی مناسبت سے محبانِ جامعہ کی خدمات پر منظوم تاثرات
احمد علی برقی اعظمی
جامعہ ہے وہ سپہرِ علم و فن کی کہکشاں
روشنی سے ہے منور جس کی اقصائے جہاں
جامعہ کی تھے حکیم اجمل سدا روحِ رواں

ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں جن کی عظمت کے نشاں
کام سے ناآشنا ہے اُن کے کیوں نسلِ جواں
آج ہونا چاہئے تھا جن کو زیبِ داستاں
اُن کی حازق ہے جہاں میں علمِ طِب کا شاہکار
مٹ نہیں سکتے کبھی ان کے نقوشِ جاوداں
جامعہ عہدِ رواں میں آج اپنے کام سے
گنگا جمنی ہند کی تہذیب کا ہے ترجماں
ذاکر و جوہر ہو ں یا مختار انصاری کا نام
جامعہ کے صفحہ تاریخ پر ہے ضوفشاں
بابِ محمودالحسن ہے اُن کی زریں یادگار
جن کی علمی شخصیت ہے نازشِ ہندوستاں
ہے سرِ فہرست اس کے محسنوں میں ان کا نام
ہیں مجیدِ خواجہ کی خدمات بھی سب پر عیاں
جنگِ آزادی میں بھی تھے وہ ہمیشہ پیش پیش
ہیں محبانِ وطن کے وہ دلوں پر حکمراں
صدق دل سے ملک و ملت کے تھے برقی خیر خواہ
ذہن میں ان کے نہ تھا ہرگز کبھی سود و زیاں
جامعہ ہے وقارِ ہندوستاں
احمد علی برقی اعظمی
جامعہ ہے وقارِ ہندوستاں
جس کی عظمت کا معترف ہے جہاں
ہے یہ اک ایسا مطلعِ انوار
روشنی جس کی ہے سبھی پہ عیاں
اہلِ دانش کو ناز ہے جس پر
ہے یہ وہ درسگاہِ ہندوستاں
ہر تعصب سے ہے جو بالا تر
ہے سبھی کے لئے یہ فیض رساں
اس کے محسن تھے وہ حکیم اجمل
جن کی ’’حاذق‘‘ ہے علمِ طب کا نشاں
کام سے اپنے کام ہے اس کو
کچھ نہیں امتیازِ سود و زیاں
کیوں نہ مداح اس کا ہو برقیؔ
جامعہ ہے وقارِ ہندوستاں


GHAZAL PASS ATE BHI NAHIN AUR BULATE BHI NAHIN-GAZALBY AHMAD ALI BARQI...

فرزانہ شمسی کے افسانوں کے مجموعے ”بحرِ بیکراں“ پر منظوم تاثرات احمد علی برقیؔ اعظمی



فرزانہ شمسی کے افسانوں کے مجموعے ”بحرِ بیکراں“ پر منظوم تاثرات
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہے مرے پیشِ نظر فرزانہ شمسی کی کتاب
جس میں ہے اکیس افسانوں کا دلکش انتخاب
ابتدا  ”مشکور“ سے ہے انتہا ہے ”پرورش
جس کا شمس الدین خاں کے نام سے ہے انتساب
زین شمسی اور حقانی کے ہیں جو تجزئے
ان میں اِن افسانوں کا ہے ناقدانہ احتساب
ہے یہ عصری کرب کے اظہار کا وہ آئینہ
جس کا ہر کردار اس میں کھا رہا ہے پیچ و تاب
اس کے جس افسانے کا عنوان ہے ”نفرت کا زہر
عہدِ حاضر کا عیاں ہے اس سے ذہنی اضطراب
کوچہ و بازار میں جو ہورہا ہے اِن دنوں
ہے کتابِ زندگی کا ابن آدم کی وہ باب
نام ”بحر بیکراں“ ہے جس کا برقی ؔ اعظمی
ہے یہ افسانوں کا مجموعہ نہایت کامیاب

ہفت روزہ فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کی برقی نوازی

























ہفت روزہ فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کی برقی نوازی
ہفت روزہ فیس بُک ٹائمزانٹرنیشنل کے
۵۸ عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنام احمد علی برقی اعظمی کے انعقاد کے لئے منظوم اظہار امتنان و تشکر
احمد علی برقی اعظمی
فیس بُک ٹائمز کی محفل ہے جو برقی کے نام
اس کے رفقا کے لئے ہے بادۂ عشرت کا جام
ان کی اس برقی نوازی کا نہایت شکریہ
پیش کرتا ہوں سبھی احباب کو اپنا سلام
جس کی ہیں روح رواں این اے قمر اور ان کے دوست
اپنی بزم آرائیوں سے ہر طرف ہے نیک نام
ہیں وہ اقصائے جہاں میں آج اردو کے سفیر
کرتے ہیں بے لوث جو بزمِ سخن کا اہتمام
اس کا چرچا ہر طرف ہے انجمن در انجمن
ارفع و اعلی ہے اس کے کام سے اس کام مقام
قدرداں ہیں اس کے دنیا بھر میں برقی اہل ذوق
اردو کی ترویج میں یہ انجمن ہے پیشگام
ہمارے اس ہفتے کے معزز مہمان ہیں احمد علی برقیؔ اعظمی صاحب. "جلوہ گر ہے جن کے ہاتھوں میں مری روح سخن". احمد علی برقیؔ اعظمی صاحب( انڈیا ) دہلی کے خاص تہذیبی اور شاعرانہ ماحول ومزاج کی نمائندگی کرنے والے شاعروں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی ولادت 25 دسمبر ا954 1 میں ہوئی ۔ ان کا اصل نام احمد علی اعظمی۔ برقیؔ تخلص کرتے ہیں ۔ سنئیر جرنلسٹ اور براڈ کاسٹر ہیں . آپ آل انڈیا ریڈیو سے خبریں پڑھنے کے علاوہ اناؤسنمنٹ کے شعبہ کے ساتھ ساتھ ایکس ٹرانسلیٹر بھی رہ چکے ہیں.
اردو کے روشن خیال ادیبوں نے نئے افکار ، جدید سالیب اور زندگی کی نئی معنویت کو موضوعاتی شاعری کی اسا س بنایا. اس عہد میں ہمیں تمام اہم شعراء کے ہاں اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں. احمد علی برقیؔ صاحب کی موضوعاتی شاعری جہاں کلاسیکی روایات کا پرتَو لیے ہوئے ہےوہاں اس میں عصری آگہی کا عنصر بھی نمایاں ہے.معاشرے میں سماج اوراقوامِ عالم کے ساتھ قلبی وابستگی کے معجزہ نما اثر سے ان کے ہاں ایک بصیرت اور علمی سطع فائقہ دکھائی دیتا ہے. وہ جس علمی سطح سے تخلیقِ فن کے لمحوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں اس کا براہِ راست تعلق آفاقیت سے سے ثابت ہوتا ہے.
فرد، معاشرے، سماج،وطن، اہلِ وطنِ،حیات، کائنات، اور اس سے بھی آگےارض و سما کی لامحدودنیرنگیاں ان کی موضوعاتی شاعری میں اس دلکشی سے سماگئی ہے کہ قاری ان کے اسلوبِ بیاں سے مسحور ہوجاتا ہے. ان کی موضوعاتی شاعری منظوم تذکرےکی ایک منفرد صورت قرار دی جاسکتی ہے. ان کے ہاں موضوعاتی شاعری میں جو منظوم انداز میں جو تنقیدی بصیرتیں جلوہ گر ہیں وہ ا پنی مثال آپ ہیں .اس سے قبل ایسی کوئی مثال اردو شاعری میں موجود نہیں. انسان شناسی اور اسلوب کی تفہیم میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا. موضوعاتی نظموں میں جو منفرد اسلوب انہوں نے آزمایا ہے وہ اوروں سے تقلیدی طور پر ممکن نہیں. برقیؔ صاحب لفظوں میں تصویر کھینچ کے رکھ دیتے ہیں اور قاری چشمِ تصور سے تمام حالات و واقعات سے آگاہ ہوجاتا ہے .وہ اصلاحی اور تعمیری اقدار کو اساس بنا کر پرورشِ لوح و قلم میں مصروف رہتے ہیں. ان کی شاعری میں قصیدہ گوئی یا مصلحت کا اندیشی کا کہیں گزر نہیں. وہ صلے اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز حریتِ فکر کے مجاہد کی طرح اپنئ ضمیر کی اواز پر لبیک کہتے ہوئے حرفِ صداقت لکھتے چلے جاتے ہیں .
احمد علی برقیؔ صاحب کی موضوعاتی شاعری کا تعلق ذیادہ تر مرحوم ادیب، شاعر، فنونِ لطیفہ کے نابالغہ روزگار افراد اور فطرت کے مظاہر ہیں. حق گوئی ، بے باکی اور فطرت نگاری ان کی موضوعاتی شاعری کا موضوعِ خاص رہے ہیں. موضوعات کے اس روایتی بیان کو ان کی زبان کی صٖفائی اور روزمرہ کے خوبصورت استعمال نے خاصے کی چیز بنادیا ہے . احمد علی برقیؔ صاحب کی شاعری موضوعاتی لحاظ سے تو اسی روایتی مزاج کی ہی ہے جو اس وقت کے اہم موضوعات ہیں لیکن موضوعاتی اور عشقیہ شاعری کے ساتھ انہوں نے مختلف ادبی موضوعات پر مضامین بھی لکھے ہیں۔ احمد علی برقیؔ صاحب کو بیک وقت ہندی، اردو اورانگلش کے علاوہ فارسی زبان میں پر بھی عبور حاصل ہے .
احمد علی برقیؔ صاحب کی شاعری میں موضوعات،کا تنوع، جدّت اورہم گیری ان کی انفرادیت کا ثبوت ہے. اردو ادب میں موضوعاتی شاعری پر بہت کم توجہ دی گئی ہے . اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ ہر موضوع کا تعلق بہ ظاہر محدود متن اورپس منظر سے ہوتا ہے. یہ بھی حقیقت ہے کہ موضوعاتی شاعری نے اب ایک مضبوط اور مستحکم روایت کی صورت میں اپنی افادیت کا لوہا
منوالیا ہے.
احمد علی برقیؔ اعظمی کا عرفی شیرازی کے ایک فارسی شعر کا منظوم اردو ترجمہ:
دو عالم از اثرِ شعلۂ جمالت سوخت
بجز متاعِ محبّت کہ در پناہِ من است
عرفی شیرازی
جل گئے دو جھاں ترے شعلۂ حُسن سے مگر
تیری متاعِ شوق ہے اب بھی مری پناہ میں
احمد علی برقیؔ اعظمی
ایک اور نمونہء خاص جو سات سال پہلے لکھا گیا تھا:
ہیں یہ بچے گلشنِ ہستی کے پھول
اِن کی آنکھوں میں نہ جھونکیں آپ دھول
اِن کی ذھنی تربیت ایسی کریں
سیکھ جائیں جس سے یہ زریں اصول
ان کو بتلائیں ہےکیا حُسنِ سلوک
ہےاگر یہ مشورہ میرا قبول
ہےضروری کاروبارِ زندگی
ایسے میں ان کو کہیں جائیں نہ بھول
ہیں یہ برقی آپ ہی پر مُنحصِر
آپ کی یہ سرد مہری ہےفضول
اس کے علاوہ:
مجھ سے محوِ گفتگو ہے آج ٹی وی ذی سلام
کرتا ہوں مجروح کے بارے میں اظہارِخیال
احمد علی برقی اعظمی


ایک موضوعاتی نظم بعنوان الکشن بشکریہ ارمغان ابتسام


روح سخن : شعری مجموعہ احمد علی برقی اعظمی ۔ بشکریہ پنجند ڈاٹ کام

Urdu Poetry By Dr Ahmad Ali barqi Azmi| Delhi| Badri Times : Courtesy : Badri Times





ہوں مبارک بدری کے اس لطف کا منت گزار
دے جزائے خیر انھیں اس کے لئے پروردگار
ان کا چینل خدمت شعرو ادب کرتا رہے
اس کی خدمات ادب ہوں باعثِ صد افتخار
سپاسگذار


احمد علی برقی اعظمی


بشکریہ ایک زمین کئی شاعر : حسن کمال اور احمد علی برقی اعظمی



ایک زمین کئی شاعر
حسن کمال اور احمد علی برقی اعظمی
حسن کمال
کسی نظر کو ترا انتظار آج بھی ہے
کہاں ہو تم کہ یہ دل بیقرار آج بھی ہے

وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں
مری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے

نجانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس
کہ میرے دل پہ انھیں اختیار آج بھی ہے

وہ پیار جس کیلئے ہم نے چھوڑ دی دنیا
وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے

یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے
مری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے

نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں
کہ جن کو سوچ کے دل سوگوار آج بھی ہے

غزل
احمد علی برقی اعظمی
فراق میں وہ مرے گلعذار آج بھی ہے
’’ مری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے ‘‘
ہر اک ادا سے مجھے اس کی پیار آج بھی ہے
جنونِ شوق یہ سرپر سوار آج بھی ہے
نہ پوچھو کیسے گذرتے ہیں روز و شب میرے
تھا جیسے پہلے وہی انتظار آج بھی ہے
اگرچہ وعدۂ فردا ہے اس کا وعدۂ حشر
نہ جانے پھر بھی یہ کیوں اعتبار آج بھی ہے
مزاج پُرسی کو آئے گا وہ ضرور اک دن
متاعِ زیست اسی پر نثار آج بھی ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا اسی پہ کیوں آخر
سکونِ دل کا مرے انحصار آج بھی ہے
شراب چشم سے سرشار جس کی تھا برقی
نگاہِ شوق میں اس کا خمار آج بھی ہے


.


نذرِ والِدِ محترم رحمت الٰہی برق اعظمی مرحوم احمد علی برقی اعظمی



نذرِ والِدِ محترم رحمت الٰہی برق اعظمی مرحوم
احمد علی برقی اعظمی
میرے والد کا ہے روحانی تصرف میرا فن
دیکھ سکتے کاش ان کی آپ ’’ تنویرِ سخن‘‘
گُلشنِ شبلی میں اُن کی ذات تھی مثلِ بہار
اُن کے گلہائے سخن سے روح پرور تھا چمن
اُن کی شہرت بس فصیلِ شہر تک محدود تھی
راس آتا ہی نہ تھا اُن کو زمانے کا چلن
پاسداری فکر و فن کی تھی انہیں بیحد عزیز
تھے کلاسیکی روایت پر ہمیشہ گامزن
بندشِ الفاظ میں اُن کا نہ تھا کوئی جواب
شخصیت تھی ان کی برقی فخرِ ابنائے وطن