میرے والد رحمت الہی برق اعظمی پر ڈاکٹر افروز جہاں کا تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی اردو بعنوان رحمت الہی برق ۔ حیات و شاعری: شبلی نیشنل پوسٹ گریجویٹ کالج اعظم گڈھ یوپی پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سرفراز جہاں کا خاکسار پروردہ ہے۔


SALAAM BAHUZUR SARKAR E DO ALAM SAW KALAAM DR AHMAD ALI BARQI AZMI R...

وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام بعنوان امراوتی پوئیٹک پریزم۔ ۲۰۱۸ ایک سو سات عالمی اور ہندوستانی زبانوں میں ایک ہزار ۱یک سو گیارہ صفحات پر مشتمل ایک ضخیم عالمی شعری مجموعے کی تقریب رونمائی اور شعری نشست رپورٹ : جاوید نسیم و ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی





وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام بعنوان امراوتی پوئیٹک پریزم۔ ۲۰۱۸ ایک سو سات عالمی اور ہندوستانی زبانوں میں
ایک ہزار ۱یک سو گیارہ صفحات پر مشتمل ایک ضخیم عالمی شعری مجموعے کی تقریب رونمائی اور شعری نشست

رپورٹ : جاوید نسیم و ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
وجے واڑا کلچرل سینٹر ، آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام بتاریخ ۱۰ نومبر ۲۰۱۸ ایک مَلٹی لِنگوئل بین الاقوامی شعری مجموعے کی تقریب رونمائی کا انعقاد ہوا۔ یہ تقریب بعنوان ’’ امراوتی پوئیٹک پرزم ۔ ۲۰۱۸ ‘‘ منعقد ہوئی جس میں دنیا کے ۱۶ ممالک کے مندوبین اور شعرا ء کرام شامل ہوئے اور ہندوستان کے مختلف خطوں اور زبانوں کے ۱۵۰ مندوبین شریک ہوئے۔بیرون ملک مندوبین میں البانیہ، بنگلہ دیش، سلوانیہ، ڈنمارک، جرمنی ،اٹلی ، اُردن، ماریشش ، منگولیا، پُرتگال سعودی عرب سیشلس ، جنوبی افریقا ،سری لنکا اور امریکا کے شعرائے کرام شامل ہوئے۔

اس تقریب کی روح رواں اور ناظم پدمجا آئنگر پیڈی اور میزبان مہا لکشمی گروپ آف کمپنز ، کلچرل سینٹر وجے واڑا اور کچھ دیگر تنظیمیں تھیں۔ یہ ضخیم کتاب جو ۱۱۱۱ صفحات پر مشتمل ہے دنیا کی ایک سو سات زبانوں اور ایک ہزار ایک سوگیارہ کلام کا مجموعہ ہے۔ س مجموعہ میں ۳۸۹ ہندوستانی اور غیر ہندوستانی ۲۷۸ اور انگریزی کے ۴۴۴کلام شامل ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی اسپہکر مندالی بدھا پرساد حاضر تھے اور انھوں نے اس پروگرام کی خوب پذیرائی کی ۔پدمجا آئنگر وجے واڑا کلچرل سینٹر کی اعزازی ادبی مشیر ہیں اور یہ خوبصورت، یادگار اور شاندار پروگرام اُن کی ہی انتھک محنتوں اور کاوشوں کا ثمرہ ہے جو اپنے چارسال مکمل کرچکا ہے۔بین الاقوامی زبانوں کے شاعروں کے لئے یہ ایک انتہائی قابلِ اعزاز پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے شعرائے کرام اپنی اپنی زبانوں کے حوالے سے یکجا ہوتے ہیں اور علم و ادب پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ شعری اجلاس کے دوران نہ صرف کلام بلکہ انداز بیان کا بھی مظاہرہ ہوا۔ہندوستانی شعرائے کرام میں ممتاز اردو شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی ؔ اعظمی نے اپنی ایک غزل مسلسل بعنوان محبت پیش کی جو صفحہ نمبر۶۳۴پر موجود ہے۔کلکتہ سے تعلق رکھنے والے اور حیدر آباد میں مقیم جاوید نسیم نے بھی اپنی غزل اور اور انداز بیاں سے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔حیدر آباد سے جناب کوکب زکی بھی شریک بزم تھے جن کا کلام بھی بیحد پسند کیا گیا۔

جن دیگر اردو شعراء کا کلام اس کتاب میں شامل ہے ان کے اسمائے گرامی ہیں سید نثار احمد احمد نثار(پونہ مہاراشٹرا) ،علی شیدا اننت ناگ جموں و کشمیر، امین جس پوری، با صر سلطان کاظمی،(برطانیہ)، الزبتھ کرین مونا ( حیدرآباد)
جاوید دانش ( کناڈا) جینت پرمار ( احمدآباد)،جگرالنساء جگر ( حیدرآباد)،کرامت علی کرامت( کٹک ، اریسہ)، ڈاکٹر محمد زاہدالحق(حیدرآباد )مُرلی دھر شرما طالبؔ ، کلکتہ)،نجیب اللہ آزاد،( کابل، افغانستان )، نقیب اللہ ساحل،کابل افغانستان)، نصرت ریحانہ آصف ( حیدرآباد)پرمندر سینگ عزیزؔ (کلکتہ)،ڈاکٹر پریرنا سینگلا (گروگرام ہرہانہ)۔ساحل مقبول ( شری نگر، جمو و کشمیر)،سیف نظامی( حیدرآباد)، ثروت نجیب ( کابل ، افغانستان)،شاہد دلنوی(بارامولا ،جموو کشمیر)شمشاد جلیل شاد( پونہ)،سنیتا نلا(حیدرآباد)سید شرف علی مہتاب قدر(جدہ سعودی عرب)یوگیش موہن سینگلا( گروگرام ہریانہ)
یہ دوروزہ پروگرام انتہائی کامیابی کے ساتھ۱۱ نومبر کی رات اختتام پذیر ہوا۔
وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام ایک سو سات غیر ملکی اور دیگر ہندوستانی اور علاقائی زبانوں میں ایک ہزار ایک سو گیارہ صفحات ہر مشتمل ایک ضخیم شعری مجموعے اور عالمی ہمہ لسانی مشاعرے پر منظوم تاثرات : احمد علی برقیؔ اعظمی
دس نومبر کا وجے واڑا میں دن تھا یادگار
رونمائی کی وہاں تقریب تھی اک شاندار
کلچرل سینٹر وجے واڑا کے زیر اہتمام
بین الاقوامی تھا یہ اجلاس فخر روزگار
میرے یار مہرباں جاویدؔ کا تھا لطفِ خاص
ساتھ تھی اُن کے سکونت میری وجہہ افتخار
پدمجا پیڈی تھیں اس تقریب کی روح رواں
جس میں شامل سولہ ملکوں کے تھے شعرا نامدار
ملٹی لینگول شعری مجموعے کا اجرا تھا وہاں
جس کے ہے صفحات کی زینت کلامِ خاکسار
مختلف لہجوں میں سننے کو ملے دلکش کلام
جن کے گلہائے مضامیں سے فضا تھی مُشکبار
چوتھا یہ مجموعۂ اشعار ہے اس بزم کا
جس کے ہے صفحات کی برقیؔ ضخامت اک ہزار


شریف اکیڈمی جرمنی کے تحت لندن سے شایع ہونے والے رسالے شمس میگ۔ یوکے کی برقی نوازی ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی موضوعاتی شاعری بقلم : ڈاکٹر غلام شبیر رانا


A Poetic Report By Ahmad Ali Barqi Azmi On 4th Vijayawada-Amaravati Poetic Prism international event, Vijayawada, November 10-11 2018, showcasing 1,111 poems in 107 languages by over 630 poets from 76 countries.

وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام ایک سو سات غیر ملکی اور دیگر ہندوستانی اور علاقائی زبانوں میں ایک ہزار ایک سو گیارہ صفحات ہر مشتمل ایک ضخیم شعری مجموعے اور عالمی ہمہ لسانی مشاعرے پر منظوم تاثرات : احمد علی برقیؔ اعظمی










وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام ایک سو سات غیر ملکی اور دیگر ہندوستانی اور علاقائی زبانوں میں ایک ہزار ایک سو گیارہ صفحات ہر مشتمل ایک ضخیم شعری مجموعے اور عالمی ہمہ لسانی مشاعرے پر منظوم تاثرات : احمد علی برقیؔ اعظمی
دس نومبر کا وجے واڑا میں دن تھا یادگار
رونمائی کی وہاں تقریب تھی اک شاندار
کلچرل سینٹر وجے واڑا کے زیر اہتمام
بین الاقوامی تھا یہ اجلاس فخر روزگار
میرے یار مہرباں جاویدؔ کا تھا لطفِ خاص
ساتھ تھی اُن کے سکونت میری وجہہ افتخار
پدمجا پیڈی تھیں اس تقریب کی روح رواں
جس میں شامل سولہ ملکوں کے تھے شعرا نامدار
ملٹی لینگول شعری مجموعے کا اجرا تھا وہاں
جس کے ہے صفحات کی زینت کلامِ خاکسار
مختلف لہجوں میں سننے کو ملے دلکش کلام
جن کے گلہائے مضامیں سے فضا تھی مُشکبار
چوتھا یہ مجموعۂ اشعار ہے اس بزم کا
جس کے ہے صفحات کی برقیؔ ضخامت اک ہزار


بشکریہ : شعرو سخن ڈاٹ نیٹ ، ٹورانٹو کناڈا وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام بعنوان امراوتی پوئیٹک پریزم۔ ۲۰۱۸ ایک سو سات عالمی اور ہندوستانی زبانوں میں ایک ہزار ۱یک سو گیارہ صفحات پر مشتمل ایک ضخیم عالمی شعری مجموعے کی تقریب رونمائی اور شعری نشست رپورٹ : جاوید نسیم و ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی

Kaukab Zaki Of Hyderabad Reciting His Ghazal in Amaravati Poetic Prism-2018 At Vijayawada

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Urdu Poetry Published in Amravati Poetic Prizm 2018 in the Cultural Center Of Vijayawada Andhra Pradesh










Amaravati Poetic Prism -2017: International Multilingual poets Meet

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Ghazal in Amaravati Poetic Prizm- 2017 ...

مصرعۂ طرح : جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں (مظفر احمد مظفر )ؔ عالمی انعامی طرحی مشاعرہ اردو ادب اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی




عالمی انعامی طرحی مشاعرہ اردو ادب اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی
مصرعۂ طرح : جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں (مظفر احمد مظفر )ؔ
احمد علی برقیؔ اعظمی
کیا بتاؤں بنِ ترے اے جانِ جاں کچھ بھی نہیں
جسم و جاں میں اب مرے تاب و تواں کچھ بھی نہیں
تونہیں تو میرے یارِ مہرباں کچھ بھی نہیں
بِن ترے میرے لئے عمرِ رواں کچھ بھی نہیں
میری نظروں میں وہ سنگ و خشت کا انبار ہے
تو نہ ہو جس میں مکیں ایسا مکاں کچھ بھی نہیں
کس قدر صبر آزما ہے مجھ کو تیرا انتظار
اس سے بڑھ کر زندگی میں امتحاں کچھ بھی نہیں
سایہ گُستر ہے یہ مجھ پر زندگی کی دھوپ میں
تیری زلفوں کا نہ ہو گر سائباں کچھ بھی نہیں
تجھ سے روشن ہے مری شمعِ شبستانِ حیات
تیرے آگے روشنئ کہکشاں کچھ بھی نہیں
یہ جہانَ آب و گِل میرے لئے بیکار ہے
’’جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں ‘‘
گر نہ ہو ذہنی سکوں ایسے میں برقیؔ اعظمی
مال و دولت ، عیش و عشرت ، عز و شاں کچھ بھی نہیں

دیارشبلی کے ممتاز دانشور و صاحب طرز سخنورپروفیسر الطاف اعظمی ،سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات



دیارشبلی کے ممتاز دانشور و صاحب طرز سخنورپروفیسر الطاف اعظمی ،سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات
احمد علی برقیؔ اعظمی
منور ہے ’’ چراغِ شب گزیدہ ‘‘
جو اک آئینہ عرضِ ہُنر ہے
ہے الطاف اعظمی کا ضوفشاں فن
نمایاں نُدرتِ فکر و نظر ہے
وہ علمِ طب ہو یا نقد و نظر ہو
شعورِ فکر اُن کا جلوہ گر ہے
کتابوں کا ہے اک انبار اُن کی
جو اُن کے نخلِ دانش کا ثمر ہے
ہیں ان کے کارنامے سب پہ روشن
ہے واقف اُن سے جو بھی دیدہ ور ہے
وہ اپنے آپ میں اک انجمن ہیں
چراغِ فکر جس کا جلوہ گر ہے
وہ برقیؔ اعظمی کے ہموطن ہیں
جو اقصائے جہاں میں نامور ہے

Lecture on: Sir Syed Ahmad's Concept of Education by Prof Altaf Ahmad Azmi

Barqi Azmi ki Nazm Rekhta par | Rekhta Studio شہرۂ آفاق اردو ویب سایٹ ریختہ کی ادبی خدمات اور افادیت پر احمد علی برقی اعظمی کے منظوم تاثرات بشکریہ ریختہ