GHAZAL PASS ATE BHI NAHIN AUR BULATE BHI NAHIN-GAZALBY AHMAD ALI BARQI...

فرزانہ شمسی کے افسانوں کے مجموعے ”بحرِ بیکراں“ پر منظوم تاثرات احمد علی برقیؔ اعظمی



فرزانہ شمسی کے افسانوں کے مجموعے ”بحرِ بیکراں“ پر منظوم تاثرات
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہے مرے پیشِ نظر فرزانہ شمسی کی کتاب
جس میں ہے اکیس افسانوں کا دلکش انتخاب
ابتدا  ”مشکور“ سے ہے انتہا ہے ”پرورش
جس کا شمس الدین خاں کے نام سے ہے انتساب
زین شمسی اور حقانی کے ہیں جو تجزئے
ان میں اِن افسانوں کا ہے ناقدانہ احتساب
ہے یہ عصری کرب کے اظہار کا وہ آئینہ
جس کا ہر کردار اس میں کھا رہا ہے پیچ و تاب
اس کے جس افسانے کا عنوان ہے ”نفرت کا زہر
عہدِ حاضر کا عیاں ہے اس سے ذہنی اضطراب
کوچہ و بازار میں جو ہورہا ہے اِن دنوں
ہے کتابِ زندگی کا ابن آدم کی وہ باب
نام ”بحر بیکراں“ ہے جس کا برقی ؔ اعظمی
ہے یہ افسانوں کا مجموعہ نہایت کامیاب

ہفت روزہ فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کی برقی نوازی

























ہفت روزہ فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کی برقی نوازی
ہفت روزہ فیس بُک ٹائمزانٹرنیشنل کے
۵۸ عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنام احمد علی برقی اعظمی کے انعقاد کے لئے منظوم اظہار امتنان و تشکر
احمد علی برقی اعظمی
فیس بُک ٹائمز کی محفل ہے جو برقی کے نام
اس کے رفقا کے لئے ہے بادۂ عشرت کا جام
ان کی اس برقی نوازی کا نہایت شکریہ
پیش کرتا ہوں سبھی احباب کو اپنا سلام
جس کی ہیں روح رواں این اے قمر اور ان کے دوست
اپنی بزم آرائیوں سے ہر طرف ہے نیک نام
ہیں وہ اقصائے جہاں میں آج اردو کے سفیر
کرتے ہیں بے لوث جو بزمِ سخن کا اہتمام
اس کا چرچا ہر طرف ہے انجمن در انجمن
ارفع و اعلی ہے اس کے کام سے اس کام مقام
قدرداں ہیں اس کے دنیا بھر میں برقی اہل ذوق
اردو کی ترویج میں یہ انجمن ہے پیشگام
ہمارے اس ہفتے کے معزز مہمان ہیں احمد علی برقیؔ اعظمی صاحب. "جلوہ گر ہے جن کے ہاتھوں میں مری روح سخن". احمد علی برقیؔ اعظمی صاحب( انڈیا ) دہلی کے خاص تہذیبی اور شاعرانہ ماحول ومزاج کی نمائندگی کرنے والے شاعروں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی ولادت 25 دسمبر ا954 1 میں ہوئی ۔ ان کا اصل نام احمد علی اعظمی۔ برقیؔ تخلص کرتے ہیں ۔ سنئیر جرنلسٹ اور براڈ کاسٹر ہیں . آپ آل انڈیا ریڈیو سے خبریں پڑھنے کے علاوہ اناؤسنمنٹ کے شعبہ کے ساتھ ساتھ ایکس ٹرانسلیٹر بھی رہ چکے ہیں.
اردو کے روشن خیال ادیبوں نے نئے افکار ، جدید سالیب اور زندگی کی نئی معنویت کو موضوعاتی شاعری کی اسا س بنایا. اس عہد میں ہمیں تمام اہم شعراء کے ہاں اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں. احمد علی برقیؔ صاحب کی موضوعاتی شاعری جہاں کلاسیکی روایات کا پرتَو لیے ہوئے ہےوہاں اس میں عصری آگہی کا عنصر بھی نمایاں ہے.معاشرے میں سماج اوراقوامِ عالم کے ساتھ قلبی وابستگی کے معجزہ نما اثر سے ان کے ہاں ایک بصیرت اور علمی سطع فائقہ دکھائی دیتا ہے. وہ جس علمی سطح سے تخلیقِ فن کے لمحوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں اس کا براہِ راست تعلق آفاقیت سے سے ثابت ہوتا ہے.
فرد، معاشرے، سماج،وطن، اہلِ وطنِ،حیات، کائنات، اور اس سے بھی آگےارض و سما کی لامحدودنیرنگیاں ان کی موضوعاتی شاعری میں اس دلکشی سے سماگئی ہے کہ قاری ان کے اسلوبِ بیاں سے مسحور ہوجاتا ہے. ان کی موضوعاتی شاعری منظوم تذکرےکی ایک منفرد صورت قرار دی جاسکتی ہے. ان کے ہاں موضوعاتی شاعری میں جو منظوم انداز میں جو تنقیدی بصیرتیں جلوہ گر ہیں وہ ا پنی مثال آپ ہیں .اس سے قبل ایسی کوئی مثال اردو شاعری میں موجود نہیں. انسان شناسی اور اسلوب کی تفہیم میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا. موضوعاتی نظموں میں جو منفرد اسلوب انہوں نے آزمایا ہے وہ اوروں سے تقلیدی طور پر ممکن نہیں. برقیؔ صاحب لفظوں میں تصویر کھینچ کے رکھ دیتے ہیں اور قاری چشمِ تصور سے تمام حالات و واقعات سے آگاہ ہوجاتا ہے .وہ اصلاحی اور تعمیری اقدار کو اساس بنا کر پرورشِ لوح و قلم میں مصروف رہتے ہیں. ان کی شاعری میں قصیدہ گوئی یا مصلحت کا اندیشی کا کہیں گزر نہیں. وہ صلے اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز حریتِ فکر کے مجاہد کی طرح اپنئ ضمیر کی اواز پر لبیک کہتے ہوئے حرفِ صداقت لکھتے چلے جاتے ہیں .
احمد علی برقیؔ صاحب کی موضوعاتی شاعری کا تعلق ذیادہ تر مرحوم ادیب، شاعر، فنونِ لطیفہ کے نابالغہ روزگار افراد اور فطرت کے مظاہر ہیں. حق گوئی ، بے باکی اور فطرت نگاری ان کی موضوعاتی شاعری کا موضوعِ خاص رہے ہیں. موضوعات کے اس روایتی بیان کو ان کی زبان کی صٖفائی اور روزمرہ کے خوبصورت استعمال نے خاصے کی چیز بنادیا ہے . احمد علی برقیؔ صاحب کی شاعری موضوعاتی لحاظ سے تو اسی روایتی مزاج کی ہی ہے جو اس وقت کے اہم موضوعات ہیں لیکن موضوعاتی اور عشقیہ شاعری کے ساتھ انہوں نے مختلف ادبی موضوعات پر مضامین بھی لکھے ہیں۔ احمد علی برقیؔ صاحب کو بیک وقت ہندی، اردو اورانگلش کے علاوہ فارسی زبان میں پر بھی عبور حاصل ہے .
احمد علی برقیؔ صاحب کی شاعری میں موضوعات،کا تنوع، جدّت اورہم گیری ان کی انفرادیت کا ثبوت ہے. اردو ادب میں موضوعاتی شاعری پر بہت کم توجہ دی گئی ہے . اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ ہر موضوع کا تعلق بہ ظاہر محدود متن اورپس منظر سے ہوتا ہے. یہ بھی حقیقت ہے کہ موضوعاتی شاعری نے اب ایک مضبوط اور مستحکم روایت کی صورت میں اپنی افادیت کا لوہا
منوالیا ہے.
احمد علی برقیؔ اعظمی کا عرفی شیرازی کے ایک فارسی شعر کا منظوم اردو ترجمہ:
دو عالم از اثرِ شعلۂ جمالت سوخت
بجز متاعِ محبّت کہ در پناہِ من است
عرفی شیرازی
جل گئے دو جھاں ترے شعلۂ حُسن سے مگر
تیری متاعِ شوق ہے اب بھی مری پناہ میں
احمد علی برقیؔ اعظمی
ایک اور نمونہء خاص جو سات سال پہلے لکھا گیا تھا:
ہیں یہ بچے گلشنِ ہستی کے پھول
اِن کی آنکھوں میں نہ جھونکیں آپ دھول
اِن کی ذھنی تربیت ایسی کریں
سیکھ جائیں جس سے یہ زریں اصول
ان کو بتلائیں ہےکیا حُسنِ سلوک
ہےاگر یہ مشورہ میرا قبول
ہےضروری کاروبارِ زندگی
ایسے میں ان کو کہیں جائیں نہ بھول
ہیں یہ برقی آپ ہی پر مُنحصِر
آپ کی یہ سرد مہری ہےفضول
اس کے علاوہ:
مجھ سے محوِ گفتگو ہے آج ٹی وی ذی سلام
کرتا ہوں مجروح کے بارے میں اظہارِخیال
احمد علی برقی اعظمی


ایک موضوعاتی نظم بعنوان الکشن بشکریہ ارمغان ابتسام


روح سخن : شعری مجموعہ احمد علی برقی اعظمی ۔ بشکریہ پنجند ڈاٹ کام

Urdu Poetry By Dr Ahmad Ali barqi Azmi| Delhi| Badri Times : Courtesy : Badri Times





ہوں مبارک بدری کے اس لطف کا منت گزار
دے جزائے خیر انھیں اس کے لئے پروردگار
ان کا چینل خدمت شعرو ادب کرتا رہے
اس کی خدمات ادب ہوں باعثِ صد افتخار
سپاسگذار


احمد علی برقی اعظمی


بشکریہ ایک زمین کئی شاعر : حسن کمال اور احمد علی برقی اعظمی



ایک زمین کئی شاعر
حسن کمال اور احمد علی برقی اعظمی
حسن کمال
کسی نظر کو ترا انتظار آج بھی ہے
کہاں ہو تم کہ یہ دل بیقرار آج بھی ہے

وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاں
مری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے

نجانے دیکھ کے کیوں ان کو یہ ہوا احساس
کہ میرے دل پہ انھیں اختیار آج بھی ہے

وہ پیار جس کیلئے ہم نے چھوڑ دی دنیا
وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے

یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے
مری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے

نہ پوچھ کتنے محبت کے زخم کھائے ہیں
کہ جن کو سوچ کے دل سوگوار آج بھی ہے

غزل
احمد علی برقی اعظمی
فراق میں وہ مرے گلعذار آج بھی ہے
’’ مری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے ‘‘
ہر اک ادا سے مجھے اس کی پیار آج بھی ہے
جنونِ شوق یہ سرپر سوار آج بھی ہے
نہ پوچھو کیسے گذرتے ہیں روز و شب میرے
تھا جیسے پہلے وہی انتظار آج بھی ہے
اگرچہ وعدۂ فردا ہے اس کا وعدۂ حشر
نہ جانے پھر بھی یہ کیوں اعتبار آج بھی ہے
مزاج پُرسی کو آئے گا وہ ضرور اک دن
متاعِ زیست اسی پر نثار آج بھی ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا اسی پہ کیوں آخر
سکونِ دل کا مرے انحصار آج بھی ہے
شراب چشم سے سرشار جس کی تھا برقی
نگاہِ شوق میں اس کا خمار آج بھی ہے


.


نذرِ والِدِ محترم رحمت الٰہی برق اعظمی مرحوم احمد علی برقی اعظمی



نذرِ والِدِ محترم رحمت الٰہی برق اعظمی مرحوم
احمد علی برقی اعظمی
میرے والد کا ہے روحانی تصرف میرا فن
دیکھ سکتے کاش ان کی آپ ’’ تنویرِ سخن‘‘
گُلشنِ شبلی میں اُن کی ذات تھی مثلِ بہار
اُن کے گلہائے سخن سے روح پرور تھا چمن
اُن کی شہرت بس فصیلِ شہر تک محدود تھی
راس آتا ہی نہ تھا اُن کو زمانے کا چلن
پاسداری فکر و فن کی تھی انہیں بیحد عزیز
تھے کلاسیکی روایت پر ہمیشہ گامزن
بندشِ الفاظ میں اُن کا نہ تھا کوئی جواب
شخصیت تھی ان کی برقی فخرِ ابنائے وطن

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Ghazals In A Literary Meet In Hindi Bhawan Jaunpur

مجموعۂ کلام برقی اعظمی : منظوم تاثرات احمد علی برقی اعظمی



مجموعۂ کلام برقی اعظمی : منظوم تاثرات
احمد علی برقی اعظمی
مجموعۂ کلام ہے ’’ روحِ سخن‘‘ مرا
پیشِ نظر ہے جس میں یہاں فکر و فن مرا
برقی اعظمی کا فیضِ نظر ہے میں جو بھی ہوں
ظاہر ہے نام سے یہ کہاں ہے وطن مرا
گلہائے رنگا رنگ کا گلدستۂ حسیں
اشعار سے عیاں ہے یہی ہے چمن مرا
سوزِ دروں، حکایتِ آشوبِ روزگار
اور ہے حدیثِ دلبری طرزِ کہن مرا
ویب سائٹوں پہ لوگ ہیں خوش فہمی کے شکار
نا آشنا وطن میں ہے رنگِ سخن مرا
ہوتا زمانہ ساز تو سب جانتے مجھے
کیا خوئے بے نیازی ہے دیوانہ پن مرا
برقی مرا کلام مرا خضرِ راہ ہے
کہتے ہیں لوگ آج یہ ہے حُسنِ ظن مرا

’’ پروانے ڈھونڈ ڈھونڈ کے لائی جدھر ملے‘‘ : دیا کے ۵۷ ویں آن لائن عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی




دیا کے ۵۷ ویں آن لائن عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
میری ہی طرح وہ مجھے شوریدہ سر ملے
مجھ کو رہِ حیات میں جو ہمسفر ملے
منھ موڑ کر گذر گئے وہ مجھ کو دیکھ کر
میں نے انھیں سلام کیا وہ جدھر ملے
لگتا ہے ان سے شمع کو ہے ایک ربطِ خاص
’’ پروانے ڈھونڈ ڈھونڈ کے لائی جدھر ملے‘‘
جن کے لئے ہیں دیدہ و دل میرے فرشِ راہ
آئیں نہ آئیں ان کی مجھے ہر خبر ملے
کیوں بدگماں ہیں مجھ سے بتائیں تو وہ سہی
پوچھوں گا میں یہ ان سے دوبارہ اگر ملے
در اصل ان کو خود تھی ضرورت علاج کی
ذہنی مریض تھے جو مجھے چارہ گر ملے
ہیں جو زمانہ ساز رہیں مجھ سے دور وہ
مجھ سے ملے خلوص سے کوئی اگر ملے
زد پر تھا برق و باد کی گلزارِ زندگی
دامن دریدہ باغ میں برگ و شجر ملے
دم گُھٹ رہا ہے پینے سے ہر وقت جامِ زہر
تازہ ہوا تو شہر میں شام و سحر ملے
اپنے حصارِ زیست میں محصور ہیں سبھی
ذہنی سکوں بتاؤ تمھیں اب کدھر ملے
جب بھی دیارِ شوق سے میرا گذر ہوا
خانہ بدوش لوگ وہاں در بدر ملے
اک دردِ سر ہے میرے لئے یہ شبِ فراق
سب نالہ ہائے نیم شبی بے اثر ملے
مدعو جہاں تھا اہلِ سیاست کی بزم میں
انساں نما وہاں پہ کئی جانور ملے
دنیائے رنگ و بو میں رہیں سب سکون سے
ہر شخص کو چھپانے کو سر، ایک گھر ملے
برقی کی فضلِ حق سے دعا ہو یہ مستجاب
دل دل سے اور اُن کی نظر سے نظر ملے

قوس قزح کی بزم ہے آؤ غزل کہیں احمد علی برقی اعظمی




قوس قزح کی بزم ہے آؤ غزل کہیں
احمد علی برقی اعظمی
اے جانِ جاں کہاں ہو تم آؤغزل کہیں
قول و قسم تم اپنا نبھاؤ غزل کہیں
رخ سے ذرا نقاب ہٹاؤ غزل کہیں
ناز ونیاز اپنے دکھاؤ غزل کہیں
اوراق منتشر ہیں کتاب حیات کے
آکر انہیں دوبارہ سجاؤ غزل کہیں
مدت سے ہے خموش یہ مضراب ساز دل
تم آکے اس پہ ضرب لگاؤ غزل کہیں
افسانۃ حیات کا عنواں ہو تم مرے
میری سنو اور اپنی سناؤ غزل کہیں
گُل ہو نہ جائے میری کہیں شمعِ آرزو
لو اس کی آکے اور بڑھاؤ غزل کہیں
کب تک یونہی اُداس رہے گا دلِ حزیں
خوابیدہ حسرتوں کو جگاؤ غزل کہیں
کب تک یونہی گزارے گا بے کیف زندگی
برقی کے ساتھ جشن مناؤ غزل کہیں

خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو طرحی غزل نذر میر انیس احمد علی برقی اعظمی


خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
طرحی غزل نذر میر انیس 


احمد علی برقی اعظمی
بناکے تختۂ مشقِ ستم زمینوں کو
نہ کردیں ختم مکانوں سے وہ مکینوں کو
ہمیشہ زد مین ہے طوفاں کی اپنی کشتیٔ عمر
بچائیں کیسے تلاطم سے اِن سفینوں کو
نہ اپنے غمزہ و ناز و ادا پہ اِترائیں
بتادے کاش کوئی جاکے اِن حسینوں کو
ہے اب بھی وقت وہ اُٹھ جائیں خوابِ غفلت سے
’’ خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو‘‘
ذرا سی ٹھیس لگے گی تو ٹوٹ جائیں گے
رکھیں سنبھال کے وہ دل کے آبگینوں کو
ذلیل و خوار ہیں جن کو جہاں میں چھوڑ کے وہ
کہو وہ سیکھ لیں اب بھی اُنھیں قرینوں کو
سبھی نے پھیر لیں آنکھیں زوال کیا آیا
نہ جانے ہو گیا کیا آج ہم نشینوں کو
دلوں پہ آج بھی جوں حکمراں ہیں لوگوں کے
نہ سمجھیں ہیچ وہ اِن بوریا نشینوں کو
کبھی جو دیکھ کے برقی کو خوف کھاتے تھے
چڑھائے پھرتے ہیں ہر وقت آستینوں کو

تمام شد : احمد علی برقی اعظمی



ناپید ہے اب امن و اماں میرے مکاں میں :کنج ادب انٹرنیشنل کے ساتویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی




  

کنج ادب انٹرنیشنل کے ساتویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
ناپید ہے اب امن و اماں میرے مکاں میں
آسیب زدہ سب ہیں وہاں میرے مکاں میں
مِل جُل کے جہاں رہتے تھے آپس میں سبھی لوگ
ہر ہاتھ میں ہے تیر و کماں میرے مکاں میں
ہیں پیر و جواں گردشِ حالات سے نالاں
ایسا تو نہ تھا پہلے سماں میرے مکاں میں
وحشت زدہ ہر شخص ہے ہمسائے سے اپنے
ہر ذہن میں ہے وہم و گماں میرے مکاں میں
یہ سوزِ دروں مجھ کو کہیں مار نہ ڈالے
ہے سامنے آنکھوں کے دھواں میرے مکاں میں
ہیں مغربی تہذیب کے آثار نمایاں
ہر شخص کی چلتی ہے زباں میرے مکاں میں
ہیں خانۂ دل کے در و دیوار شکستہ
برقی نہیں اب تاب و تواں میرے مکاں میں