جسے دیکھو لگا ہے درہم و دینار کے پیچھے ۔ قوس قزح ادبی فورم کے ۳۵ ویں فی البدیہہ مشاعرے کے لئے میری کاوشیں : احمد علی برقی اعظمی



ان کا کیا جرم ہے کیوں ان کی ہے حالت ایسی ہیں جو یہ غربت و افلاس کے مارے بچے


بشکریہ : محترم حسن چشتی ، شیکاگو
ان کا کیا جرم ہے کیوں ان کی ہے حالت ایسی 
 ہیں جو یہ غربت و افلاس کے مارے بچے


میں حسن چشتی کے لطفِ خاص کا ممنوں ہوں
جن کی ہے برقی نوازی باعث عز و شرف


تونے جس بات پہ کہرام بچا رکھا ہے ۔ ۲۶ ویں عبدالستار مفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش احمد علی برقی اعظمی


۲۶ ویں عبدالستار مفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جس نے کہرام زمانے میں مچا رکھا ہے
نگہہِ ناز میں وہ تیر قضا رکھا ہے
جس سے روشن ہے مری شمعِ شبستانِ حیات
تیری الفت کا دیا دل میں جلا رکھا ہے
محو حیرت ہیں ترا دیکھ کے وہ حسن و جمال
چاند تاروں نے بھی منھ اپنا چھپا رکھا ہے
کب اسے آکے تو آباد کرے گا آخر
قصر دل تیرے لئے اپنا سجا رکھا ہے
غمزہ و ناز و ادا ہوش ربا ہیں تیرے
جس نے مجھ کو ترا دیوانہ بنا رکھا ہے
مار ڈالے نہ یہ دزدیدہ نگاہی تیری
انگلیوں پر مجھے کیوں اپنی نچا رکھا ہے
حسن برقی کے لئے ہے یہ ترا توبہ شکن
جس نے رکھا یہ ترا نام بجا رکھا ہے

تونے جس بات پہ کہرام مچا رکھا ہے ۔۔ ۲۶ ویں عبدالستارمفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش۔۱




۲۶ ویں عبدالستارمفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
دیدہ و دل کو سرِ راہ بچھا رکھا ہے
ہر گذرگاہ کو پھولوں سے سجا رکھا ہے
دیکھئے ہوتا ہے مایل بہ کرم کب مجھ پر
حال دل میں نے اسے اپنا سنا رکھا ہے
آکے خود دیکھ لے گر دیکھنا چاہے اس کو
کیا بتاؤں دلِ بیتاب میں کیارکھا ہے
کس کی ہے ریشہ دوانی مجھے معلوم نہیں
’’تونے جس بات پہ کہرام مچا رکھا ہے‘‘
میں ہوں وہ صید ہے صیاد زمانہ جس کا
اس نے ہر گام پہ اک جال بچھا رکھا ہے
قید ہوسکتا ہے زندان بلا میں وہ بھی
جس میں مظلوم کو بے جرم و خطا رکھا ہے
ڈھونڈتی رہتی ہیں برقی کو کہیں جانا ہو
اُس نے گھر اُس کا بلاؤں کو بتا رکھا ہے


Fayaz Shaheryaar's Impressive Speech at Ghalib Academy Book Inauguration...









Fayaz Shaheryar's Impressive Speech at Ghalib Academy While Releasing Mahshar E Khayal Poetry Collection Of Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi
Courtesy : 
GNK URDU

POWER OF VOTE : AHMAD ALI BARQI AZMI






ایک زیرو کو بنا سکتا ہے ہیرو یہ نشاں
ووٹ کی طاقت کو اپنے آپ اگر پہچان لیں
احمد علی برقی اعظمی
एक जीरो को बना सकता है हीरो यह निशाँ
वोट की ताक़त को अपने आप अगर पहचान लें
अहमद अली बर्क़ी आज़मी
Ek zero ko bana sakta hai Hero yeh nishan
Vote ki taqat ko apne aap agar pahchan leiN


قوس قزح ادبئ فورم کے زیر اہتمام جشن میر کے لئے میری غزل نذر میر تقی میر احمد علی برقیؔ اعظمی : بشکریہ شہناز شازی اور امین جس پوری



قوس قزح ادبئ فورم کے زیر اہتمام جشن میر کے لئے میری غزل نذر میر تقی میر
احمد علی برقیؔ اعظمی
اُس کے وعدے پہ اعتبار کیا
مستقل اُس کا انتظار کیا
خانۂ دل میں کرکے حشر بپا
اس طرح مجھ کو بیقرار کیا
صرف اس کے لئے بصد اخلاص
مذہبِ عشق اختیار کیا
اب مجھے ہو رہا ہے یہ احساس
میں نے کس بے وفا سے پیار کیا
تا کہ اُس کو نہ ہو کوئی شکوہ
میں نے ماحول سازگار کیا
اور اس کے سوا میں کیا کرتا
اُس پہ جو کچھ بھی تھا نثار کیا
کاش ایسا نہیں کیا ہوتا
پُشت پر میری اُس نے وار کیا
اُس کی دلجوئی کے لئے برقیؔ
اُس نے جو چاہا اختیار کیا




جشنِ خدائے سخن : میر تقی میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے لئے منظوم تہنیت نامہ بشکریہ : محترمہ شہناز شازی اور محترم امین جس پوری احمد علی برقی اعظمی



جشنِ خدائے سخن : میر تقی میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے لئے منظوم تہنیت نامہ
بشکریہ : محترمہ شہناز شازی اور محترم امین جس پوری
احمد علی برقی اعظمی
کیوں نہ جشنِ میر ہو قزح میں شاندار
جن کی عصری معنویت آج بھی ہے برقرار
ضوفگن ہے جس سے شمع علم و دانش آج تک
بحر ذخارِ ادب کی تھے وہ درِ شاہوار
تھا یہاں پر میر جیسا صاحب فکر و نظر
اہلِ دہلی کے لئے ہے باعث صد افتخار
میرکا رنگِ تغزل بن گیا ان کی شناخت
مرزا غالب کو بھئ تھا ان کے سخن پر اعتبار
میر کا ثانی نہ تھا کوئی بھی ان کے دور میں
میر اقلیم سخن کے تھے حقیقی تاجدار
ہیں نقوش جاوداں ان کے خزاں ناآشنا
گلشنِ اردو میں ان کی ذات تھی مثلِ بہار
تھی کسی کو بھی نہیں تابِ سخن ان کے حضور
تھے معاصر ان کے ان کے سامنے مثلِ غبار
صرف برقی ہی نہیں ان کے سخن کا قدرداں

سب مشاہیر سخن میں ان کا کرتے ہیں شمار

جشن میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے میری کاوش نذر میر تقی میر احمد علی برقی اعظمی


جشن میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے میری کاوش
نذر میر تقی میر
احمد علی برقی اعظمی
سب اپنی چُھپا کر جو پہچان  نکلتے ہیں
کس شان سے سڑکوں پر حیوان  نکلتے ہیں
پہچاننا  مشکل ہے اپنے و پرائے کو
انسان کی صورت میں شیطان نکلتے ہیں
ہے میرے نشیمن پر ہر وقت نظر  جن  کی
دربدری کا وہ لے کر فرمان نکلتے ہیں
ہر چیز میں آتا ہے ان کا ہی نظر چہرہ
’’ جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں ‘‘
دستور زباں بندی کردیں نہ کہیں نافذ
ہر روز نئے جن کے فرمان نکلتے ہیں
رہ رہ کے مچلتی ہے اک حسرتِ دیرینہ
سب پورے کہاں دل کے ارمان نکلتے ہیں
محفوظ نہیں ان سے کوئی بھی کہیں برقی
جو لے کے تباہی کا سامان نکلتے ہیں



Amaravati Poetic Prism 2019 - HIGHLIGHTS






Poetic
Compliment To 
5th Amararavati Poetic Prism- 2019
Ahmad Ali Barqi Azmi
Tha yeh ek 21 aur 22
December yaadgar
Thee Vijyawada meiN ek
taqreb e adabi shandar
Padmaja Paddy then is
taqreeb ki rooh e rawaaN
Jis meiN shamil the
kaii mulkoN ke shuara beshumar
Multi-Lingual sheri
majmooye ka ijra tha wahaaN
Jiske hai safhaat ke
zeenat kalam e khaksar
Mukhtalif lehjoN meiM
usloob e bayaaN tha dilnasheeN
Iske mundarjaat haiN
asri adab ke shahkar
Gosh bar aawaaz the
sab log sunne ke liye
Jinke gulha e mazameeN
se fiza thee muskbaar
5 vaaN majmooa e
ashaar haiyeh dilnasheeN
Jiske hai safhaat ki
Barqi zakhamat ek hazaar




دو فی البدیہہ غزلیں نذرِ چراغ حسن حسرت مرحوم


شعرو سخن ڈاٹ نیٹ کینیڈا کی برقی نوازی


لطف ہے شعروسخن کا باعث عزوشرف

میرے رخش فکر کی مہمیز ہے یہ تہنیت

Movie YAADE RAFTAGAN TO NASHTAR KHAIRABADI BY DR AHMAD ALI BARQI AZMI ...



Movie YAADE RAFTAGAN TO NASHTAR KHAIRABADI BY DR AHMAD ALI BARQI AZMI NEW DELHI INDIA


عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقیؔ اعظمی


عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہوگا کیا بام پہ تو جلوہ نما میرے بعد
کون دیکھے گا ترا ناز و ادا میرے بعد
تختۂ مشق بنانا ہے اگر مُجھ کو بنا
ایسا کرنا نہ کبھی حشر بپا میرے بعد
تونے ناکردہ گناہی کی سزا دی ہے مجھے
اب بتا کس کو ملے گی یہ سزا میرے بعد
ہے دعا میری یہی ظلم و ستم سے تیرے
نہ کرے کوئی بھی اب آہ و بُکا میرے بعد
تھا مرے ساتھ ہمیشہ جو رویہ تیرا
ایسے دینا نہ کسی کو بھی دغا میرے بعد
وار ہنس ہنس کے ترا میں نے سہا ہے لیکن
پھر چلائے گا کہاں تیغِ ادا میرے بعد
عیش کرنا ہے تجھے جتنا وہ کرلے کیونکہ
زندگی کا نہ ملے گا یہ مزا میرے بعد
سرخرو میری بدولت ہی تھا جن کا چہرہ
”ان کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا میرے بعد“
میں نے رکھا ہے تجھے اپنی رگِ جاں کے قریب
کون ہے تیرا بہی خواہ بتا میرے بعد
سب کو جانا ہے جہاں میں بھی چلا جاؤں گا
ہوگی ہمراہ ترے میری دعا میرے بعد
شہرِ دہلی میں ہوں گُمنام میں لیکن برقیؔ
ضوفگن ہوگی مرے فن کی ضیا ء میرے بعد

عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقیؔ اعظمی

عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے  پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہوگا کیا بام پہ تو جلوہ نما میرے بعد
کون دیکھے گا ترا ناز و ادا میرے بعد
تختۂ  مشق بنانا ہے اگر مُجھ کو بنا
ایسا کرنا نہ کبھی حشر بپا میرے بعد
تونے ناکردہ گناہی کی سزا دی ہے مجھے
اب بتا کس کو ملے گی یہ سزا میرے بعد
ہے دعا میری یہی ظلم و ستم سے تیرے
نہ کرے کوئی بھی اب آہ و بُکا میرے بعد
تھا مرے ساتھ ہمیشہ جو رویہ تیرا
ایسے دینا نہ کسی کو بھی دغا میرے بعد
وار ہنس ہنس کے ترا میں نے سہا ہے لیکن
پھر چلائے گا کہاں تیغِ ادا میرے بعد
عیش کرنا ہے تجھے جتنا وہ کرلے کیونکہ
زندگی کا نہ ملے گا یہ مزا میرے بعد
سرخرو میری بدولت ہی تھا جن کا چہرہ
ان کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا میرے بعد
میں نے رکھا ہے تجھے اپنی رگِ جاں کے قریب
کون ہے تیرا بہی خواہ بتا میرے بعد
سب کو جانا ہے جہاں میں بھی چلا جاؤں گا
ہوگی ہمراہ ترے میری دعا میرے بعد
شہرِ دہلی میں ہوں گُمنام میں لیکن برقیؔ
ضوفگن ہوگی مرے فن کی ضیا ء میرے بعد