اُردو میں ادبی صحافت اور اس کے زوال کے موضوع پرنقاد اور مترجم حقانی القاسمی سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت بشکریہ : دی وائر



 ویڈیو: کیا اردو میں ادبی
صحافت زوال پذیر ہے؟

اُردو میں ادبی صحافت  اور اس کے زوال کے موضوع پرنقاد اور مترجم
حقانی القاسمی سے فیاض احمد وجیہہ کی بات چیت

بشکریہ : دی وائر
منظوم تاثرات : احمد علی برقی اعظمی
ہے یہ اک اردو صحافت کا خصوصی تجزیہ

جس پہ حقانی کا ہے یہ سیر حاصل تبصرہ

ہے دی وائر پر یہ ادبی گفتگو بیحد مفید

دیکھ کر یہ ویڈیو مجھ کو بہت اچھا لگا

جس سے انٹریو ہے یہ اک شخصیت ہے عبقری

عہدِ نو میں جس
کا ہے سب سے فزوں تر مرتبہ


اس کے رشحاتِ قلم
تھے استعارہ میں عیاں


اہلِ اردو کے لئے
تھا جو نویدِ جانفزا


اس سے بہتر کیا
کرے گا اور کوئی گفتگو


کردیا حقانی نے
جو فرض تھا ان کا ادا


’’ قدر گوہر شاہ
داند یا بداند جوہری‘‘


میں دی وائر کا
ادا کرتا ہوں بیحد شکریہ


سپاسگذار

احمد علی برقی
اعظمی




غزل: نذر حسرت موہانیؔ
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہم نہیں بھولے ابھی تک وہ فسانہ یاد ہے
ؔ ؔ ؔ ؔ ’’ ہم کو اب تک عاشقی کا زمانہ یاد ہے ‘‘
لوحِ دل پر آج بھی ہیں نقش یادوں کے نقوش
کرکے وعدہ اور نہ آنے کا بہانہ یاد ہے
شوخئ رفتار اور گفتار بھی ہے ذہن میں
تیری دُزدیدہ نگاہی کا نشانہ یاد ہے
چھاؤں تھی جس کی سکونِ دل کا باعث جو کبھی
تیری زلفوں کا وہ دلکش شامیانہ یاد ہے
تھا نشاط و کیف کا سامان جو میرے لئے
روح پرور اور سنجیدہ ترانہ یاد ہے
ہے مشامِ جاں معطر آج بھی اس سے مری
گلشنِ ہستی میں تیرا گُل کھلانا یاد ہے
تھا نشاط روح تیرا ہر عمل میرے لئے
تیرا آ آ کر وہ خوابوں میں ستانا یاد ہے
میں ترا طرزِ تغافل بھی کبھی بھولا نہیں
میرا وہ صبر و تحمل آزمانا یاد ہے
آج جو ویراں ہے وہ پہلے کبھی آباد تھا
خانۂ دل میں مرے تیرا ٹھکانہ یاد ہے
مُرتَعِش ہو جاتا تھا جس سے مرا تارِ حیات
تیرا زیرِ لب مجھے وہ مُسکرانا یاد ہے
عشوہ و ناز و ادا تیرے ہوں جیسے کل کی بات
چال مجھ کو اب بھی تیری شاطرانہ یاد ہے
تیرا وہ مجھ پھیر لینا دیکھ کر اکثر مجھے
پُشت پر جیسے ہو کوئی تازیانہ یاد ہے
مُندمِل ہوتا نہیں ہے زخمِ دل یہ کیا کروں
تیری اب بھی وہ نگاہِ قاتلانہ یاد ہے
رنگِ حسرتؔ ؔ اور جگرؔ میں کیا لکھے کوئی غزل
اہلِ دل کو اُن کا حُسنِ شاعرانہ یاد ہے
آج بھی بھولا نہیں ہے کچھ بھی برقیؔ اعظمی
تیرا جانا یاد ہے میرا بُلانا یاد ہے

تبصرہ ’’ صریر خامہ ‘‘ صاحبہ شہریار ( شعری مجموعہ ) مبصر : فاروق ارگلی

‘‘تبصرہ ’’ صریر خامہ 
صاحبہ شہریار ( شعری مجموعہ ) 
مبصر : فاروق ارگلی
عہدِ حاضر کی ایک قادرالکلام اور خوش فکر شاعرہ کی حیثیت سے محترمہ صاحبہ شہریار کا نام نامی محتاجِ تعارف نہیں۔ گذشتہ دو عشروں کے دوران اردو کے شعری افق پر نمایاں ہونے والی شاعرات کی صف میں صاحبہ کو خاصا اہم مقام حاصل ہے۔اب تک اُن کے چار خوبصورت شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔برگِ چنار ، شاخِ لرزاں ، آگہی کا درد اور صریر خامہ کو ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی اور پسندیدگی حاصل ہوئی ہے۔صریر خامہ صاحبہ شہریار کا تازہ ترین مجموعہ ہے جو ابھی حال ہی میں اشاعت پذیر ہوا ہے۔ ان کے اس شعری مجموعے کو ان کے سابقہ مجموعوں کی طرح ارباب فکر ونظر نے نسائی ادب میں قابلِ قدر اضافہ قرار دیا ہے۔لیکن اس جگہ یہ عرض کرنا ناگزیر ہے کہ بحیثیت شاعرہ اردو دنیا میں صاحبہ کو دوسری مشہور و معروف ہم عصر شاعرات کی طرح عوامی شہرت حاصل نہیں ہوئی جس کی وہ مستحق ہیں ۔اس کی وجہ بھی بیحد خاص ہے۔ در اصل صاحبہ ایسی محفلوں اور مشاعروں میں شرکت نہیں کرتیں جہاں عام سامعین کا مجمع ہواور شاعرات شعرا کے ساتھ اسٹیج پر اپنا کلام سناتی ہیں۔صاحبہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ، سلیقہ شعار اور باحیا مشرقی خاتون خانہ ہیں ۔انہوں نے اس حد تک اپنے خاندانی اور سماجی وقار اور روایات کی پاسداری کی ہے کہ اپنے شعری مجموعوں تک میں اپنی تصویر شایع نہیں کرائی ۔صاحبہ نے اپنی شاعری اور تخلیقی ریاضت کو اپنی زبان اور تہذیب سے والہانہ لگاؤ ، ذوق و شوق اور اپنے جذبات و احساسات کے ذاتی وسیلے تک محدود رکھا ہے۔شعر و ادب کا یہ ذوق و شوق انھیں اپنے بزرگوں سے ورثہ میں ملا ہے۔ اردو زبان سے محبت ، لہجے کی سلاست اور فصاحت انھیں اپنے اہلِ علم گھرانے سے حاصل ہوئی ہے۔ان کے والد جناب مہندر رینا کشمیر کے معروف شاعر ، ادیب، صحافی اور دانشور تھے ۔ ان کی پرورش وادئ کشمیر کی کی حسین و جمیل وادیوں میں ہوئی، علمی ادبی ماحول میں ہوش سنبھالا اور شعرو ادب کے ماحول میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ موزوں طبع تھیں لہذا اوائلِ عمر سے ہی شعر کہنے لگیں۔ ذہن و شعور کی پختگی کے ساتھ ساتھ فنی ریاضت بھی بالیدہ ہوتی گئی۔خوش نصیبی سے شریک حیات جناب فیاض شہر یار بھی نہایت اعلیٰ علمی و ادبی ذوق کے مالک ہیں ۔ در اصل شہریار صاحب ہی ان کے پہلے سامع ، ناقد اور مشیر سخن ہیں سو کلام کو نکھرنا ہی تھا۔زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں اور گِردوپیش کی زندگی کے مشاہدات و محسوسات نے انھیں ایک حساس اور جذباتی شاعرہ بنانے میں اہم کردار عطا کیا ہے۔او ر آج ہم صاحبہ کو اپنے عہد کی ایک شاعرہ کے روپ میں دیکھ رہے ہیں جس کے یہاں وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک باکمال غزل گو سے عبارت ہے۔ صاحبہ کے تیسرے مجموعے آگہی کا درد کے پیش لفظ میں اکتشافی تنقید کے عظیم نقاد ، ممتاز دانشور جناب حامد کاشمیری نے صاحبہ کی شاعری کے بارے میں بالکل درست فرمایا ہے۔ 
’’ آگہی کا درد میں ایک خود آگاہ عورت کا کردار اُبھرتا ہے جو حد درجہ دردمند اور حساس ہے۔ وہ گرد و پیش کے معاشرے میں اونچ نیچ کے پیدا کردہ انسانی دکھ کو شدت سے محسوس کرتی ہیں۔خاص طور پر صاحبہ کی نظرطبقۂ نسواں کی بے چارگیوں اور مایوسیوں پر مرکوز رہتی ہے۔ اور اس دکھ کو ذاتی سطح پر محسوس کرتی ہے، وہ اپنی شخصیت کے تحفط کے لئے رومانی خوابوں ، آرزوؤں کی حسین وادیوں ، فطرت کے حسین مناظر اور رشتوں کی پاگیزگیوں میں پناہ لینے کی کوشش کرتی ہیں۔لیکن یہ رویہ دور تک فن کا ساتھ نہیں دیتا اور وہ خوابوں کی شکست سے دوچار ہوتی ہیں اور ان کی المناکی فزوں تر ہوتی ہے ۔ اس طرح خواب اور شکستِ خواب ان کے شعری رویے کی پہچان ہے۔ ‘‘
یہ خواب اور شکستِ خواب کی پہچان ان کے اس تازہ شعری مجموعے ’’ صریر خامہ ‘‘ میں شامل غزلوں میں بھی برقرار ہے جن میں داخلی کرب، ، شدتِ جذبات اور زندگی کی سچائیوں کو گہرے تک لینے کی فطری صلاحیت پوری آب و تاب سے جلوہ فگن ہے۔صاحبہ کی شعر گوئی کا خاص وصف یہ ہے کہ ان کے یہاں آورد کا شائبہ نہیں ہے ۔ اشعار میں تصنع اور لسانی کاریگری بھی نہیں ہے۔ان کی زبان بالکل سادہ، صاف ستھری اور آسان ہے وہ جو کچھ کہتی ہیں خیالات کے وفور اور ذہن کی وجدانی کیفیت میں شعر کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے، سہلِ ممتنع میں ایسی فطری شاعری غزل کا حسن بن کر دلوں میں گہرے اُتر جانے کی قوت حاصل کرلیتی ہے۔ صریر خامہ کی ایک سو سات غزلوں میں ایک محبت کرنے والی جذباتی عورتت کے جذبات ، ہجر و وصال کا کیف و کرب ، محرومی و کامرانی ، غم و خوشی ہر طرح کی کیفیات کی بھر پور عکاسی کے ساتھ ساتھ عصری حسیت اور زندگی کے نشیب و فراز کو ایک دوربیں شاعر کی نگاہ سے دیکھنے کی وہ خوبیاں موجود ہیں جو شاعرہ کے فن کو اعتبار بخشنے کے لئے کافی ہیں۔ صاحبہ کی یہ خوبی ان کے سابقہ مجموعوں کی طرح ’’ صریر خامہ ‘‘ میں مزید پختگی کے ساتھ واضح ہوتی ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ صاحبہ جو کچھ کہتی ہیں غزل کے تلازمات اور فنی ضابطوں کی پاسداری کے ساتھ ساتھ بالکل سیدھے اور صاف اسلوب میں کہتی ہیں ۔ ان کے کلام میں کہیں گھماؤ پھراؤ یا الجھاؤ نہیں ہے۔ ان کے یہاں فلسفہ اور منطق نہیں ہے لیکن ان کے دل سے جو بات نکلتی ہے بالکل سیدھی اور سچی ہوتی ہے، اسے انسانی زندگی کا فلسفہ کہہ سکتے ہیں۔ صاحبہ نے اپنے اس مجموعۂ غزلیات کا عنوان ’’ صریر خامہ ‘‘ غالبؔ کے اس مشہور شعر سے عمداََ مستعار لیا ہے ۔
غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں 
اور اس لحاظ سے کتاب کا یہ نام اسم با مسمیٰ سمجھا جا سکتا ہے کہ صاحبہ نے ارادتاََ مضمون سوچ کر اور قافیہ ردیف کی بندشوں میں غزلیں نہیں تراشیں ، غیب سے جو خیال آیا شعر بن کر بزمِ شعور میں آراستہ ہوتا گیا۔صاحبہ کا کمال فن یہ بھی ہے کہ ان کے اشعار کسی تجزئے ، تشریح یا صراحت کے محتاج نہیں ، مختلف رنگوں کے چند شعر دیکھ لیں میری گفتگو کی تصدیق ہوجائے گی۔
ہراک سے محبت سے پیش آؤ زمانے میں 
جینے کا مرے دل نے اک رستہ دکھایا ہے
قدم قدم پہ وہ اپنی روش بدلتا رہا 
یہ اور بات کہ وہ ساتھ میرے چلتا رہا 
میں ڈھونڈتی ہی رہی آئینے میں عکس اس کا 
ہر ایک لمحے میں وہ آئینے بدلتا رہا 
موج سے موج ملے گی تو بدل جائے گا وقت 
جو ہے زوروں پہ یہ سیلاب اُتر جائے گا
محبت زندگی میں اب کہاں ہے 
یہ دنیا کس قدر آزارِ جاں ہے
باطل کو کسی طور بھی حق کہہ نہیں سکتے
کیا کیجئے ہم کو یہ دکھاوا نہیں آتا
ذات کو اپنی زمانے سے چھپا کررکھا 
اس حقیقت کو بھی افسانہ بنایا میں نے
یہ کسی روز بدل دیں گے نظامِ دنیا 
ان غریبوں کو ابھی محوِ فغاں رہنے دے
صاحبہ اہلِ سیاست نہیں بدلیں گے کبھی
یہ بدل دیتے ہیں کیوں اپنا بیاں رہنے دے
صاحبہؔ غم کی یہ سوغات کسے ملتی ہے
درد کی دنیا سے میں ہنس کے گزر جاؤں گی
بحیثیت مجموعی صاحبہ کا یہ مجموعہ صریر خامہ ہر لحاظ سے اردو کے شعری سرمائے میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے ۔ پیپر بیک میں دیدہ زیب سرورق ، خوبصورت کمپوزنگ ، اور اچھے کاغذ پر شائع ہونے والے صریر خامہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہندی رسم الخط میں اس کا علٰحدہ ایڈیشن بھی ایک ساتھ شائع ہوا ہے۔

Interview of Lutfullah Khan - From Audio Archives of Lutfullah Khan





خزانہ آواز ٔ لطف اللہ خاں کے خالق  لطف اللہ خاں مرحوم کی بے لوث علمی و ادبی خدمات
پر منظوم خراج عقیدت
احمد علی برقی اعظمی
ہے خزانہ تحفۂ نایاب لطف اللہ کا
دسترس میں جس کا ہونا فضل ہے اللہ کا
کیسے کیسے لوگ اس دنیا سے رخصت ہوگئے

ذکر ہے کرنا  ضروری جن کے عز و جاہ کا
تھا جو آوازوں کا اک نادر ذخیرہ ان کے پاس
ہیچ اس کے سامنے ہے اک خزانہ شاہ کا
ان کی ان خدمات کو جو کررہے ہیں آشکار
ہے ضروری ذکر بھی خورشید عبداللہ کا

دے جزائے خیر برقی دونوں کو ربِ جلیل
قدرداں ہوں چرخِ اردو کے میں مہر و ماہ کا



An Evening in Kirori Mal College Delhi University With Ahmad Ali Barqi Azmi

اکتیسویں عالمی عبدالستار مفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ مشاعرے لے لئے میری طبع آزمائی


۳۱ ویں عالمی عبدالستار مفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ مشاعرے لے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
دل سے بے ساختہ جو شعر نکل جاتا ہے
’’ شعر کیا لفظ کا مفہوم بدل جاتا ہے‘‘

اسے کہتے ہیں سبھی اہلِ جہاں ابن الوقت
وقت کے ساتھ جو انسان بدل جاتا ہے

منحصر کاتبِ تقدیر پہ سب کچھ ہے مرا
وہ جو چاہے تو برا وقت بھی ٹَل جاتا ہے

باغباں کیسے کہوں گلشنِ ہستی کا اسے
غنچہ و گل کو جو بے درد مَسَل جاتا ہے

وعدہ حشر سے کم اس کا نہیں ہر وعدہ
ایک بچے کی طرح دل یہ بہل جاتا ہے

اُس ہُنرمند کا لیتا نہیں کیوں نام کوئی
دے کے شہکار جو اک تاج محل جاتا ہے

کیوں ہے شہزور کے وہ مَدِ مقابل خاموش
زور کمزور پہ جس شخص کا چل جاتا ہے

کاش کرلیتے اسے یاد وہ جب زندہ تھا
جو مسائل کا لئے ساتھ میں حَل جاتا ہے

غازۂ حسن ہے مزدور کی محنت جس کا
اس کا رخسار کڑی دھوپ میں جَل جاتا ہے

یہیں رہ جائے گا سب جاہ حشم اے برقی
ساتھ انساں کے فقط حُسنِ عمل جاتا ہے

Old Memories of Darul Musannefin Shibli Academy, Azmagarh, U.P., India Courtesy : Janab Zafar Nomani​

عہد حاضر کی گندم نمائی اور جو فروشی کا منظر نامہ بعنوانِ ’’ مذاق ہی مذاق میں ‘‘ احمد علی برقی اعظمی ۔ بشکریہ ارمغان ابتسام

مذاق ہی مذاق میں
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
جو میکدے میں آگئے مذاق ہی مذاق میں
وہ خُم پہ خُم چڑھا گئے مذاق ہی مذاق میں
پتہ چلا کہ شیخ جی نہیں تھے ، محتسب تھے وہ
وہ کیا ہیں یہ بتاگئے مذاق ہی مذاق میں
تھے جتنے رند سن کے یہ حواس باختہ ہوئے
وہ خونِ دل جَلا گئے مذاق ہی مذاق میں
نظام میکدے کا اُن کے ہاتھ میں ہے جان لیں
وہ حکم یہ چَلا گئے مذاق ہی مذاق میں
کبھی رہیں نہ تشنہ لب ، یہ کہہ کے اپنی راہ لی
وہ موج میں جب آگئے مذاق ہی مذاق میں
شرابِ ناب ہے عزیز ان کو اپنی جان سے
سبھی کو یہ جَتا گئے مذاق ہی مذاق میں
مُرادِ دل جو مِل گئی ہنسی خوشی چلے گئے
جو چاہتے تھے پاگئے مذاق ہی مذاق میں
ہماری راہ ہے الگ تمہاری راہ ہے الگ
یہ فیصلہ سنا گئے مذاق ہی مذاق میں
یہ شاعری نہیں ہے اپنے عہد کا ہے تجزیہ
جو آج ہم بتا گئے مذاق ہی مذاق میں
یہ ’’ ارمغان ابتسام ‘‘ نے کہا کہ کچھ لکھوں
رُلا کے ہم ہنسا گئے مذاق ہی مذاق میں

Barqi Azmi With his Elder Brothers Mr. Barkat Ali & Dr. Shaukat Ali Khairabadi


ماں ہے صناعِ ازل کا شاہکار : احمد علی برقی اعظمی


ہفت روزہ فیس بک ٹائمز کے ۳۷ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے بتاریخ ۷ مئی ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی


ہفت روزہ فیس بک ٹائمز کے ۳۷ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے بتاریخ ۷ مئی ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
زخم پر زخم کھا رہا ہوں میں
زیرِ لب مُسکرا رہا ہوں میں
نذرِ طوفاں ہے میری کشتیٔ دل
خیر اپنی منا رہا ہوں میں
اِس پُرآشوب دور میں مَت پوچھ
کیسے خود کو بچا رہا ہوں میں
دیکھ کر بے حسی زمانے کی
خوں کے آنسو بہا رہا ہوں میں
وہ بجھانے پہ ہے تُلا جس کو
شمعِ ہستی جلا رہا ہوں میں
صورتِ شعر اپنا سوزِ دروں
اہلِ دل کو سنا رہا ہوں میں
دورِ قحط الرجال میں برقی
خود کو محصور پا رہا ہوں میں

ILMA AFROZ : UPSC RANK -217 عِلما افروز کی آئی پی ایس کے امتحان میں نمایاں کامیابی پر تبریک و تہنیت احمد علی برقی اعظمی



عِلما افروز کی آئی پی ایس کے امتحان میں نمایاں
کامیابی پر تبریک و تہنیت
احمد علی برقی اعظمی
عِلما کے عزمِ مصمم کو سلام
دیتا ہے جو فتح و نصرت کا پیام
اس کے ہوں شرمندۂ تعبیر خواب
ملک و ملت کا کرے روشن یہ نام
پیش کرتا ہوں اسے میں تہنیت
کارناموں سے ہو اپنے نیک نام
لایقِ تحسیں ہے اس کا حوصلہ
ہو فزوں تر دن بہ دن اس کا مقام
کامیابی کی ضمانت ہے لگن
ہے اسی محنت کا اس کی یہ انعام
ہے یہ لڑکوں کے لئے درسِ عمل

ہے یہ لڑکی لایقِ صد احترام
ہے یہ بیحد حوصلہ افزا خبر
بادۂ عشرت کا ہے جو ایک جام
اس کی قسمت کا ستارہ ہو بلند
ہو یہ برقی مرجعِ ہر خاص و عام




ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے پیش کرتے ہیں عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب مئی 2018

عالمی ماہنامہ آسمان اب ہانگ کانگ کے مئی ۲۰۱۸کے شمارے میں ادارہ بیسٹ اردو پوئٹری کے ۱۵۲ویں مشاعرے میں احمد علی برقی اعظمی کی طرحی غزل


عالمی ماہنامہ آسمان اب ہانگ کانگ کے مئی ۲۰۱۸کے شمارے میں ادارہ بیسٹ اردو پوئٹری کے ۱۵۲ویں مشاعرے میں احمد علی برقی اعظمی کا منظوم خطبۂ صدارت اور طرحی غزل