Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Urdu Poetry Published in Amravati Poetic Prizm 2018 in the Cultural Center Of Vijayawada Andhra Pradesh










Amaravati Poetic Prism -2017: International Multilingual poets Meet

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Ghazal in Amaravati Poetic Prizm- 2017 ...

مصرعۂ طرح : جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں (مظفر احمد مظفر )ؔ عالمی انعامی طرحی مشاعرہ اردو ادب اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی




عالمی انعامی طرحی مشاعرہ اردو ادب اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی
مصرعۂ طرح : جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں (مظفر احمد مظفر )ؔ
احمد علی برقیؔ اعظمی
کیا بتاؤں بنِ ترے اے جانِ جاں کچھ بھی نہیں
جسم و جاں میں اب مرے تاب و تواں کچھ بھی نہیں
تونہیں تو میرے یارِ مہرباں کچھ بھی نہیں
بِن ترے میرے لئے عمرِ رواں کچھ بھی نہیں
میری نظروں میں وہ سنگ و خشت کا انبار ہے
تو نہ ہو جس میں مکیں ایسا مکاں کچھ بھی نہیں
کس قدر صبر آزما ہے مجھ کو تیرا انتظار
اس سے بڑھ کر زندگی میں امتحاں کچھ بھی نہیں
سایہ گُستر ہے یہ مجھ پر زندگی کی دھوپ میں
تیری زلفوں کا نہ ہو گر سائباں کچھ بھی نہیں
تجھ سے روشن ہے مری شمعِ شبستانِ حیات
تیرے آگے روشنئ کہکشاں کچھ بھی نہیں
یہ جہانَ آب و گِل میرے لئے بیکار ہے
’’جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں ‘‘
گر نہ ہو ذہنی سکوں ایسے میں برقیؔ اعظمی
مال و دولت ، عیش و عشرت ، عز و شاں کچھ بھی نہیں

دیارشبلی کے ممتاز دانشور و صاحب طرز سخنورپروفیسر الطاف اعظمی ،سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات



دیارشبلی کے ممتاز دانشور و صاحب طرز سخنورپروفیسر الطاف اعظمی ،سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات
احمد علی برقیؔ اعظمی
منور ہے ’’ چراغِ شب گزیدہ ‘‘
جو اک آئینہ عرضِ ہُنر ہے
ہے الطاف اعظمی کا ضوفشاں فن
نمایاں نُدرتِ فکر و نظر ہے
وہ علمِ طب ہو یا نقد و نظر ہو
شعورِ فکر اُن کا جلوہ گر ہے
کتابوں کا ہے اک انبار اُن کی
جو اُن کے نخلِ دانش کا ثمر ہے
ہیں ان کے کارنامے سب پہ روشن
ہے واقف اُن سے جو بھی دیدہ ور ہے
وہ اپنے آپ میں اک انجمن ہیں
چراغِ فکر جس کا جلوہ گر ہے
وہ برقیؔ اعظمی کے ہموطن ہیں
جو اقصائے جہاں میں نامور ہے

Lecture on: Sir Syed Ahmad's Concept of Education by Prof Altaf Ahmad Azmi

Barqi Azmi ki Nazm Rekhta par | Rekhta Studio شہرۂ آفاق اردو ویب سایٹ ریختہ کی ادبی خدمات اور افادیت پر احمد علی برقی اعظمی کے منظوم تاثرات بشکریہ ریختہ

Barqi Azmi ki Nazm Rekhta par | Rekhta Studio شہرۂ آآفاق اردو ویب سایٹ ریختہ کی ادبی خدمات اور افادیت پر احمد علی برقی اعظمی کے منظوم تاثرات بشکریہ ریختہ

’’ یارب نگاہِ اہلِ سیاست سے دور رکھ ‘‘ : سائبان ادبی گروپ کے ۹۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنامِ مظفر احمد مظفر کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی



سائبان ادبی گروپ کے ۹۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنامِ مظفر احمد مظفر کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
مکرو فریب اور رذالت سے دور رکھ
’’ یارب نگاہِ اہلِ سیاست سے دور رکھ ‘‘
بنیاد جس کی ظلم و ستم پر ہو استوار
اہلِ جہاں کو ایسی حکومت سے دور رکھ
جاری ہے آج غزہ و شام و یمن میں جو
نوعِ بشر کے خون کی تجارت سے دور رکھ
انصاف جو دلا نہ سکے بے گناہ کو
ایسے وکیل اور عدالت سے دور رکھ
محفوظ جس میں رہ نہ سکے پاکدامنی
اہلِ ہوس کی ایسی محبت سے دور رکھ
حاصل یو جو ضمیر فروشی سے ہم کو ،اُس
نام و نمود و عزت و شہرت سے دور رکھ
ہر وقت جل رہا ہے حسد کی جو آگ میں

برقی کو اس کے بُغض و عداوت سے دور رکھ

Ahmad Ali Barqi Azmi In International Multilingual Anthology Amarawati Poetic Prism 2017 On Page No 525



آپ کی یاد آتی رہی رات بھر:نذر مخدوم محی الدین۔۔۔ایک زمین کئی شاعر مخدوم محی الدین اور احمد علی برقی اعظمی ـ بشکریہ ناظم ایک زمین کئی شاعر


ایک زمین کئی شاعر
مخدوم محی الدین اور احمد علی برقی اعظمی
بیاد و نذرِ مخدوم محی الدین
غزل
مخدوم محی الدین
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر


رات بھر درد کی شمع جلتی رہی

غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر


بانسری کی سریلی سہانی صدا

یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر


یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے

چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر


کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا

کوئی آواز آتی رہی رات بھر


طرحی غزل ( بیاد و نذرِ مخدوم محی الدین )

احمد علی برقیؔ اعظمی
روئے زیبا دکھاتی رہی رات بھر
چاندنی میں نہاتی رہی رات بھر

بجھ نہ جائے کہیں شمعِ ہستی کی لَو

وہ گھٹاتی بڑھاتی رہی رات بھر
اُس
 اس آنے سے پہلے جو ویران تھی

دل کی بستی بساتی رہی رات بھر

و؎ہ دکھا کر مجھے ایک خوابِ حسیں
حسرتِ دل جگاتی رہی رات بھر

دے کے دستک درِ دل پہ بادِ صبا
نیند میری اُڑاتی رہی رات بھر

جو بنائے تھے ابتک خیالی محل
وہ اُنھیں آکے ڈھاتی رہی رات بھر

جاگنے پر تھی برقیؔ سے بیزار جو
خواب میں وہ مناتی رہی رات بھر


غزل دیگر
احمد علی برقی اعظمی
شمعِ دل وہ جلاتی رہی رات بھر
خواب میں آتی جاتی رہی رات بھر
اس کا روئے حسیں چاند سے کم نہ تھا
’’ چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر‘‘
زیرِ لب اُس کے دلکش لبوں پر ہنسی
دل پہ بجلی گراتی رہی رات بھر
لے کے قلب و جگر کا مرے امتحاں
وہ مجھے آزماتی رہی رات بھر
میرا تارِ نَفَس میرے بس میں نہ تھا
اُس پہ وہ گنگناتی رہی رات بھر
میری بیتابیٔ دل کو وہ دیکھ کر
زیرِ لب مسکراتی رہی رات بھر
اُس کے وعدے سبھی وعدۂ حشر تھے
وہ ہنسا کر رلاتی رہی رات بھر
شمعِ امیدِ برقی شبِ وصل میں

وہ جلاتی بجھاتی رہی رات بھر


’’ نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا‘‘ فی البدیہہ طرحی غزل نذرِ میراجی : احمد علی برقی اعظمی



غزل
احمد علی برقی اعظمی
جوش جنوں میں کون ہے اپنا کون پرایا بھول گیا
’’ نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا‘‘
دیکھ کے اس کا چہرۂ زیبا عرضِ تمنا بھول گیا
مصرعہ ثانی یاد رہا پر مصرعہ اولیٰ بھول گیا
ذہن پہ اس کے حسن کا جادو ایسا اثر انداز ہوا
غمزہ و ناز مین ایسا کھویا کیا کیا دیکھا بھول گیا
چشمِ تصور میں ہے ابھی تک اس کا دھندلا دھندلا عکس
صفحہ دل پر تھا جو لب و رخسار کا خاکہ بھول گیا
آ گیا زد میں تیر نظر کی گُم ہیں اب اس کے ہوش و حواس
دردِ جگر کا خود ہی مسیحا اپنے مداوا بھول گیا
ہونے لگا ہے سوز دروں کی ابھی سے شدت کا احساس
اس کے بغیر کروں گا تنہا کیسے گذارا بھول گیا
دے گا کب دروازۂ دل پر دستک یہ معلوم نہیں
کرکے ہمیشہ برقی سے وہ وعدۂ فردا بھول گیا





ماہنامہ ملی اتحاد کے ماہ نومبر ۲۰۱۸کا منظوم ادبی گوشہ بعنوان سخنور بنام احمد علی برقی اعظمی : بشکریہ ملی اتحاد

  


اردو صحافت کے اُ فق پرروشنی کی ایک معتبر کرن ماہنامہ ملی اتحادکی افادیت پر منظوم تاثرات
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
ترجمانِ کوچہ و بازار ملی اتحاد
کررہا ہے قوم کو بیدار ملی اتحاد
عہدِ نو میں ہے ضرورت وقت کی اپنے لیے
تیرگی میں مطلعِ انوار ملی اتحاد
خوابِ غفلت سے جگانا اس کا نصب العین ہے
دے رہا ہے مُستند اخبار ملی اتحاد
جن کا کوئی بھی نہیں عہدِ رواں میں خیر خواہ
ان کا ہے ہمدرد اور غمخوار ملی اتحاد
ہے یہ ماہانہ رسالہ ترجمانِ روحِ عصر
ملک و ملت کا ہے خدمتگار ملی اتحاد
گنگا جمنی ہند کی قدروں کا ہے یہ پاسباں
بانٹتا ہے جو سبھی کو پیار ملی اتحاد
اس سے بسمل عارفی کا ہے عیاں ذوق سلیم
ہے صحافت کا حسیں معیار ملی اتحاد
ادبی گوشے میں ہے اس کے ندرتِ فکرو نظر
راہ جس کی کرتا ہے ہموار ملی اتحاد

آج جن حالات سے دوچار ہیں اہلِ وطن
اُن کا برقیؔ کرتا ہے اظہار ملی اتحاد

’’ اور دیوانے کو دیوانہ بناتے کیوں ہو ‘‘ : عشق نگر اردو شاعری کے ۴۸ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری فی البدیہہ غزل مسلسل: احمد علی برقی اعظمی







عشق نگر اردو شاعری کے ۴۸ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری فی البدیہہ غزل مسلسل
احمد علی برقی اعظمی                                                               
آکے رکنا جو نہیں ہے توپھر آتے کیوں ہوں
میرے سوئے ہوئے جذبات جگاتے کیوں ہو
خونِ دل میرا تم اس طرح جلاتے کیوں ہو
غمز و ناز و ادا اپنے دکھاتے کیوں ہو
کر کے دزدیدہ نگاہی سے اشارے مجھ کو
’’ اور دیوانے کو دیوانہ بناتے کیوں ہو ‘‘
امتحاں لوگے مرے صبر کا یونہی کب تک
آکے خوابوں میں شبِ ہجر ستاتے کیوں ہو
زخمِ دل کی نہیں کرسکتے اگر چارہ گری
اس پہ پھر برقِ تبسم یہ گراتے کیوں ہو
کیا گذرتی ہے مرے دل یہ سوچا ہے کبھی
نہیں سنتے جو مری اپنی سناتے کیوں ہو
کیا مزا ملتا ہے برقی کو ستانے میں تمھیں
خوں کے آنسو اسے رہ رہ کےرُلاتے کیوں ہو


پیشگفتار دارالمصنفین کی تاریخی خدمات خدمات دارالمصنفین بہ تاریخ بقلم دکتر محمد الیاس الاعظمی مترجم : د کتر احمد علی برقی اعظمی






پیشگفتار
دارالمصنفین کی تاریخی خدمات
خدمات دارالمصنفین بہ تاریخ
بقلم
دکتر محمد الیاس الاعظمی
مترجم : د کتر احمد علی برقی اعظمی
دارالمصنفین حسن خاتمہ زندگانی عظیم ملی، تحقیقی، تاریخی و مذھبی علا مہ شبلی و تعبیر حقیقی اندیشہ ھای عالی و آرمانھای اوست۔ اگرچہ این رویای او د ر زندگانی اش بہ حقیقت نپیوست و بتحقق نرسید و مرحلھ ظھور و نشو نمایش در دورہ آغاز خود بودہ کہ او رخت از این جھان فانی بر بستہ رھسپار منزل جاودانی شدہ جان بہ جان آفرین سپرد۔ بھر حال پس از درگذ شت او تلامذہ خاص و وابستگانش این نقشہ علمی و فکری شبلی رابر حسب رنگ آرمانھای مورد علاقہ اش پر کردند۔ بخصوص مولانا سید سلیمان ندوی دارالمصنفین را با استعداد علمی بی مانند و مساعی حسنہ اش بہ اوج اعتلای خود رساند۔ او ھمیشہ این حقیقت امر را در نظر می داشت کہ پیشرفت ھای ھمہ جانبہ ای ملل وابستہ بہ رفعت خیال و اصلاح می باشند و این فقط اھل قلم شایستہ ھستند کہ می توانند افکار ملک و ملت را د گرگوں می سازند۔ ھد ف تاسیس دارالمصنفین ھمین بود لذا او بوسیلہ دارالمصنفین تربیت اھل علم و قلم را مورد توجہ ویژہ ای قرار داد و سر انجام تعداد قابل ملاحظہ ای ازنویسندگان بر حسب توجہ و تربیت این ادارہ سرشناس بوجود آمد۔
دارالمصنفین از بدو تاسیسش تابحال یک د ورہ ھفتاد و پنج سالہ اش را پشت سر گذ راندہ و در حال حاضر ھم ھمین طور از لحاظ تربیت ذھنی و فکری و تصنیفی یکی از بزرگترین ادارہ ھای مسلمانان این شبہ قارہ می باشد۔
علامہ شبلی از مد ت مدیدی خیال تاسیس دارالمصنفین را بخاطر داشتہ و این را برای اولین بار در ماہ مارس سال یک ھزارو نہ صد و دہ در اجلاس ندوة العلماء در دھلی در ضمن لزوم کتبخانہ ندوہ بہ زبان آورد۔ در این اجلاس مولانا سید سلیمان ند وی ھم با توصیہ علامہ شبلی دربارہ لزوم کتبخانہ در ساختمان جدید دارالعلوم سخنرانی نمودہ بہ صراحت پیشنھاد دار المصنفین را ارائہ نمودہ کہ ازاینقرار است:
``لزومی وجود دارد کہ بعلاوہ کتبخانہ یک تالار وسیع برای اھل قلم
و مصنفین بنا شود کہ در آن جماعتی از قوم بتواند بہ تالیف و تصنیف
بپردازد۔ زبان مادری کہ مھد و پرورشگاہ دورہ طفولیتش ھمین دھلی
است بوسیلہ تصنیفات شان رو بہ پیشرفت بہ نھد۔ من این امر رامناسب
می دانم کہ ارباب قلم و مصنفین کہ تعداد قابل ملاحظہ ای شان در ھند
وجود دارد ھزینہ ھایش را بطور یادگار از جیب شان تامین نمایند و نام
این ساختمان دارالمصنفین باشد۔``( حیات شبلی ص 692 )
سپس در سال ھزار و نھصد و دہ نواب سر مزمل خان بہ شادمانی تقدیم خطاب دولتی با ارسال نامہ ای باطلاع علامہ شبلی رساند کہ من می خواھم کہ بیادگار تصنیفات تان اتاقی را در دارالعلوم بسازم۔ علامہ مرحوم بپاسخ آن در ماھنامہ الندوہ ( در ماہ اوت سال ھزار و نھصد و دہ) یاد داشتی نوشتہ آرمانش را اینچنین بازگو نمود:
`` ما میخواھیم کہ در دارالعلوم ساختمانی بنام دارالمصنفین تاسیس بشود
کہ در آن ادارہ ای در بارہ تصنیف و تالیف وجود داشتہ باشد و از آن
بطور مرتب تصانیف بچاپ برسند۔ مصنفین خارجی اگر بخواھند در آن
بسر ببرند و برای آنھا ھمہ وسایل راحت بخش و کتابھای مورد لزوم
علوم وفنون مھیا بشوند۔ چون کتابخانہ ندوہ بصورت یک کتابخانہ بسیار
عالی در آمدہ و افراد طبقہ تعلیم یافتہ ندوہ گرایش عمیق بہ تصنیف و
تالیف دارند بنا بر این پیشنھاد دارالمصنفین از ھر لحاظ شایستہ خواھد
بود ۔ لذا ما از نواب مزمل خان درخواست می کنیم کہ این مبلغ پول خود
را بمنظور تامین این ھد ف واگذار نمایند۔`` (حیات شبلی ص 692-693 )
ھنوز این پروژہ تحت رسیدگی قرار داشتہ کہ در ندوتہ العلماء مخالفت شبلی آغاز شد و بالآخر از آن آزردہ خاطر شدہ علامہ شبلی مستعفی شد و اینطورپیشنھاد دارالمصنفین ھم نتوانست بتکمیل برسد و ندوہ از یک ثروت عظیم محروم شد۔
علامہ شبلی پس از استعفایش از ندوہ مجد دا بہ طراحی تاسیس پروژہ دارالمصنفین پرداخت و آن را بعنوان آخرین میدان عمل زندگانی اش وخدمت دایمی حلقہ مصنفین دانستہ دست بکار شد و در شمارہ یازدھم فوریہ سال ھزارو نھصدو چھاردہ ``الھلال`` پیشنھاد دارالمصنفین را بحضور ملت ارائہ نمود۔اگرچہ این دورہ زندگانی اش برای علامہ شبلی خیلی پر آشوب بودہ و بعلاوہ مخالفین ندوہ و درگذ شت برادرش ( مولوی محمد اسحق، وکیل دادگاہ عالی) مسایل شخصی و خانگی و ھمچنین خرابی صحت و امثال آنھا برایش باعث آلام و مصائب شدید بود۔ باوجود آن انتشار پیشنھاد دارالمصنفین و اھتمام آن مظھر گرایش عمیق او بہ این کار می باشد۔او این اعلامیہ را بزبان انگلیسی برگرداندہ وشروع بہ ارسال نامہ ھای مفصل حاکی از وضاحت اغراض و مقاصد آن بہ احباب خاص و دانشوران دیگر نمود۔ مسئلہ ای کہ در پیش قرار داشتہ این بود کہ دارالمصنفین در کجا تاسیس بشود۔ مولانہ مسعود علی ندوی می خواست کہ این در ندوہ احداث بشود۔ علامہ شبلی نیز در آغاز ھمین می خواست۔او بپاسخ نامہ ای از مولانہ مسعود علی ندوی می نویسد کہ :
``برادر عزیز آنھا چطور بمن اجازہ تاسیس دارالمصنفین بہ ندوہ خواھند داد۔
آرزوی حقیقی من ھمین است ولی چہ کنم اگرچہ این بنفع آنھااست۔( مکاتیب
شبلی حصہ دوم ص127
مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی ، حبیب خاص علامہ شبلی پیشنھاد تاسیس دارالمصنفین بہ وطن مالوفش حبیب گنج نمود ولی او بپاسخ این پیشنھاد نوشت کہ :
`` شما می خواھید کہ دارالمصنفین را بہ حبیب گنج ببرید۔ جنابعالی من چرا
پیشنھاد اعظم گر نکنم۔ من می توانم باغ خودم و دو بنگلہ ام را عرضہ نمایم``
(مکاتیب شبلی ج دوم ص )193
بالآخر پس از حیص و بیص ابتدائی قرعہ فال را بنام اعظم گر زدند و برایش علامہ شبلی باغ و بنگلہ شخصی اش را با رضایت افراد خانوادہ اش برای دارالمصنفین وقف نمود۔ ھنوز این وقف نامہ تھیہ می شد کہ این شخصیت سراپا علم و دانش بدعوت مالک حقیقی درحالیکہ کلمہ سیرت، سیرت بر زبانش جاری بود چشم از جھان فرو بست۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
در ظرف سہ روز پس از درگذشت علامہ شبلی یعنی در تاریخ بیست و یکم نوامبر ھزار و نھصد و چھاردہ میلادی بدعوت مولانا حمید الدین فراھی و بحضور مولانا سید سلیمان ندوی بمنظور تکمیل کارھای ناتمام علامہ شبلی یک مجلس موقتی بنام مجلس اخوان الصفا بریاست مولانا حمید الدین فراھی تشکیل یافت کہ در آن مولانا سید سلیمان ندوی سمت ناظم و مولانا عبد السلام ندوی ، مولانا مسعود علی ندوی و مولانا شبلی متکلم ندوی عضویت آن را بعھدہ گرفتند۔ مولانا سید سلیمان ندوی کہ در آن زمان در دانشکدہ دکن سمت پروفسور را بعھدہ داشتہ از آنجا مستعفی شدہ بہ اعظم گر رسید، مولانا عبد السلام ندوی کلکتہ را ترک گفتہ رھسپار اعظم گر شد و مولانا مسعود علی ندوی ھم باتفاق این دو نفر از احباب خود تصمیم گرفت زندگانی باقی ماندہ اش را در پھلوی آرامگاہ شبلی بسر ببرد۔ ھمین مجلس موقتی اخوان الصفا ء گویا نقطہ آغاز دارالمصنفین می باشد۔ این جماعت مختصر دارالمصنفین باوجود بی سروسامانی اش عازم منزل مقصود شد۔ آھستہ آھستہ سید سلیمان ندوی جمعی از تلامذہ شبلی و فضلاء ندوہ را وابستہ بہ دارالمصنفین نمود۔ تد وین``سیرت نبوی``، سیر الصحابہ، تاریخ اسلام، تاریخ ھند و تاریخ علوم و فنون سر آغاز تصنیف و تالیف بود۔ با تاسیس چاپخانہ در سال ھزارو نھصد و شانزدہ اجراء ماھنامہ معارف بعمل آمد، ساختمان ادارہ و کتبخانہ بوجود آمد و گویا با پیوستگی اھل قافلہ کاروانی تشکیل یافت۔
ھد ف زندگانی علامہ شبلی ھمین بود کہ بحضور خود و بعد از آن گروھی از علماء و فضلاء پشت سر بگذارد کہ در این عصر جدید احتیاجات جدید اسلام را تامین نماید۔ چنانچہ بمنظور بتحقق رساندن ھمین ھد ف
دارالمصنفین بطور منظم اھداف بشرح زیر را اعلام نمود:
1۔ استقرار جمعی از نویسندگان برجستہ در کشور
2۔ تصنیف و تالیف و ترجمہ کتابھای بلند پایہ
3۔ اھتمام چاپ و انتشارات کتابش و کتابھای علمی دیگر
در حال حاضر پس از مطالعہ سھم و خدمات برجستہ دارالمصنفین براستی می توان اعتراف نمود کہ دارالمصنفین بہ حصول اھدافش کاملا موفق شدہ است۔ تعداد قابل ملاحظہ ای بیشتر از پنجاہ نفر از نویسند گان و اھل قلم سرشناس و نامدار بہ آغوش آن پرورش یافتہ کہ صد ھا نفر از آنھا بہ اخذ تربیت علمی وقلمی نایل آمدہ اند۔
در پایان قرن بیستم اگر بہ دورہ گذشتہ نظر بافکنیم ، دامن وسیع زبان و اد بیات اردو از گلھای رنگ رنگ بعنوان رشک چمن بنظر می رسد و بدون ھیچ شک و تردید در آن حسین ترین ،دل انگیز ، معطر و پایدار ترین از ھمہ آنھا رنگ دبستان شبلی است کہ در این تمام ذخیرہ گل بعنوان گل سر سبد ھویداست۔
ھد ف اساسی دارالمصنفین تصنیف و تالیف و ترجمہ کتابھای ارزندہ ایست چنانچہ تابحال بیشتر از دویست کتاب بلند پایہ و بسطح عالی علمی و تحقیقی و تاریخی شدہ و بہ مد یریت انتشارات آن پرداختند و برای حصول
این آخرین ھدف دارالمصنفین چاپخانہ اش و مرکز انتشارات خود را تاسیس نمودہ است۔
دارالمصنفین فقط سازمانی نیست بلکہ یک تحریک زندہ و تابندہ و یک قلمرو علم و دانش است۔ با توجہ بہ سھم و خدمات متنوع و گوناگون برجستہ اش بہ علم و ادب ،تحقیق و نقد و تاریخ و تمد ن لزومی وجود داشتہ کہ تاریخ مفصل و مبسوط آن برشتہ تحریر در آوردہ می شد ولی متاسفانہ این بطور شایانی مورد توجہ قرار نگرفت۔ اگرچہ در بارہ علامہ شبلی و مولانا سید سلیمان ندوی کار تحقیقی بعمل آمدہ است کہ در آن ضمنا و طبعا ذکری از دارالمصنفین بمیان آمدہ است و این حامل حیثیت فرعی است۔ راجع بہ دارالمصنفین نیز مقالات تحقیقی عمدہ برشتہ تحریر در نیاوردہ شدہ کہ از آن جملہ میتوان مقالہ تحقیقی دکتر خورشید نعمانی در بارہ ``خدمات ادبی دارالمصنفین `` را می توان مثتثنی قرار داد۔ ولی آن ھم جنبہ ای از آن یعنی خدمات ادبی اش را بازگو می کند۔ بمنظور جبران این کمبود بزرگ اینجانب با وجود کم مایگی خود م خدمات دارالمصنفین بہ تاریخ را بعنوان موضوع تحقیق خود برگذ یدم۔ ظاھرا این ھم یک بر رسی جزئی است ولی اگر این حقیقت امر را در نظر بگیریم کہ درحقیقت ھنر تاریخ نویسی و مطعلقات آن موضوع اساسی و مرکزی دارالمصنفین است ، این امر واضح خواھد شد کہ این فقط یک مطالعہ جزئی نیست بلکہ در آن تفصیل سرمایہ کل دارالمسنفین در بر گرفتہ شدہ است۔
من تا چہ اندازہ ای موفق بہ ادای حق این موضوع شدہ ام قضاوت آن بعھدہ صاحبنظران می باشد۔ بھر حال میخواھم عرض بکنم کہ تا آنجا کہ ممکن است سعی نمودہ ام از عھدہ ایفاء حق این موضوع بر آیم۔
این مقالہ مشتمل بر ھفت باب می باشد۔ در باب اول آغاز تاریخ نویسی اردو، ارتقاء تدریجی عھد بہ عھد آن و کتب تاریخی ماقبل شبلی و سبک تاریخ نویسی مورد بر رسی قرار گرفتہ است۔ در ابواب دوم،سوم، چھارم و پنجم بترتیب کارنامہ ھای تاریخی شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، مولانا شاہ معین الدین ندوی و صباح الدین عبد الرحمان کہ آفتاب و ماھتاب سپھر تاریخ بودہ ، بطور مفصل مورد تحقیق و تحلیل و تجزیہ قرار گرفتہ است۔ از بررسی این ابواب و مباحث آن یک نقشہ واضح سھم و خدمات کامل دارالمصنفین ھویداست، علیرغم آن نمی توان ادعا نمود کہ آنچہ کہ در این کتاب برشتہ تحریر د ر آمدہ ، حرف آخر است۔ در جھان تحقیق و تدقیق حرف آخر اصلا وجود ندارد۔ لذا از اھل علم ودانش خواھشمندیم کہ صرفنظر از ھر گونہ فروگذاشت با اطلاعات جدید راھنمای اینجانب بشوند تا این مقالہ بتواند ھر چہ بیشتر مفید تر و بھتر بشود۔