بیاد یوم سر سید : احمد علی برقی اعظمی



بیادِ یوم سرسید
احمد علی برقی اعظمی
یاد رکھیں یومِ سرسید ہے آج
ہے دلوں پر اہل دل کے جن کا راج
آج ہی پیدا ہوا وہ عبقری
جس نے بدلا وقت کا اپنے مزاج
کرگئے پیدا وہ اک فکری نظام
ختم کرکے سارے فرسودہ رواج
عہد میں اپنے جہالت کے خلاف
تھی بلند اُن کی صدائے احتجاج
زندۂ جاوید ہیں اُن کے نقوش
کام ایسے کرگئے بے تخت و تاج
جن کے دل میں ملک و ملت کا ہے درد
ہیش کرتے ہیں انھیں اپنا خراج
قوم کے تھے وہ حقیقی رہنما
معترف ہے کام کا اُن کے سماج
عصرِ حاضر میں بھی برقی اعظمی
ہے ضرورت اُن کے ہوں سب ہم مزاج

Sanjiv Saraf - Founder Rekhta.org







بشکریہ : یو ٹیوب



شہرۂ آفاق اردو ویب سایٹ ریختہ ڈاٹ او آرجی کے بانی اور روح رواں جناب سنجیو صراف کی نذر
احمد علی برقیؔ اعظمی
مستحق اعزاز کے ہیں ایس صراف
ریختہ ہے جن کی منظورِ نظر
ہے یہ ویب سایٹ نہایت معتبر
اس لئے ہے مرجعِ اہلِ نظر
کارنامہ ہے یہ اک تاریخ ساز
ہے جو نخلِ علم و دانش کا ثمر
پیش کرتا ہوں مبارکبا د اسے
اس کا جلوہ ہر جگہ ہو جلوہ گر
ہو چکے ہیں اس کے اب تک چار جشن
جشن پنجم سے بھی سب ہوں بہرہ ور
جاری و ساری ہو اس کا فیض عام
اس کے ہوں مداح برقی دیدہ ور


Poetic Tribute Of Ahmad Ali Barqi Azmi To Sir Syed On His Birth Anniver...






یومِ سرسید کی مناسبت سے
منظوم خراج عقیدت
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ احمد علی اعظمی
قوم کے رہنما تھے سرسید
فخر دانشوراں تھے سرسید
خود میں اک انجمن تھی اُن کی ذات
شمعِ اردو زباں تھے سرسید
جس سے ہے ضوفشاں جہانِ ادب
ایسی اک کہکشاں تھے سرسید
پھونک کر روحِ زندگی اس میں
جسمِ ملت کی جاں تھے سرسید
وہ علی گڈھ ہو یا کہ غازیپور
ان کی روحِ رواں تھے سرسید
ہے رواں اُن کا ’’ چشمۂ رحمت ‘‘
ایک مدت جہاں تھے سرسید
اب بھی ہے جو رواں دواں ہرسو
ایسا اک کارواں تھے سرسید
اُن کو مانیں نہ مانیں بھارت رتن
شانِ ہندوستاں تھے سرسید
ویسے ہی ضوفشاں ہیں وہ برقیؔ 
جس طرح ضوفشاں تھے سرسید



SAB KARO BAS NIGHAE NAAZ CHURANE KE SIVA: Ghazal : Barqi Azmi Recited ...

SAB KARO BAS NIGHAE NAAZ CHURANE KE SIVA: Ghazal : Barqi Azmi Recited ...


وہ ساتھ رہ کے بھی اکثر نظر نہیں آتا :سخنداں ادبی فورم کے ۱۱ ویں آن لائن عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۴ کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی


سخنداں ادبی فورم کے ۱۱ ویں آن لائن عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۴ کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
وہ ساتھ رہ کے بھی اکثر نظر نہیں آتا
’’ بندھا ہو آنکھ سے صحرا تو گھر نہیں آتا‘

ہمیشہ رہتا ہے اب وہ مرے تصور میں
نہ تھا مجھے کوئی غم وہ اگر نہیں آتا

ہے اِرد گِرد مرے یوں تو حلقۂ یاراں
سکون قلب مجھے وہ مگر نہیں آتا

ہیں میرے دیدہ و دل فرشِ راہ جس کے لئے
کہاں ہے، لے کے خبر نامہ بر نہیں آتا

میں کرلوں چھاؤں میں آرام جس کی پَل دو پَل
دیارِ شوق میں ایسا شجر نہیں آتا

ہمیشہ کرتا تھا جو میری نازبرداری
بُلا رہا ہوں میں کب سے مگر نہیں آتا

گیا تو ایسا گیا پھر نہ لی خبر کوئی
وہ دردِ دل کا مرے چارہ گر نہیں آتا

بیاں میں کس سے کروں جاکے اپنا سوزِ دروں
نظر کوئی بھی سرِ رہگذر نہیں آتا

کہاں رہیں گے مظفر نگر کے خانہ بدوش
امیر شہر کو کیا کچھ نظر نہیں آتا

جو ہوگا وردِ زباں ہر کسی کے بعد از مرگ
مشاعروں میں وہی دیدہ ور نہیں آتا

پڑے ہیں گوشۂ عُزلت میں آج وہ برقی
زمانہ سازی کا جن کو ہُنر نہیں آتا

اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا : دیا ادبی فورم کے ۲۱۶ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۳ اکتوبر ۲۰۱۷ کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی





دیا ادبی فورم کے ۲۱۶ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۳ اکتوبر ۲۰۱۷ کے لئے میری کاوش

احمد علی برقی اعظمی
اُس سے آیا نہ گیا مجھ سے بھی جایا نہ گیا
وہ مجھے بھول گیا مجھ سے بُھلایا نہ گیا
نامہ بر لوٹ گیا دیکھ کے میری حالت
حالِ دل کیا تھا شبِ ہجر سنایا نہ گیا
اُس کے ہر وار کو سہتا گیا ہنس ہنس کے ، مگر
زخم جو تیرِ نظر کا تھا دکھایا نہ گیا
غمزہ و ناز و ادا اس کے تھے غارتگرِ ہوش
دیکھ کر ایک جھلک ہوش میں آیا نہ گیا
ہوگیا مُہر بَلب دیکھ کے اس کا جلوہ
پوچھتے رہ گئے سب لوگ بتایا نہ گیا
بن گیا ایسی محبت کی نشانی ، جیسا
پھر کوئی تاج محل ویسا بنایا نہ گیا
خونِ دل سے میں جلاتا رہا اس کو برقی
وہ چراغ شبِ دیجور بجھایا نہ گیا



Arif Barqi Jaunpuri Recites His Ghazal in Ghalib Academy New Delhi

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Urdu Poetry in Monthly Literary Meet Of Ghalib Academy New Delhi, India on 13th October 2018

Ahmad Ali Barqi Azmi Visits Jaipur And Ajmer Shareef Along With Family

’’ میں نے بس خواب سے محبت کی ‘‘ : انحراف ادبی گروپ کے ۳۶۸ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی



انحراف ادبی گروپ کے ۳۶۸ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی

ہم نے کی پیروی جہالت کی
حد بھی ہوتی ہے کوئی غفلت کی

کیوں کریں سب نہ اس کا استحصال
خود کمی جس میں ہوقیادت کی

تھی رذالت خمیر میں جس کے
اس سے امید کی شرافت کی

فکر تعبیر کی نہ تھی مجھ کو
’’ میں نے  بس خواب سے محبت کی ‘‘


خونِ ناحق ہے جس کے دامن پر

بات کرتا ہے مِہر و اُلفت کی

تب مِلا جاکے اقتدار سے
خونِ انساں کی جب تجارت کی

زہر سے اس کے خود نہ مَر جائے
فصل جو بورہا ہے نفرت کی

زد پر ہردم وجود ہے میرا
عہدِ حاضر کی اس سیاست کی

اس کا الزام میرے  سر آیا
جو کسی اور نے شرارت کی

کرکیا قطع رابظہ مجھ سے
چاہ میں اس نے مال و دولت کی

جس نے ایسا کیا اسے برقی
مِل رہی ہے سزا حماقت کی




ایک کلاسیکی غزل : نذرِ حضرت امیر مینائی احمد علی برقیؔ اعظمی



ایک کلاسیکی غزل : نذرِ حضرت امیر مینائی
احمد علی برقیؔ اعظمی
سَرَک رہی ہے اُس کی چِلمن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
شاید اب وہ دے گا درشن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
گَرَج رہا ہے بادل گھن گھن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
بجتی ہے اُس کی پایل جھن جھن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
بَرَس رہا ہے پیار کا ساون ، ماشا اللہ ماشا اللہ
ڈول رہا ہے جس سے تَن مَن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
چلتا پھرتا ہے میخانہ ، جس کی یہ چشمِ مستانہ
اُس کی صُراحی دار ہے گردن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
اپنے ہی حُسن پہ جیسے ہو شیدا، دیکھ رہا ہے جلوۂ زیبا
سامنے رکھ کر اپنے درپن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
مور کا رقص اُسے نہیں بھاتا ، اپنی چال پہ ہے اِتراتا
ناچ نہ جانے ٹیڑھا آنگن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
غنچہ و گل کی ہے یہ زباں پر ، سب ہیں فدا اُس سَروِ رواں پر
ذکر ہے اُس کا گلشن گلشن ، ماشا اللہ ماشا اللہ
برقیؔ ہے جس کا دیوانہ ، ہوکے فدا مثلِ پروانہ
مار نہ ڈالے اُس کی چِتَوَن ، ماشا اللہ ماشا اللہ


طرحی غزل برائے مشاعرہ بزم اردو قطر : احمد علی برقی اعظمی My Tarhi Ghazal for Monthly mushaira Bazm-e-Urdu Qatar 19th September 2014 at Allama Ibne Hajar Library


ایک زمین کئی شاعر مظفر احمد مظفر ( لندن ) احمد علی برقی اعظمی ( نئی دہلی) , بشکریہ ناظم ایک زمین کئی شاعر



ایک زمین کئی شاعر
مظفر احمد مظفر  ( لندن ) احمد علی برقی اعظمی ( نئی دہلی)
مظفر احمد مطفر
ہستیٔ موہوم کیف دوجہاں کچھ بھی نہی
جز ترے رنگینیٔ کون و مکاں کچھ بھی نہیں
اپنی ناکامی کامجھ پر کُھل گیا سرِ نہاں
اس جہاں میں حاصلِ عمرِ رواں کچھ بھی نہیں
عزمِ راسخ ہے تو منزل خود  پکارے گی تجھے
راہ کی تلخی شکستِ جسم و جاں کچھ بھی نہیں
فتنۂ غُربت اک ایسے دیس میں لایا جہاں
کوئی ہمدم ، مہرباں نا مہرباں کچھ بھی نہیں
ایک ایسی آگ خاکستر مجھے کرتی رہی
جاں جلاتی ہے مگر جس کا دھواں کچھ بھی نہیں
جان لے مری تڑپ سے شدتِ رمج و محن
ورنہ مجھ نخچیر بسمل کی زباں کچھ بھی نہیں
اب مجھے آزاد کرکے کیا ملا صیاد  کو
جب نظر کے سامنے کون و مکاں کچھ بھی  نہیں
ڈوب کر ساحل پہ ہم نے راز یہ جانا تو کیا
برلبِ  ساحل ہے طوفاں درمیاں کچھ بھی نہیں
اس قدرمشتِ غبارِ ذات پر نازاں نہ ہو
خاک کے  پُتلے سے بڑھ کر جسم و جاں چھ بھی نہیں
میں ترے کوچے سے اٹھ کر کیا گیا کہ اب  وہاں
کوئی سائل ہے نہ رقصِ نیم جاں کچھ بھی نہیں
شعر کہنا ہو تو ناظر سے لیا کر مشورے
صرف تیری شوخیٔ حسنِ بیاں کچھ بھی نہیں
رحم آیا دیکھ کر  حالت مظفر کی مجھے
میں پکار اٹھا مرا دردِ نہاں کچھ بھی نہیں



احمد علی برقیؔ اعظمی

کیا بتاؤں بنِ ترے اے جانِ جاں کچھ بھی نہیں

جسم و جاں میں اب مرے تاب و تواں کچھ بھی نہیں



تونہیں تو میرے یارِ مہرباں کچھ بھی نہیں

بِن ترے میرے لئے عمرِ رواں کچھ بھی نہیں


میری نظروں میں وہ سنگ و خشت کا انبار ہے
تو نہ ہو جس میں مکیں ایسا مکاں کچھ بھی نہیں

کس قدر صبر آزما ہے مجھ کو تیرا انتظار
اس سے بڑھ کر زندگی میں امتحاں کچھ بھی نہیں

سایہ گُستر ہے یہ مجھ پر زندگی کی دھوپ میں
تیری زلفوں کا نہ ہو گر سائباں کچھ بھی نہیں

تجھ سے روشن ہے مری شمعِ شبستانِ حیات
تیرے آگے روشنئ کہکشاں کچھ بھی نہیں

یہ جہانَ آب و گِل میرے لئے بیکار ہے
’’جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں ‘‘

گر نہ ہو ذہنی سکوں ایسے میں برقیؔ اعظمی
مال و دولت ، عیش و عشرت ، عز و شاں کچھ بھی نہیں