Waseem Ahmad Saeed in conversation with Prof. Anisur Rahman at Rekhta St...

اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام کو خراج تحسین - 08 فروری 2019 بشکریہ سحر ٹی وی ایران

Glimpses of A Function Organized by Iran Culture House New Delhi In Connection With 40th Anniversary Of Revolution Of Islamic Republic of Iran









Glimpses of A Function Organized by Iran Culture House New Delhi In Connection With 40th Anniversary Of Revolution Of Islamic Republic of Iran

اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام کو خراج تحسین - 08 فروری 2019 بشکریہ سحر ٹی وی




ہے سحر ٹی وی کی یہ اک   روح پرور پیشکش
مستحق ہے داد  کا  شمشاد کا حسنِ بیاں
پیش کرتا ہوں مبارکباد میں اس کی انھیں
ان کا یہ حسنِ عمل ہو کامیاب و کامراں
احمد علی  برقی اعظمی





حضرت امیر خسرو دہلوی کی ایک فارسی غزل کا منظوم اردو مفہوم ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی بشکریہ شعرووسخن ڈاٹ نیٹ کناڈا



حضرت امیر خسرو دہلوی کی ایک فارسی غزل کا منظوم اردو مفہوم
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
ابرباراں میں ہے اب مجھ سے مرا یار جدا
کیا کروں ایسے میں جب مجھ سے ہو دلدار جدا
چھوڑ کر جاتا ہے بارش میں مجھے یار مرا
میں الگ روتا ہوں روتا ہے الگ یار جدا
باغ سرسبز ہے، موسم ہے حسیں ، سبزہ جواں
رہتے ہیں ایسے میں اب بلبل و گلزار جدا
تونے کررکھا تھا زلفوں میں گرفتار مجھے
کردیا کیوں مجھے اس بند سے یکبار جدا
چشمِ پُرنَم مری خونبار ہے یہ تیرے لئے
تجھ سے رہ سکتا نہیں دیدۂ خونبار جدا
کیا کروں گا میں یہ اب آنکھ کی نعمت لے کر
مجھ سے ہوجائے گی جب نعمتِ دیدار جدا
درمیاں آنکھوں کے ہیں سیکڑوں پردے حائل
لوٹ آ جلد تو اور کردے یہ دیوار جدا
جا ن دے دوں گا اگر چھوڑ کے تو مجھ کو گیا
تجھ میں ہے جان مری مجھ سے نہ ہو یار جدا
حسن باقی نہ رہے گا ترا خسروؔ کے بغیر
گل سے ہرگز نہیں رہ سکتا ہے گلزار جدا

فارسی غزل حضرت امیر خسرو دہلوی
امیرخسرو دهلوی » دیوان اشعار » غزلیات
ابر می بارد و من می شوم از یار جدا
چون کنم دل به چنین روز ز دلدار جدا
ابر و باران و من و یار ستاده به وداع
من جدا گریه کنان، ابر جدا، یار جدا
سبزه نوخیز و هوا خرم و بستان سرسبز
بلبل روی سیه مانده ز گلزار جدا
ای مرا در ته هر موی به زلفت بندی
چه کنی بند ز بندم همه یکبار جدا
دیده از بهر تو خونبار شد، ای مردم چشم
مردمی کن، مشو از دیده خونبار جدا
نعمت دیده نخواهم که بماند پس از این
مانده چون دیده ازان نعمت دیدار جدا
دیده صد رخنه شد از بهر تو، خاکی ز رهت
زود برگیر و بکن رخنه دیوار جدا
می دهم جان مرو از من، وگرت باور نیست
پیش ازان خواهی، بستان و نگهدار جدا
حسن تو دیر نپاید چو ز خسرو رفتی
گل بسی دیر نماند چو شد از خار جدا





Poetic Compliments Of Ahmad Ali Barqi Azmi In Persian On 40th Anniversary Of Islamic Republic Of Iran

Justice Aftab Alam Speaks in Prize Distribution Function Of Delhi Urdu Academy For The Selected Books 2013

بزمِ سخنوراں کے ۱۵۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی





بزمِ سخنوراں کے ۱۵۶ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
دیکھنے میں شعلہ ہے اور کبھی وہ شبنم ہے
جب سے اُس کو دیکھا ہے اک عجیب عالم ہے
منتشر نہ ہوجائے زندگی کا شیرازہ
تھا جو جانِ جاں میری آج مجھ سے برہم ہے
کردیا مجھے برباد جس کی بیوفائی نے
پوچھتا ہے وہ مجھ سے تجھ کو کون سا غم ہے
جو کبھی نہیں کرتا میری پرسشِ احوال
میرے اس کی دلجوئی زخمِ دل کا مرہم ہے
حالِ دل کی جو میرے کررہی ہے غمازی
مثلِ ابرِ باراں وہ میری چشمِ پُرنَم ہے
ہے وہ مُفسدِ دوراں آج ایک درپردہ
صلح کا لئے اپنے ہاتھ میں جو پرچم ہے
یاد ہے مجھے برقیؔ اب بھی اس کی سرگوشی
اُس کی نقرئی آواز سازِ دل کا سَرگم  ہے

Ek Jashn e Bawaqar Hai 26 January By Ahmad Ali Barqi Azmi Recited by Maulana :Inamullah Sabah Courtesy:Love Islam Channel





Ek Jashn e Bawaqar Hai 26 January By Ahmad Ali Barqi Azmi Recited by Maulana :Inamullah Sabah
Courtesy:Love Islam Channel
Hai yeh Love Islam Channel ki Khsoosi peshkash
Mustahaq hai daad ka lahn e Inamullah Sabah

Pesh karta hooN unheiN is ke liye maiN tahniyat
Qaem o dayam rahe un ka hamesha izz o jaah

De jaza e khair unheiN is ke liye Parwardigar
Hind ki azmat ki hai yeh peshkash unki gawaah
Sepaas Guzaar
Ahmad Ali Barqi Azmi

Ahmad Ali Barqi Azmi Reciting His Ghazal In Literary Meet Of Alhikmah Foundation In Zakir Nagar New Delhi

سپہرِ شعر پہ روشن ہے آفتابِ سخن ڈاکٹر سیدہ عمرانہ نشتر خیرآبادی اٹلانٹا، امریکا




سپہرِ شعر پہ روشن ہے آفتابِ سخن
ڈاکٹر سیدہ عمرانہ نشتر خیرآبادی اٹلانٹا، امریکا
میرے نوکِ قلم میں اتنا توسلیقہ اور شعور نہیں ہے کہ میں جناب ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کی عظیم شخصیت اور شعورِ فکر و فن کو بخوبی صفحۂ قرطاس پر قلمبند کر سکوں لیکن میں یہ ضرور چاہوں گی کہ اُن کی اعلٰی ذات و صفات ، فن و شخصیت، ان کے وسعتِ قلب کی عظمتوں، اُن کے کردار کی اونچائیوں ، اوراُن کے قلم کی خوبیوں کو حُسنِ صداقت کے ساتھ آپ کے سامنے بیان کر سکوں۔ اللہ مددگار ہے وہ حقدار کو اُس کا حق دلوا ہی دیتا ہے۔ اعظم گڈھ کی سرزمیں کئی گہرہائے نایاب کی پروردہ رہی ہے۔کسی مبارک گھڑی اسی سرزمین نے ایک بیش قیمت ہیرا رحمت الٰہی برقؔ اعظمی جیسے علم و دانش کے سکندر، ایک باکمال جوہری کی نذر کیا جسے انھوں نے اپنے دستِ مبار ک سے تراش خراش کے اردو ادب کے خزانے کو سونپ دیا۔ اس کوہ نور ہیرے کی چمک دمک اور آب و تاب کو دیکھ کر اربابِ بصیرت کی آنکھیں چوندھیاگئیں۔دورِ حاضر کے اہلِ قلم سکتے میں آگئے۔ اردو ادب کے بڑے بڑے شہسوار انگشت بدنداں رہ گئے۔ اس کوہِ نور کی چمک ملک کی آہنی دیواروں کو پار کرتی ہوئی بیرونی ملکوں میں جا پہنچی اور ہر اہلِ دل اور اہلِ قلم اس سے متاثر اور مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔پھراس کی چمک اور آب و تاب کے چرچے ہر زبان پر ہونے لگے۔ یہ نایاب کو ہ نور ہیرا کوئی اور نہیں عہدِ حاضر کے عظیم شاعر ہمارے جانے پہچانے ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی صاحب ہیں۔ ڈاکٹر برقیؔ اعظمی صاحب سے میری ملاقات کبھی اور کہیں نہیں ہوئی ۔ میں نے اُن کے فن اور شخصیت کو جو بھی سمجھا ہے اُن کے وسیع اور بہترین کلام کی گہرایؤں میں اُتر کر سمجھا ہے۔ اردو ادب کے فلک پر سیکڑوں شمس و قمر اپنی چمک دمک کے ساتھ جگمگا رہے ہیں۔اور کائناتِ ادب میں اپنی لطیف چاندنی بکھیر رہے ہیں۔ لیکن جب ہم ڈاکٹر برقی اعظمی کے دلنشیں اور دلکش کلام ’’ روح سخن‘‘ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ صبح ہو گئی۔اور آسمان سخن پر چمک رہا ہے ایک آفتاب تنہاجس کی برقی شعائیں زندگی کے ہر پہلو ،حیات و کائنات کے ہر موضوع، دورِ حاضر کے ہر تقاضے انسانیت، محبت امن اور شانتی جیسے اعلی جذبوں ، قوم و ملت کی دکھتی رگوں، مذہب کی اٹھی ہوئی گھٹاؤں ، دین و ایمان کی پرنور برستی بارشوں اور سائنس و ٹکنولوجی کی فلک بوس عمارتوں کو اُجاگر کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر برقی اعظمی کی اردو ادب میں آمد ایک خوشگوار واقعہ ہے۔خزاں کے دور کے بعد جب بہار آتی ہے تو کیا لگتا ہے۔ اُن کی مبارک آمد پر کچھ ایسا ہی ہوا۔ اردوا ادب کا چہرہ فخر اور خوشی سے کِھل اُٹھا ۔ اردو کی انجمنیں لہکنے اور مہکنے لگیں۔ اردو زبان پر جیسے نکھار آ گیا۔ شعر و سخن میں جیسے زندگی آگئی۔اردو زبان کی ڈوبٹی نبضوں کو جیسے حیاتِ نو مل گئی۔ تشنگانِ ادب کو جیسے قرارآ گیا۔ شعرو سخن کے اس تاجدار کی اردو ادب میں جب تاجپوشی ہوئی تو میرؔ ، غالبؔ ، داغؔ ، فانیؔ ، اقبالؔ جگرؔ ، جوشؔ ، فیضؔ اور احمد فرازکی روحوں کو جیسے وجد آگیا۔ وہ سجدۂ شکر بجا لائیں اور اپنے اس فرزندِ عظیم کے لئے دعاگو ہو کر بصد شکر جھوم اُٹھیں۔ کوئی تو ہے جو ان کی وراثت کو آگے بڑھا رہا ہے۔کوئی تو ہے جو شعر و سخن کے جسم میں روح واپس لوٹا رہا ہے۔کوئی تو ہے جو اردو ادب میں قوس قزح کا رنگ بھر رہا ہے۔کوئی تو ہے جو مرحومین ادیبوں ، شاعروں اور فنکاروں کی میتوں پر آنسو بہا رہا ہے۔ کوئی تو ہے جو اُن کی تُربتوں پر دعائے مغفرت کے ساتھ اپنے اشعار کے گُلہائے عقیدت چڑھا رہا ہے۔ کوئی تو ہے جو ان بے چراغ اور بے پھول قبروں پر یادوں کے دئے جلا رہا ہے۔حضرت رحمت الٰہی برقؔ اعظمی صاحب کی روحِ مبارک اپنے اس نیک دل فرزند کی اقصائے عالم میں توقیر دیکھ کر خوشی اور فخر سے جھوم رہی ہوگی۔ ڈاکٹر برقیؔ اعظمی کا کلام دلنشیں ’’ روح سخن ‘‘ سخن کی روح تو ہے ہی اُن کی فکری و فنی صلاحیتوں کا نچوڑ بھی ہے۔اُن کے خوابوں کی تعبیر ہے۔اُن کی کائناتِ حُسن کی تصویر ہے۔ ان کی دولتِ عشق کی جاگیر ہے۔ اُن کا سرمایۂ حیات ہے۔یہ وہ گلستان سخن ہے جہاں خزاں آتی ہی نہیں۔ اپنے مجموعۂ کلام کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
مجموعۂ کلام ہے ’’ روح سخن‘‘ مرا
 پیشِ نظر ہے جس میں یہاں فکر و فن مرا
 گلہائے رنگا رنگ کا گلدستۂ حسیں
 ٓاشعار سے عیاں ہے یہی ہے چمن مرا
 یہ عظیم شاعر توقیر کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے بھی اپنے والدِ گرامی حضرت رحمت الٰہی برقؔ اعظمی کے احترام میں اپنے فرائضِ فرزندگی سے سبکدوش نہیں ہوتا اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ اپنے طاقِ دل میں اُن کی یاد کا چراغ جلائے حقِ فرزندگی ادا کرتے ہوئے لکھتا ہے:
 میرے والد کا نہیں کوئی جواب
 جو تھے اقصائے جہاں میں انتخاب
ان کا مجموعہ ہے ’’ تنویرِ سخن‘‘
جس میں حُسنِ فکر و فن ہے لاجواب
 ایک اور جگہ ڈاکٹر برقیؔ اعظمی صاحب فرماتے ہیں:
 آج میں جو کچھ ہوں وہ ہے ان کا فیضانِ نظر
 اُن سے ورثے میں ملا مجھ کو شعورِ فکر و فن
 اپنے وطن پر فخراورناز کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
 شہر اعظم گڈھ ہے برقیؔ میرا آبائی وطن
جس کی عظمت کے نشاں ہیں ہر طرف جلوہ فگن
 اپنے بارے میں وہ فرماتے ہیں :
 میرا سرمایۂ حیات ہے جو
وہ ہے میرے ضمیر کی آواز
 ڈاکٹر برقیؔ اعظمی صاحب کا بہترین اور ضخیم مجموعۂ کلام ’’ روح سخن‘‘ ادب کی دنیا میں شان کے ساتھ جلوہ فگن ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ گلدستۂ سخن ہے جس میں رنگ رنگ کے پھول مہک رہے ہیں ۔ بارشِ انوار میں نہائی ہوئی اُن کی حمدیں حسنِ ایمان کے ساتھ قارئین کے دل میں اُتر جاتی ہیں۔ اللہ کی بارگاہ میں وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ اپنے جذبات کا نذرانہ پیش کرتے ہیں:
میں شکر ادا کیسے کروں تیرے کرم کا
’’ حقا کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا‘‘
طوفانَ حواث میں ہے برقیؔ کا سفینہ
کر سکتا ہے اب توہی ازالہ مرے غم کا
 ایک اور جگہ ڈاکٹر برقیؔ صاحب فرماتے ہیں:
 اے خدا تو نے زندگی بخشی
کیف و سرمستی و خوشی بخشی
 تیرا منت گذارہے برقیؔ
جس کے نغموں کو نغمگی بخشی
 عشقِ نبیﷺسے سرشار ان کا نعتیہ کلام کیف حضوری کی بہترین مثال ہے:
 نبی کی ذات زینت بن گئی ہے میرے دیواں کی
انہیں کا نور ہے جو روشنی ہۂ بزمِ امکاں کی
 وہی ہیں شان میں جن کی ہے ورفعنا لَکَ ذکرک
 ثناخواں اُن کی عظمت کی ہر اک آیت ہے قرآں کی
ثنائے رسالت مآب میں ایک اور جگہ ڈاکٹر برقیؔ اعظمی لکھتے ہیں:
 کیا کوئی کرے شمعِ رسالت کااحاطہ
 ممکن نہیں اس نور کی عظمت کا احاطہ
غزل کے بارے میں برقی صاحب کے خیالات بہت جامع اور واضح ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
 احساس کا وسیلۂ اظہار ہے غزل
 آئینہ دار ندرتِ افکار ہے غزل
 اردو ادب کو جس پہ ہمیشہ رہے گا ناز
اظہارِ فکر و فن کا وہ معیار ہے غزل
 آتی ہے جس وسیلے سے دل سے زبان تک
 خوابیدہ حسرتوں کا وہ اظہار ہے
غزل برقیؔ کے فکر و فن کا مرقع اسی میں ہے
 برقؔ اعظمی سے مطلعِ انوار ہے غزل
حسن و عشق ڈاکٹر برقیؔ اعظمی کے کلام کا نہایت وسیع اور دلکش موضوع ہے۔رنگ و نور میں نہائی برقیؔ اعظمی کی گُل چہرہ غزلیں اردو ادب میں نہایت اہم اور معتبر مقام رکھتی ہیں۔اُن کے کلام سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:
بات ہے ان کی بات پھولوں کی
ذات ہے اُن کی ذات پھولوں کی
 وہ مجسم بہار ہیں اُن میں
 ہیں بہت سی صفات پھولوں کی
 کچھ اور خوبصورت اشعار دیکھئے:
 ہیں اُس کے دستِ ناز میں دلکش حنا کے پھول
اظہارِ عشق اُس نے کیاہے دکھا کے پھول
پاکیزگئ نفس ہے آرائشِ خیال
 ہیں آبروئے حُسن یہ شرم و حیا کے پھول
 پھولے پھلے ہمیشہ ترا گلشنِ حیات
میں پیش کررہا ہوں تجھے یہ دعا کے پھول
 برقیؔ ہے بے ثبات یہ دنیائے رنگ و بو
دیتے ہیں درس ہم کو یہی مسکرا کے پھول
 جذبۂ عشق کو برقیؔ صاحب کے کلام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔
عشق ہے در اصل حُسنِ زندگی
 عشق سے ہے زندگی میں آب و تاب
 اشکوں کی سیاہی سے لکھی ہوئی برقیؔ صاحب کی زار زار عشقیہ غزلیں اردو ادب کا ایک بہترین سرمایہ ہیں۔پڑھنے والوں کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شبِ فراق ہے۔تنہائی ہے۔اندھیرا ہے۔ اُداسی ہے۔چراغِ دل ٹِمٹما رہاہے۔یوں محسوس ہوتا ہے آسمان میں ماہتاب چمک رہا ہے۔ جوشِ جنوں اسے پانے کے لئے بیتاب در بدر پھر رہا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے زندگی کی ریل گاڑی نا معلوم منزل کی طرف چلی جا رہی ہے اور یادوں کا ایک ہجوم ہے جو ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے صحرا کی وسعتوں میں جلتی ہوئی ریت پر کوئی برہنہ پا جانا جاناں پکارتا بھٹک رہا ہے۔ نفرتوں کی جنگ پوری دنیا لڑ رہی ہے۔اُس ے متاثر ہو کر حساس شاعر کا دل دنیا کے تمام مذاہب و ملت کے لوگوں کو پیامِ محبت سنا رہا ہے۔ ڈاکٹر برقیؔ صاحب کے کچھ اشعاراس سلسلے میں ملاحظہ فرمائیں۔
 امن عالم کی فضا ہموار ہونا چاہئے
 ’’ آدمی کو آدمی سے پیار ہونا چاہئے‘‘
 جب ہم ڈاکٹر برقیؔ اعظمی کے کلام کا بنظر دقیق تجزیہ کرتے ہیں توہمیں زبان اور بیان کی بہت سی خوبیاں اس میں نظر آتی ہیں جو اُن کی دلکش تحریروں کو حُسن بخشتی ہیں۔اُن کے چہکتے ہوئے ردیف اور قافیے ، اُن کی حیران کر دینے والی تشبیہات اور استعارے، اوراُن کے دل کو چھونے والے محاورے بہت خوبصورتی کے ساتھ ان کے کلام میں استعمال ہوئے ہیں۔کچھ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
جس کو وہ پڑھتا رہے گا عمر بھر لکھ جاؤں
گا خط میں اس کے نام ایسا نامہ بر لکھ جاؤں گا
ایسا ہوگا میری اس تحریر میں سوز و گداز
موم ہو جائے گا پتھر کا جگر لکھ جاؤں گا
 اشک پلکوں پہ چمکتے ہیں ستاروں کی طرح
 میرا کاشانۂ دل اب ہے مزاروں کی طرح
یہاں اشک ستاروں کی طرح ، خانۂ دل مزاروں کی طرح اور پتھر کا جگر وغیرہ ان کی تشبیہات اور استعارں کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ میری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں وہ نظر آیا جب اک زمانے کے بعد برقیؔ کی اس کے سامنے کوئی گلی نہ دال جو گل اسے کھلانے تھے اس نے کھلا دئے یہاں محاورے جیسے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جانا ، گل کھلانا اور دال نہ گلنا محاورے ہیں جن کو بڑی خوبی کے ساتھاستعمال کیا گیا ہے۔ داکٹر برقیؔ اعظمی کی کائناتِ شاعری ’’ روحِ سخن‘‘ میں آسمان کی وسعتیں اور زمین کی عظیم شفقتیں ہیں۔ سمندر کی گہرائیاں ہیں۔ پہاڑوں کی بُردباری ہے۔ جنگلوں کی ضخامت ہے۔ سورج کی فراخدلی ہے۔ آبشاروں کی بے کلی ہے۔ برق کی تڑپ ہے۔ جھومتے درختوں کی لہک ہے۔ مہتاب کا حسن ہے۔ بہاروں کی رنگت ہے۔شبنم کے آنسو ہیں، کلیوں کی چٹک اور شوخی ہے،پھولوں کی رنگت ہے،بہاروں کی گونج ہے،تتلیوں کا ذوق و شوق ہے، صبح سویرے کا پرنور اُجالا ہے،تپتی دوپہروں کی تپش ہے،شامِ غم کی اُداسی ہے، سیاہ راتوں کی وحشتیں ہیں، شبِ فراق کی اشکباری ہے، اورعبادتگاہوں کی پاکیزگی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زندگی کے تمام رنگ، تمام موسم اور کائنات کے تمام حسن اُن کی شاعری میں بحسن و خوبی اُتر آئے ہیں۔دلکش اور خوش آہنگ ردیف و قافئے،دمکتی تشبیہات ، کہکشاں سی زباندانی سے منور یہ کلام اُن کی کاوشوں کا پھل ہے۔اُن کا سرمایۂ زیست ہے۔سخن کے اس شہنشاہ کی ہرغزل ایک حسین تاج محل لگتی ہے۔ ڈاکٹر احمد علی برقیؔ کا تخلیقی سفرخلوص اور محبت کے گیت گاتا ہوا نفرت کی دیواروں کو توڑتا ہوا،ملکوں کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا، انسانیت اور تہذیب کے وقار کو بڑھاتا ہوا، امن اور شانتی کا درس دیتا ہوا،حق کا پرچم اُٹھائے دورِ حاضر کے تقاضوں کوپورا کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔خداوند کریم انہیں شاد و آباد رکھے ۔ انہیں ہر قدم پر کامیابی اور کامرانی عطا فرمائے۔


Top of Form
Bottom of Form


Sardar Ali Admin Sherosokhan.net With Some Literary personalities of Delhi

رحمت الہی برق اعظمی حیات اور شاعری : ڈاکٹر افروز جہاں


رحمت الہی برق اعظمی حیات و شاعری : ڈاکٹر افروز جہاں

احمد علی برقیؔ اعظمی اور اُن کی شاعری عبدالحئی اسسٹنٹ ایڈیٹر، اُردو دُنیا، ’’فکر و تحقیق‘‘ اور ’’بچوں کی دُنیا‘‘ قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان، نئی دہلی






احمد علی برقیؔ اعظمی اور اُن کی شاعری
عبدالحئی
اسسٹنٹ ایڈیٹر، اُردو دُنیا،  ’’فکر و تحقیق‘‘ اور ’’بچوں کی دُنیا‘‘
قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان، نئی دہلی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کی سحرانگیز شخصیت ایسی ہے کہ جو بھی ان سے ایک دفعہ مل لے ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ ان سے پہلی ملاقات آل انڈیا ریڈیو میں مدن کے چائے خانے پر ہوئی تھی۔ شاید صبح کے سوا چھ بج رہے تھے۔ ان دنوں میں وہاں اُردو یونٹ میں Casual News Reader تھا۔ میرے یونٹ کے ایک سینئر ساتھی نے ان سے میرا تعارف کرایا۔ انھوں نے میری تعلیم کے متعلق پوچھا۔میں نے  جے۔ این۔ یو۔ کا نام لیا تو انھوں نے فرط مسرت سے گلے لگا لیا اور کہا کہ میں بھی جے۔ این۔ یو۔ کا طالب علم ہوں۔ انھوں نے اپنے تعلیمی دور کے کئی قصے بھی سنائے۔ مجھے اس دن ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ عام سا نظر آنے والا سادگی  پسند شخص مشہور و معروف شاعر برقیؔ اعظمی ہے۔ جو اپنے انداز و اظہار کا یکتا شاعر ہے۔ ان سے بعد میں بھی لگاتار ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ان کے شاعرانہ جوہر مجھ پر آشکارا ہونے لگے۔ احمد علی برقیؔ اعظمی کو موجودہ دور میں بلاشبہ عہدساز شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ان کی شاعری میں جہاں جدید شاعری کا عکس نظر آتا ہے وہیں کلاسیکی نقوش بھی واضح طور پر موجود ہیں۔ میرے خیال میں موجودہ عہد میں یہ واحد ایسے شاعر ہیں جو کسی بھی موضوع پر یا کسی بھی موقع محل کی مناسبت سے فی البدیہہ اشعار وضع کرسکتے ہیں۔ موضوعاتی شاعری اور مصرع طرح پر شعر موزوں کرنا بے حد مشکل کام ہے اور اس میں شاعر کو شاعری کے فن سے انصاف کرنے میں مشکل پیش آتی ہے لیکن احمد علی برقی اس معاملے میں قابل تعریف ہیں کہ ان کی شاعری فن کی سطح پر بھی کھری اترتی ہے۔
برقیؔ اعظمی کو شاعری اپنے والد رحمت الٰہی برقؔ اعظمی سے ورثے میں ملی ہے جو خود بھی بڑے شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی اُردو کے ساتھ ساتھ فارسی پر بھی دسترس رکھتے ہیں اور فارسی میں بھی عمدہ شاعری کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک خاص ندرت و جدت نظر آتی ہے۔ موضوع کلام، بحور و قوافی، موضوع و خیالات، منظر نگاری، تشبیہات و استعارات کا عمدہ استعمال ان کی شاعری کو انفرادی حیثیت دیتا ہے۔ اوزان اور بحور کے انتخاب میں بالغ نظری اور فنی پختگی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کے اشعار ان کی قادرالکلامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ عصری میلانات، نئی تازگی، والہانہ پن، سلاست روانی، الفاظ کا در و بست، اسلوب کی تازہ کاری وغیرہ ان کی شاعری کے امتیازی جوہر ہیں۔ شعر کو سنوارنے اور اسے خوبصورتی عطا کرنے کا    بے مثال فن انھیں آتا ہے۔
وہ ایک سدابہار اور ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ برقیؔ اعظمی کو نہ صرف شعر و ادب کی تمام اصناف حمد، نعت، قصیدہ، منقبت، غزل، نظم وغیرہ پر دسترس حاصل ہے بلکہ آج  وہ شاید واحد شاعر ہیں جو انٹرنیٹ اور سوشل سائٹس کی مدد سے دُنیا کے مختلف حصوں میں معروف و مقبول ہیں۔ انٹرنیٹ پر مختلف ادبی گروپوں کے ممبر ہیں۔ سائبر مشاعرے منعقد کرتے ہیں اور جدید ٹکنالوجی کی مدد سے تمام احباب و سخن شناس ان کے اشعار و قطعات سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔
انھوں نے موضوعاتی شاعری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ عظیم شخصیات کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کرنا ہو، کسی خاص دن پر شعر کہنا ہو، کوئی تہوار ہو، کوئی حادثہ، واقعہ ہو، کسی رسالے کا خاص شمارہ ہو، کوئی کتاب ہو، انھوں نے سبھی کو اپنے منظوم کلام میں سمو کر دوام عطا کیا ہے۔
ان کے مجموعہ کلام ’’روح سخن‘‘ میں حمد و نعت، غزلیں اور یاد رفتگاں کے عنوان کے تحت آرزوؔ لکھنوی، علامہ اقبالؔ، اصغرؔ گونڈوی، فیض احمد فیضؔ، ابن صفی، ابن انشا، مجازؔ، کیفیؔ، مجروؔح وغیرہ شعرا و ادبا پر منظوم خراجِ عقیدت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کچھ فارسی کلام بھی شامل ہیں۔ ’’روح سخن‘‘ کا سرسری طور پر مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوا کہ ان کے کلام میں روایتی و قدیم شاعری کا عکس موجود ہے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ اشعار تو ایسے ہیں جو ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں اور کئی دنوں تک ذہن میں گونجتے رہیں گے۔ ملاحظہ ہو…
کیا ملے گا اُجاڑ کر تم کو
دل کی دُنیا مرے بسی ہے ابھی
سکون قلب کسی کو نہیں میسر آج
شکست خواب ہے ہر شخص کا مقصد آج

کچھ نہ آئی کام میری اشک باری ہجر میں
سو صفر جوڑے مگر برقیؔ نتیجہ تھا صفر

وہ تو کہیے آ گیا احوال پرسی کے لیے
ورنہ اس کا ہجر تھا صبر آزما میرے لیے

رزم گاہِ زیست میں ہر گام پر خود سر ملے
راہزن تھے قافلے میں مجھ کو جو رہبر ملے

عمر بھر جن کو سمجھتا تھا میں اپنا خیرخواہ
آستینوں میں انھیں کی ایک دن خنجر ملے
المختصر یہ کہ احمد علی برقیؔ اعظمی موجودہ عہد کے ایک باصلاحیت اور باکمال شاعر ہیں۔ ’’روح سخن‘‘ کی اشاعت پر ڈھیر ساری مبارکباد، اُمید ہے کہ ان کا یہ مجموعہ کلام اُردو ادب میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرے گا اور اُردو ادب کے ناقدین بھی اس عظیم شاعر کی جانب مزید توجہ دیں گے۔
٭٭٭