Urdu aur Taj Mahal آج حقانی کے دل ہیں روبرو دلنشیں ہے ان کی ادبی گفتگو ki ye dono Nishaniyan nafrat ke nishane par ...





آج حقانی کے دل ہیں روبرو
دلنشیں ہے ان کی ادبی گفتگو
آگرا ہے جن کا آبائی وطن
گلشنِ اردو کی ہیں وہ آبرو
کہتے ہیں دل تاج محلی سب انہیں
ہیں جو میرے ایک یارِ نیکخو
ہیں وہ برقی شاعرِ ہردلعزیز
ذکر جن کا ہر طرف ہے کو بکو
دلؔ تاج محلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
سب کے ہے وِردِ زباں دلؔ تاج محلی کا کلام
اہل دل ہیں جو سمجھتے ہیں وہی ان کا مقام
’’ زخمِ دل ‘‘سے ہے نمایاں اُن کے اُن کا کربِ ذات
اور ’’ نقوشِ دلؔ ‘‘ ہے ان کا باعث صد احترام
اُن کے ’’ احساسات ‘‘ کی مظہر ہے اُن کی شاعری
آگرا کے ہے مشاہیرِ سخن میں اُن کا نام
جملہ اصنافِ سخن پر ہے اُنھیں حاصل عبور
اُن کے رخشِ فکر کی جولانیاں ہیں تیز گام
اپنے حُسنِ خُلق سے ہیں وہ دلوں پر حکمراں
امن و صلح و آشتی کا سب کو دیتے ہیں پیام
عہدِ حاضر میں ہیں وہ اک ماہرِ فنِ عروض
شعری سرمایہ ہے ان کا مرجعِ ہر خاص و عام
گنگا جمنی ہند کی تہذیب کے ہیں وہ نقیب
’’ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام‘‘
قدرداں ہو کیوں نہ اُن کے فن کا برقیؔ اعظمی
اُن کے گل ہائے تغزل سے معطر ہے مشام

جارہے ہیں آپ تو پھر مسکراتے جائیے : احمد علی برقی اعظمی ۔۔۔ موجِ سخن کے ۲۰۰ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بیاد جشنِ جون ایلیا بتاریخ ۱۹ اگست ۲۰۱۷ کے لئ میری طبع آزمائی



موجِ سخن کے ۲۰۰ ویں عالمی آنلائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے بیاد جشنِ جون ایلیا بتاریخ ۱۹ اگست ۲۰۱۷ کے لئ میری طبع آزمائی
جارہے ہیں آپ تو پھر مسکراتے جائیے
’’ اپنی یادوں کا سرو ساماں جلاتے جائیے ‘‘
خانۂ دل جس میں مہماں تھے وہ ڈھاتے جائیے
نقش ہیں جو لوحِ دل پر وہ مٹاتے جائیے
خونِ دل جتنا جلانا ہے جلاتے جائیے
جشنِ بربادی محبت کا مناتے جائیے
سُرخرو ہیں آپ تو پھر سر اُٹھاتے جائے
جاتے جاتے مجھ سے پھر نظریں مِلاتے جائیے
کیوں کیا ترکِ تعلق مجھ سے آخر آپ نے
کیا خطا تھی میری یہ مجھ کو بتاتے جائیے
اِک ہنسی پر آپ کی میں مَرمِٹا دیوانہ وار
آپ سے کس نے کہا مجھ کو رُلاتے جائیے
قصرِ دل میں آکے میرے کیوں جلایا تھا اسے
ہے یہ یادوں کا دیا اس کو بجھاتے جائیے
چار دن کی چاندنی ہے یہ جہانِ آب و گِل
جس طرح پہلے ہنساتے تھے ہنساتے جائیے
آپ کا بھی جلد ہی آئے گا یومِ احتساب
ہے جو دوگز کی زباں منھ میں چلاتے جائیے
زندگی کا ماحصل ہوگی مری اس کی مہک
گلشنِ ہستی میں کوئی گُل کِھلاتے جائیے
دوستی کا گھونٹ دیں اپنے ہی ہاتھوں سے گلہ
فرض ہے جو دوستی کا وہ نبھاتے جائیے
آپ کو جون ایلیا کی دے رہا ہوں میں قسم
گا رہےتھے ان کی جو غزلیں وہ گاتے جائیے
کہہ رہا ہے آپ سے جو آج برقی اعظمی
اس کی سنئے اور اپنی بھی سناتے جائیے


میری قربانیوں کا صلہ کچھ نہیں : احمد علی برقی اعظمی ۔۔۔ بشکریہ حریم سخن


یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے بشکریہ : دیا ادبی گروپ احمد علی برقی اعظمی



یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے
بشکریہ : دیا ادبی گروپ
احمد علی برقی اعظمی
یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے
تم ہو غنچہ و گُل کے آج پاسباں اس کے
فرض جو ہمارا تھا کردیا ادا ہم نے
ہیں تمہارا سرمایہ آج نوجواں اس کے
تم امین ہو جس کے وہ مری امانت ہے
میہماں ہوںمیں جس میں تم ہو میزباں اس کے
یاد ہے تمہیں بھی کیا ان کی یہ فداکاری
آج جتنے چہرے ہیں زیبِ داستاں اس کے
کیا کبھی تَرَس آیا تم کو ان کی حالت پر
خوشنوا عنادل کیوں اب ہیں نوحہ خواں اس کے
قافلے کاکیوں اس کے منتشر ہے شیرازہ
اس لئے بنے تھے کیا میر کارواں اس کے
زد پہ آج برقی کا کیوں ہے آشیاں ان کی
اِرد گِرد رہتی ہیں صرف بجلیاں اس کے


روزنامہ انقلاب، پٹنہ کے مجوزہ مصرعہ طرح: ’’چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے‘‘ پر آج مورخہ ۱۷ اگست کے روزنامہ انقلاب پٹنہ میں شایع خاکسار کی طرحی غزل احمد علی برقی اعظمی بشکریہ روزنامہ انقلاب۔ صفحہ ۱۲ بتاریخ ۱۷ اگست ۲۰۱۸


چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے: نذرِ بسمل عظیم آبادی ۔۔۔بسمل عظیم آبادی کے مصرعہ طرح پر روزنامہ انقلاب پٹنہ کے ماہ رواں کے طرحی مشاعرے کے لئے لکھی گئی خاکسار کی فی البدیہہ طرحی غزل ، بشکریہ روزنامہ انقلاب پٹنہ بتاریخ ۱۷ اگست ۲۰۱۸




بسمل عظیم آبادی کی زمین میں روزنامہ انقلاب پٹنہ کے طرحی مشاعرے کے لئے خاکسار کی غزل کے ساتھ چند مزید شعرا کی طرحی غزلیں
بشکریہ : روزنامہ انقلاب پٹنہ بتاریخ
۱۷ اگست ۲۰۱۸
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
سکون ملتا ہے جس کو مجھے ستانے سے
نہ باز آئے گا وہ مجھ پہ مُسکرانے سے
بہار صحنِ چمن میں ہے میرے آنے سے
چلا گیا تو نہ آؤں گا پھر بُلانے سے
خزاں کے بس میں نہیں روک دے وہ رشد و نمو
’’ چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے ‘‘
امیر شہر کو آنا ہے گر خود آجائے
ہے احتراز مجھے اُس کے پاس جانے سے
اُسے ہے بارِ سماعت ہر ایک بات مری
ملے گا کیا اُسے سوزِ دروں سنانے سے
ہے بے لگام جو عہدِ رواں میں اشہبِ وقت
ڈرے وہ کہہ دو زمانے کے تازیانے سے
وہ سوچتا ہے کہ مسند نشین پھر ہوگا
مجھے ہی تختۂ مشقِ ستم بنانے سے
کہو مِلائے نہ آنکھیں وہ موجِ دریا سے
حباب ٹوٹ گیا اپنا سر اُٹھانے سے
دکھا رہا ہوں اسے اس کی شکل میں اُس میں
وہ کیوں ہے چیں بہ جبیں آئینہ دکھانے سے
ہیں آس پاس کئی اور بستیاں موجود
جلن ہے کیوں اُسے بس میرے آشیانے سے
مجھے سمجھتا ہے جو اپنا مُہرۂ شطرنج
وہ چوکتا نہیں اپنے کبھی نشانے سے
تھا مارِ آستیں جب خود ہی میرا پروردہ
نہیں ہے اب کوئی شکوہ مجھے زمانے سے
خدانے دی ہے مرے منھ میں بھی زباں برقیؔ
اگر میں بولا تو بولوں گا پھر ٹھکانے سے



یاد رفتگاں : بیاد سابق وزیر اعظم ہند اتل بیہاری واچپئی احمد علی برقیؔ اعظمی पूर्व प्रधान मंत्री श्री अटल बिहारी वाजपेयी के निधन पर श्रद्धांजली डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी



पूर्व प्रधान मंत्री श्री अटल बिहारी वाजपेयी के निधन पर श्रद्धांजली 
डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी 
अटल बिहारी जो साबिक़ वज़ीर ए आज़म थे 
वह आज आलम ए फ़ानी से हो गए रुखसत 
उन्हें अज़ीज़ थी हर शै से अपनी इज़्ज़त ए नफ़्स 
था उनका क़ौल " उन्हें मौत से नहीं वहशत "
कई थे अहल ए सियासत जो आये और गए 
था उनका औज ए शराफ उनके इल्म की दौलत 
क़लम के थे जो धनी नेहरू और वाजपेयी 
जहां में उससे थी दोनों की आलमी शोहरत
थे अपने अहद के वह एक सुख़नवर ए मारूफ 
थी उनके रंग ए तग़ज़्ज़ुल में नुदरत व रफ़अत
था उनके नाम की ज़ीनत ख़िताब ए भारत रत्न 
शआर ए ज़िन्दगी उनका था जज़्बा ए खिदमत 
हमारे दरमियान बर्क़ी है उनका दरस ए अमल 
रहें गए मर के भी तारीख हिन्द की ज़ीनत


یاد رفتگاں : بیاد سابق وزیر اعظم ہند اتل بیہاری واچپئی
احمد علی برقیؔ اعظمی
اٹل بیہاری جو سابق وزیر اعظم تھے
وہ آج عالمِ فانی سے ہو گئے رخصت
اُنہیں عزیز تھی ہر شے سے اپنی عزتِ نفس
تھا ان کا قول ’’ اُنہیں موت سے نہیں وحشت ‘‘
کئی تھے اہلِ سیاست جو آئے اور گئے
تھا اُن کا اوج شَرَف ان کے علم کی دولت
قلم کے تھے جو دھنی نہرو ؔ اور واچپئیؔ
جہاں میں اُس سے تھی دونوں کی عالمی شہرت
تھے اپنے عہد کے وہ اک سخنورِ معروف
تھی اُن کے رنگِ تغزل میں نُدرت و رفعت
تھا اُن کے نام کی زینت خطابِ بھارت رتن
شعارِ زندگی اُن کا تھا جذبۂ خدمت
ہمارے درمیاں برقی ؔ ہے اُن کادرسِ عمل
رہیں گے مَر کے بھی تاریخِ ہند کی زینت

Barqi Azmi Reciting Topical poetry On Independence Day In A Function Of ...

اک جشن باوقار ہے یہ پندرہ اگست احمد علی برقیؔ اعظمی एक जश्न ए बावक़ार है यह १५ अगस्त डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी


एक जश्न ए बावक़ार है यह १५ अगस्त
डॉ. अहमद अली बर्क़ी आज़मी
एक जश्न ए बावक़ार है यह १५ अगस्त
एक वजह ए इफ़्तेख़ार है यह १५ अगस्त
परचम गुशाई कीजिये हर जा बसद ख़ुलूस
मीज़ान ए एतेबार है यह १५ अगस्त
आज़ाद जब हुआ था ग़ुलामी से यह वतन
उसकी ही यादगार है यह १५अगस्त
दुनिया में है जो हिन्द की अज़मत का एक निशाँ
वह जश्न ए शानदार है यह १५ अगस्त
गुलहाए रंगा रंग है इसके नज़र नवाज़
सब के गले का हार है यह १५ अगस्त
सब के सुकून ए क़ल्ब का बाइस हो यह न क्यों
एक नखल ए सायादार है यह १५ अगस्त
जितना भी दिल लगाना है इससे लगाइये
बस प्यार प्यार प्यार है यह १५ अगस्त
जितना भी कोई नाज़ करे इस पे है वह काम

बर्क़ी तेरा वक़ार है यह १५ अगस्त

اک جشن باوقار ہے یہ پندرہ اگست
احمد علی برقیؔ اعظمی
اک جشنِ باوقار ہے یہ پندرہ اگست
اک وجہہِ افتخار ہے یہ پندرہ اگست
پرچم گشائی کیجئے ہرجا بصد خلوص
میزانِ اعتبار ہے یہ پندرہ اگست
آزاد جب ہوا تھا غلامی سے یہ وطن
اس کی ہی یادگار ہے یہ پندرہ اگست
دنیا میں ہے جو ہند کی عظمت کا اک نشاں
وہ جشنِ شاندار ہے یہ پندرہ اگست
گلہاہے رنگا رنگ ہیں اس کے نظر نواز
سب کے گلے کا ہار ہے یہ پندرہ اگست
سب کے سکونِ قلب کا باعث ہو یہ نہ کیوں
اک نخلِ سایہ دار ہے یہ پندرہ اگست
جتنا بھی دل لگانا ہے اس سے لگائیے
بس پیار پیار پیار پیار ہے یہ پندرہ اگست
جتنا بھی کوئی ناز کرے اس پہ ہے وہ کم
برقیؔ ترا وقار ہے یہ پندرہ اگست



نسائی لب و لہجے کی ممتاز شاعرہ میناؔ نقوی کے شعورِ فکر و فن پر منظوم تاثرات ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی



نسائی لب و لہجے کی ممتاز شاعرہ میناؔ نقوی کے شعورِ فکر و فن پر منظوم تاثرات
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
میناؔ نقوی کے تغزل کا الگ انداز ہے
جذبۂ نسواں کی ان کی شاعری آواز ہے
وہ بیاں کرتی ہیں عصری کرب کی جو داستاں
اجتماعی زندگی کا اُس میں سوز و ساز ہے
اُن کے سینے میں دھڑکتا ہے دلِ درد آشنا
عالمی شہرت کا مُضمرجس میں اُن کی راز ہے
اُن کے نو مجموعۂ اشعار ہیں وردِ زباں
ان کی غزلوں سے نمایاں ذہن کی پرواز ہے
’’ سائباں ‘‘ اور ’’ بادباں‘‘ ہیں عہدِ نو کی داستاں
’’ درد پَت جَھڑ کا ‘‘ نسائی کرب کی آواز ہے
’’ کرچیاں ہیں درد کی ‘‘ ہندی میں اُن کی دلفگار
اہلِ ہندی کو بھی اُن کی شاعری پر ناز ہے
’’ جاگتی آنکھیں ‘‘ بیاں کرتی ہیں دردِ ہجر کو
’’ منزل ‘‘ اور ’’ آئینہ اوجِ فکر کا اعجاز ہے
شاعری ہے ان کی برقیؔ زندگی کی ’’ دھوپ چھاؤں ‘‘
نُدرتِ فکر و نظر کی اُن کی جو غماز ہے



’’آر زوئے صبح‘‘ : فکر و فن کے آئینے میں : ڈاکٹر محمد معراج الحق برقؔ ذکریا کالونی، سعد پورہ مظفر پور



’’آر زوئے صبح‘‘ : فکر و فن کے آئینے میں
ڈاکٹر محمد معراج الحق برقؔ
ذکریا کالونی، سعد پورہ
مظفر پور
بلاشبہ ایک باغباں کے دل کی کلیاں فرطِ مسرت سے کھل اُٹھتی ہیں، جب وہ اپنے ہاتھوں سے بصد تمنا و آرزو لگائے ہوئے اور خونِ دل سے سینچے ہوئے نرم و نازک نونہال کو ایک سر سبزو شاداب اور تنا ور درخت کی شکل میں مشاہدہ کرتا ہے۔ میں اپنے تلمیذ عزیز اور سعادت مند ولی اللہ ولیؔ کے شعری مجموعہ بعنوان ’’آرزوئے صبح‘‘ کو اسی تناظر میں دیکھتا ہوں اور اس کا خلوص دل سے خیر مقدم کرتا ہوا انھیں مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں :
قائم رہے دائم یہ ترا جہدِ مسلسل
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
رنگیں ہو ترا لوح و قلم خونِ جگر سے
کیوں کر نہ ہو پھر حسنِ رقم اور زیادہ
موصوف اپنے شعری مجموعہ کا آغاز تبرکاً و تیمناً حمدو مناجات سے کرتے ہیں اور بارگاہِ رب العزت میں اپنے نازک احساسات و جذبات کا نذرانہ نہایت خلوص و عاجزی کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ نعتیہ کلام کے ذریعے دربارِ رسالت میں گلہائے عقیدت نچھاور کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ حمد گوئی یا نعت نگاری ایک مشکل اور نازک صنفِ سخن ہے۔ اس دشوار گزار وادی سے کامیابی کے ساتھ عہد بر آ ہونا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایک معمولی سی لغزش اور بے احتیاطی ایمان و عقیدہ کی غارت گری کے لیے کافی ہے۔ عرفیؔ جیسا قادر الکلام اور یکتائے روز گار شاعر بھی اس وادی میں سرنگوں نظر آتے ہیں اور یہ کہے بغیر نہ رہ سکے ؎
عرفیؔ مشتاب این رہِ نعت است نہ صحراست
ہشدار کہ رہ بردمِ تیغ است قدم را
صاحبِ مجموعہ نے حمد گوئی اور نعت نگاری کے سلسلے میں کمال احتیاط سے کام لیا ہے اور اُن مقدس ولا ثانی ہستیوں کے شان و شکوہ، جاہ و جلال اور وقاروتقدس کو مجروح ہونے سے بچالیا ہے۔
موصوف کے ذریعے پیش کردہ سبھی نعتوں میں دینی ماحول اور اسلامی معاشرہ کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انھوں نے حمدو نعت گوئی کے سلسلے میں سارے اصول و ضوابط، آداب اور تقاضوں کو پورا کیا ہے۔ یہ نعتیں شاعر کے ذہنی رجحانات اور اسلامی احساسات و جذبات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بطور نمونہ مناجات اور نعتیہ کلام کے چند اشعار ملا خطہ ہوں :
مناجات :
ماسوا اِس کے کیا اے خدا مانگتا ہوں
تجھ سے میں مانگنے کی ادا مانگتا ہوں
کیا کروں، کیا کہوں، کچھ نہیں جانتا ہوں
تجھ سے میں مانگنے کی ادا مانگتا ہوں
جن کے صدقے میں دنیا بنائی گئی ہے
اُن کا صدقہ بروزِ جزا مانگتا ہوں
جس کو قرآں میں واللَّیل تو نے کہا ہے
حشر کی دھوپ میں وہ گھٹا مانگتا ہوں
نعت :
کوئی ایسا منظر نہیں ہے
جو اُن سے مُنّور نہیں ہے
نہیں جس میں سودائے الفت
وہ سر واقعی سر نہیں ہے
نہ بدلے جہاں جا کے قسمت
وہ در آپ کا در نہیں ہے
کرے نقشِ پا ثبت دل پر
یہ سب کا مُقّدر نہیں ہے
شعری مجموعہ میں اخلاقیات اور صوفیانہ عقائد سے متعلق مضامین کثرت سے پیش کیے گئے ہیں جن میں بیش قیمت درسِ حیات اور اصول زندگی پوشیدہ ہیں۔ موصوف نے اخلاقی اور تہذیبی قدروں کو نہایت خوبصورتی سے اُجاگر کیا ہے۔ ہر جگہ فنی حسن اور فکری توانائی کار فرما ہے۔ بطور نمونہ چند اشعار ملاحظہ ہوں :
جو لہو سے ہوں ہمارے روشن
اُن چراغوں کو جلایا جائے
دھن والوں کے پاس ہے دھن اور کچھ بھی نہیں
دھن کے علاوہ سب کچھ دیکھا نر دھن میں
باغِ جنت نہ مجھ کو عدن چاہیے
دوستو مجھ کو خاکِ وطن چاہیے
چشتی و نانک و بدھ کی دھرتی ہے یہ
بس محبت چمن در چمن چاہیے
میری دھرتی کرے ناز جس پر ولیؔ
ایسا تن چاہیے ایسا من چاہیے
صوفیانہ عقائد :
اللہ اللہ یہ اعجازِ چشمِ نبیؐ
اُس نے دیکھا جسے دیدہ ور ہو گیا
کفر ہے مایوس ہونا رحمتوں سے
اے ولیؔ اس کا کرم تو بے کراں ہے
چاہے جتنا ہی پٹک لے سر کوئی
اذنِ حق ہی سے کھلے گا در کوئی
زندگی بھر سامنے دنیا کے میں روتا رہا
اپنے رب کے سامنے اک دن تو روکر دیکھتا
جرأت و بے باکی اور حق گوئی و حق بینی کا شمار فضائلِ حمیدہ میں ہوتا ہے۔ یہی وہ صفات ستودہ ہیں جو جہاد زندگانی میں شمشیر اور انسانیت کے ارتقا اور تحفظ و بقا کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہیں۔ بالغ نظر شاعر نے ایک ایسے مرد مجاہد کا تصور پیش کیا ہے جو کارزارِ حیات میں ہمہ دم تیغ و سناں سے نبرد آزما ہے اور نامساعدو حوصلہ شکن حالات میں بھی صبر و قناعت کا دامن نہیں چھوڑتا۔ وہ قنوطیت کو بہ نظرِ استحقار دیکھتا ہے اور رجائیت پسندی اُس کا اصل معیار زندگی ہے۔ وہ جنازہ بردوش قسم کا انسان نہیں، بلکہ نازک ترین اور پیچیدہ ترین حالات میں بھی مسکرانا جانتا ہے۔ چند جُرأت مندانہ اشعار ملاحظہ ہوں :
مجھے کیا روک پائے گی بھلا رستے کی دشواری
مرے پائے تمنا کو ٹھہر جانا نہیں آتا
کوئی آخر مجھے دارو رسن سے کیوں ڈراتا ہے
جنون پیشہ ہوں میں جاؤں گا سوئے دار چٹکی میں
وہ جو رکھتے ہیں منزل پہ اپنی نظر
راہ چلتے نہیں فاصلہ دیکھ کر
موت ہے دراصل پیغامِ حیات
موت سے اہلِ جنوں گھبرائیں کیوں
عشقیہ شاعری :
غزل نگاری موصوف کی محبوب ترین صنف سخن رہی ہے۔ اس میدان میں انھوں نے مہارت تامہ اور کمالِ فن کا جو ہر دکھایا ہے۔ شعری مجموعہ کا زیادہ تر حصہ اسی صنف شاعری پر مشتمل ہے۔
یہ ایک عالمی صداقت اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ شاعری کے ابتدائی مرحلے میں ہر شاعر فطری طور پر جمال پرست نظر آتا ہے۔ بنیادی طور پر وہ دلدادۂ حسن ہو یا نہ ہو، شاعری کی وادی میں قدم رکھتے ہی وہ ایک عاشقِ زار کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ افسرؔمیرٹھی کو عصر حاضر کے نوجوان شاعروں پر طنزیہ وار کرتے ہوئے کہنا پڑا:
ہے شاعری میں یہ پہلا اصول موضوعہ
کہ جھوٹ موٹ کے بن جائیں ایک عاشق زار
بلکہ شدتِ نفرت میں انھوں نے یہاں تک کہہ دیا ع
یہ ان کی نور بھری شاعری خدا کی مار
ان کا قول سر اور آنکھوں پر، مگر وہ شاید اس حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں کہ عشق ایک ایسا محور ہے جس کے گرد اخلاق، تصوف اور فکرو فن ہمہ دم محوِ گردش ہیں۔ چنانچہ دنیا کے عظیم صوفی اورفلسفی شاعروں نے شاعری کی ابجد مکتبِ عشق ہی سے حاصل کی۔
موصوف بنیادی طور پر عشقیہ شاعری کے دلدادہ رہے ہیں۔ وہ اس وادی میں ایک عاشق جانباز اور کسی تصوراتی محبوبِ دلنواز و عشوہ طراز کے اسیرِ زلف ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں حسن و عشق سے متعلق سارے حرکات و سکنات اور لوازمات و کیفیات مثلاً و صل و فراق شراب و شباب، شوخی، شرارت، بے نیازی، کج ادائی اور بے وفائی و دلرُبائی کو موضوعِ سخن بنایا ہے اور تلخ و شیریں احساسات و جذبات اور تجربات و مشاہدات کی ترجمانی کی ہے۔ حسبِ ذیل اشعار میں حسن و عشق کی کار فرمائیاں ملاحظہ ہوں :
جھیل سی اُن آنکھوں میں، میں ہوں اور زمانہ بھی
دیکھنا یہ ہے تہہ میں کون اب اُترتا ہے
میں اسی پری رو کو دیکھ دیکھ جیتا ہوں
جس کے اک تبسم پر اک جہان مرتا ہے
آپ جلوؤں کو اپنے سمیٹے رہیں
مجھ سے کوئی خطا ہو نہ جائے کہیں
ہر نفس کربِ مسلسل لمحہ لمحہ خوں چکاں
تو نہیں تو زندگی ہے اک متاعِ رائیگاں
خدا جانے ڈھائے گا کیا کیا قیامت
لڑکپن چلا اب شباب آ رہا ہے
محبت میں بجز رسوائیاں کچھ بھی نہیں ملتا
سمجھتا ہوں مگر اس دل کو سمجھانا نہیں آتا
کیا جفا اور کیا وفا اُن کی ولیؔ
ہر ادا ہے دِلفریب و دِلرُبا
جنابِ شیخ یہ مسجد نہیں ہے بزمِ جاناں ہے
یہاں دیوانے آتے ہیں کوئی دانا نہیں آتا
شعری مجموعے میں اس قسم کے سینکڑوں دل کے تاروں کو جھنجھوڑنے والے اشعار دستیاب ہیں۔ ہر جگہ فکری جو لانیت اور فنی لطافت کا منظر ہے الفاظ کا درو بست، صوتی آہنگ، حسنِ ترتیب، غنائیت وموسیقیت نے شانِ دِلرُبائی پیدا کر دی ہے۔ غزل نگاری کے سارے آداب اور تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔
رازِ درونِ میخانہ کو بے نقاب تو کیا ہے مگر عامیانہ پن، سوقیانہ پن، سطحیت اور سستی جذباتیت سے دامن بچانے کی کوششِ بلیغ کی ہے۔ وہ سودائی ہیں لیکن جنس زدگی کے شکار نہیں۔ سنجیدگی و متانت کو بہر حال برقرار رکھا ہے۔ اُن پرنسائیت کا جن سوار نہیں۔ اُن کی دیوانگی میں فرزانگی اور سنبھلی ہوئی کیفیت ہے۔ جب کہ اس حمام میں کیسے کیسے لوگ ننگے نظر آتے ہیں۔
جہاں تک اسلوبِ بیان اور طرزِ نگارش کا تعلق ہے، شاعر نے بہت حد تک روایتی انداز بیان اختیار کیا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ روایت پسند ہیں، روایت پرست نہیں۔ روایتی اندازِ بیان میں بھی صفائی، شستگی اور نیا رنگ و آہنگ کی جھلک ہے جس کی وجہ سے لطف و جاذبیت کی مخصوص فضا پیدا ہو گئی ہے اور انفرادی شان کی نقل و حرکت واضح طور پر نظر آتی ہے۔
ان کی شاعری کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ما فی الضمیر کو براہِ راست پیش کرنے کے عادی ہیں۔ انھوں نے ایسے ابہام، رمزو کنا یہ اور پیچیدگی سے پرہیز کیا ہے جو افہام و تفہیم میں رکاوٹ پیدا کرے۔ وہ پیش پا افتادہ اور پامال مضامین کو ایسے تخلیقی شعور اور فنی نزاکت کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ ان میں جدّت و تازگی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے اور روایت کی قدامت اور کہنگی کا شائبہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ یہی شعریت ہے۔ شاعری کی روح اور حقیقت یعنی شعریت یہ ہے کہ شاعر اپنے احساسات، جذبات اور محسوسات و مشاہدات کو ایسے لطیف اور شائستہ انداز میں پیش کرے کہ سامعین یا قارئین ان کو اسی شدت سے محسوس کریں جیسا کہ شاعر نے محسوس کیا تھا اور انھیں وہی فرحت و مسرت یا رنج و کلفت کا احساس ہو جس سے شاعر گزر چکا ہے۔ بالفاظ دِگر شاعر کے سارے احساسات و جذبات تجسیمی کیفیت اختیار کر کے قلب و جگر پر مجلّٰی ہو اٹھتے ہیں۔ یہی انفرادیت ہے جو نئے نئے اُسلوب اور لب و لہجے کو جنم دیتی ہے اور یہ وہ حد فاصل ہے جو شاعر اور متشاعر کے مابین فرق و امتیاز قائم کرتی ہے۔ اس امر کے حصول کے لیے شاعر کو ایسے جامع، موضوع، فعال اور ناطق الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے جو شاعر کے تلخ و شیریں احساسات، جذبات اور تجربات و مشاہدات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ایسے حسنِ ترتیب سے مُزیّن و آراستہ ہو جاتے ہوں کہ موسیقیت اور معنویت کی ایک حسین فضا قائم ہو جائے۔ ایک فطری اور وہبی شاعر کے ذہنی تارو پود اس قدر متحرک و حسَّاس اور غیر معمولی قوت متخیلہ اور مدرکہ کے حامل ہوتے ہیں کہ اسے تخلیقی عمل کے دوران الفاظ کے ترک و اخذ اور حذف و اضافے کی صلیب سے گزرنا نہیں پڑتا۔ وہ الفاظ صفحۂ قرطاس پر آنے سے پہلے ہی شاعر کی ذہنی سطح پر خود بخود شعری پیکر میں ڈھل جاتے ہیں۔
زیر بحث شعری مجموعے میں متعدد ایسے اشعار نظر آتے ہیں جن میں فطری بہاؤ، تسلسل و روانی اور زیر و بم کی کیفیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ تکلمانہ شان اور مخصوص جوشِ بیان نے عجیب اثر و جاذبیت پیدا کر دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی آبشار بلندی سے گرتی پڑتی، اُچھلتی کودتی، بل کھاتی، بپھرتی اور اٹکھیلیاں کرتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ بطور نمونہ تلاطم خیز یاں ملاحظہ ہوں :
پھول ہے یا شیشہ ہے یا کوئی پتھر دیکھتا
کاش وہ بھی آئینے میں اپنا پیکر دیکھتا
چاند ہے یا چاندنی ہے پھول ہے یا رنگ ہے
کاش اس پیکر کو میں ہاتھوں سے چھوکر دیکھتا
یہ بھی اچھّا ہی ہوا، مجھ کو نہ نیند آئی کبھی
ورنہ خوابوں میں بھی میں سوکھا سمندر دیکھتا
سوزِ دل سے آشنا ہوتی تری ہستی ولیؔ
اپنے دل کے داغ کو اشکوں سے دھوکر دیکھتا
اس شعری مجموعے میں دو مختصر فارسی تخلیقات بھی نظر آتی ہیں۔ ایک پابند اور دوسری آزاد بعنوان ’’باغباں ‘‘ہے۔ فارسی غزل میں شاعر نے مروجہ عشقیہ خیالات اور درد و غم سے بھرے جذبات کی ترجمانی نہایت سادہ سلیس اور سہل انداز میں کی ہے۔ ان میں حسرت ویاس اور زندگی سے بیزاری کی جھلک نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ نمونہ کے چند اشعار پیش ہیں :
درد دارم لیک درمانی ندارم
بر درِدلِ ھیچ دربانی ندارم
مدتی در آرزوی التفاتش
حق بگویم جز پشیمانی ندارم
کی برآید حرفِ شکوہ بر لبِ من
عاشقم عشقِ نمایانی ندارم
نظم ’’باغبان‘‘ میں شاعر ایک سر سبز تنا ور درخت سے سوال کرتا ہے کہ کیا اُسے دنیا سے رخصت ہو جانے والے باغبان کی یاد آتی ہے جس نے اس کی آبیاری کی تھی۔ وہ درخت بہ زبانِ حال جواب دیتا ہے کہ ہاں ! جب کوئی تھکا ماندہ مسافر اس کے نیچے آرام کرنے کے لیے بیٹھ جاتا ہے اور اس کے پھل اور پھول سے متمتع ہوتا ہے تو باغباں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یعنی جب تک اس میں تازگی ہے باغباں کی یاد بھی تازہ رہے گی۔ اشعار ملاحظہ ہوں :
یادش تازہ ترمی گردد
وقتی کسی درسایۂ من می آید
گل و ثمر را زشاخہایم می گیر د
یادش می آید آن پیر مردی
موصوف نے اس شعری مجموعے میں فکرو فلسفہ، عصری رجحان، سماجی شعور، نفسیاتی حقائق اور تہذیبی قدروں کی پیش کش کر کے تنوع پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ بالفاظ دیگر یہ مجموعہ جلوۂ صد رنگ ہے جو ادب شناسوں کو اپنی جانب متوجہ ہونے پر مجبور کرتا ہے۔
واضح رہے کہ موصوف درس و تدریس سے نہیں بلکہ آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی میں محکمۂ نشریات سے منسلک ہیں۔ یہ اُن کا غیر معمولی علمی شغف اور شعر و ادب سے فطری وابستگی ہے جس نے انھیں پرورشِ لوح و قلم کرنے پر مجبور کر رکھا ہے اور یہ مجموعہ موصوف کے ادبی سفر کا پہلا پڑاؤ ہے۔ ابھی شعری تجربات کے بہت سے مراحل طے کرنے باقی ہیں۔ اس پہلے مجموعہ میں دستیاب فکری توانائی اور فن کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم بلا تردد کہہ سکتے ہیں کہ ان کا جہدِ مسلسل بارگاہِ شعر و ادب میں باریابی کے لیے ضامن کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان تفصیلات کے پیش نظر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ موصوف اپنے ہم عصروں میں منفرد و ممتاز اور صفِ اوّل کے شاعر ہیں۔ دعا ہے کہ شعر و ادب کے طویل سفر کی صعوبتوں اور پُر خار راہوں کی پروا کیے بغیر وہ سدا رواں دواں رہیں۔
زفرق تا بقدم ہرکُجا کہ می نگرم
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا انیجاست
٭٭٭


Top of Form
Bottom of Form



غالب اکیڈمی، نئی دہلی میں ادبی نشست کا انعقاد




غالب اکیڈمی ،نئی دہلی میں ادبی نشست کا انعقاد
گزشتہ روز غالب اکیڈمی ،نئی دہلی میں ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت جی آر کنول نے کی ،انھوں نے کہا کہ ارسطو نے کہا تھا کہ تین گھنٹے سے زیادہ کوئی بھی ادبی جلسہ سننا مشکل ہے لیکن غالب اکیڈمی کی نشست میں شاعری کے ساتھ ساتھ مضامین افسانے بھی پڑھے جاتے ہیں جس سے طبعیت پر گرانی نہیں ہوتی جی چاہتا ہے نشست جاری ر ہے،نشست میں چشمہ فاروقی نے ابھاگن کے عنوان سے افسانہ پڑھا اور محمد خلیل نے سائنس فکشن کالی بلی پیش کیا۔بیس شعرا نے اپنے کلام سے سامعین محظوظ کیا۔ شعرا کے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
ادب کے آسماں کو چھونے والے

کنول اردو زباں میں بھی بہت ہے

جی آر کنول
آگئی صبح طرب کی شام ‘ اچھا الوداع

ہر مسرت کا ہے غم انجام اچھا الوداع

وقارمانوی
دیکھ سکتا ہے کسی آنکھ میں آنسوکیسے

جس سے اترا ہوا چہرہ بھی نہ دیکھا جائے

ظہیر احمد برنی
ہوجائے گی حاصل مجھے تسکین نظر بھی

بیٹھا ہوں سرراہ کہ آؤ گے ادھر بھی

نسیم عباسی
صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے

یہ مکاں رات کو پھر گھر میں بدل جاتا ہے

ڈاکٹر فریاد آزر
ہزار کانٹوں میں کھلتے گلاب کی صورت

ہم ایسے لوگ ہی کچھ باکمال زندہ ہیں

ظفر مراد آبادی
تھا کبھی حاشیہ بردار جو اپنا برقی

جب وہ دینے لگے خیرات تو دکھ ہوتا ہے

احمد علی برقی اعظمی
ابھی گو میں نے پہنچانی نہیں ہے

مگر آواز انجانی نہیں ہے

متین امروہوی
ستم ڈھانا کبھی مظلوم پر اچھا نہیں ہوتا

جوطاقت ظلم ڈھاتی ہے دھراشائی بھی ہوتی ہے

عزم سہریاوی
بزرگوں نے کبھی بنیاد کی جانب نہیں دیکھا

نتیجے میں ہم اپنے گھر کے آثاروں سے ڈرتے ہیں

شاہد انور
کل جو آئے تھے میری دعوت میں

کر رہے ہیں وہی عداوت اب

اسد رضا
ڈھونڈتی ہوگی ہمیں خاموشی

بچے جب شور مچاتے ہوں گے

دویا جین
ترک تعلقات کا اک فائدہ ہوا

اب جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں رہی

اسرار رازی
کرتا تھا شاہ کو سلام، ملنا تھا کچھ انعام و نام

میں تھا فقیر بے نیاز میں نے بھی ہاں نہیں کہا

فروغ الاسلام
چل کر زمیں سے چاند بھی ہم چھو کے آگئے

کوئی بھی کام آج کل مشکل نہیں رہا

نزاکت امروہوی
جب بھی دریا کے پاس پہنچا ہوں

لوٹ آیا ہوں ہونٹ تر کرکے

سیف الدین سیف
موج ساگروں کی بچا لاتی ہیں اکثر کشتیاں

اور پھر ساگر ہی کشتیاں نگل جاتا ہے

رضیہ حیدر خان
اندھیروں میں اجالوں کی کمی محسوس ہوتی ہے

ہمیشہ ہم خیالوں کی کمی محسوس ہوتی ہے

حاذق،حاذق
نشست میں ونے،محمد انس فیضی،ڈاکٹر شہلا احمد نے اپنے کلام پیش کئے۔