وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام ایک سو سات غیر ملکی اور دیگر ہندوستانی اور علاقائی زبانوں میں ایک ہزار ایک سو گیارہ صفحات ہر مشتمل ایک ضخیم شعری مجموعے اور عالمی ہمہ لسانی مشاعرے پر منظوم تاثرات : احمد علی برقیؔ اعظمی










وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام ایک سو سات غیر ملکی اور دیگر ہندوستانی اور علاقائی زبانوں میں ایک ہزار ایک سو گیارہ صفحات ہر مشتمل ایک ضخیم شعری مجموعے اور عالمی ہمہ لسانی مشاعرے پر منظوم تاثرات : احمد علی برقیؔ اعظمی
دس نومبر کا وجے واڑا میں دن تھا یادگار
رونمائی کی وہاں تقریب تھی اک شاندار
کلچرل سینٹر وجے واڑا کے زیر اہتمام
بین الاقوامی تھا یہ اجلاس فخر روزگار
میرے یار مہرباں جاویدؔ کا تھا لطفِ خاص
ساتھ تھی اُن کے سکونت میری وجہہ افتخار
پدمجا پیڈی تھیں اس تقریب کی روح رواں
جس میں شامل سولہ ملکوں کے تھے شعرا نامدار
ملٹی لینگول شعری مجموعے کا اجرا تھا وہاں
جس کے ہے صفحات کی زینت کلامِ خاکسار
مختلف لہجوں میں سننے کو ملے دلکش کلام
جن کے گلہائے مضامیں سے فضا تھی مُشکبار
چوتھا یہ مجموعۂ اشعار ہے اس بزم کا
جس کے ہے صفحات کی برقیؔ ضخامت اک ہزار


بشکریہ : شعرو سخن ڈاٹ نیٹ ، ٹورانٹو کناڈا وجے واڑا کلچرل سینٹر آندھرا پرادیش کے زیر اہتمام بعنوان امراوتی پوئیٹک پریزم۔ ۲۰۱۸ ایک سو سات عالمی اور ہندوستانی زبانوں میں ایک ہزار ۱یک سو گیارہ صفحات پر مشتمل ایک ضخیم عالمی شعری مجموعے کی تقریب رونمائی اور شعری نشست رپورٹ : جاوید نسیم و ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی

Kaukab Zaki Of Hyderabad Reciting His Ghazal in Amaravati Poetic Prism-2018 At Vijayawada

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Urdu Poetry Published in Amravati Poetic Prizm 2018 in the Cultural Center Of Vijayawada Andhra Pradesh










Amaravati Poetic Prism -2017: International Multilingual poets Meet

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Ghazal in Amaravati Poetic Prizm- 2017 ...

مصرعۂ طرح : جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں (مظفر احمد مظفر )ؔ عالمی انعامی طرحی مشاعرہ اردو ادب اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی




عالمی انعامی طرحی مشاعرہ اردو ادب اکتوبر ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی
مصرعۂ طرح : جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں (مظفر احمد مظفر )ؔ
احمد علی برقیؔ اعظمی
کیا بتاؤں بنِ ترے اے جانِ جاں کچھ بھی نہیں
جسم و جاں میں اب مرے تاب و تواں کچھ بھی نہیں
تونہیں تو میرے یارِ مہرباں کچھ بھی نہیں
بِن ترے میرے لئے عمرِ رواں کچھ بھی نہیں
میری نظروں میں وہ سنگ و خشت کا انبار ہے
تو نہ ہو جس میں مکیں ایسا مکاں کچھ بھی نہیں
کس قدر صبر آزما ہے مجھ کو تیرا انتظار
اس سے بڑھ کر زندگی میں امتحاں کچھ بھی نہیں
سایہ گُستر ہے یہ مجھ پر زندگی کی دھوپ میں
تیری زلفوں کا نہ ہو گر سائباں کچھ بھی نہیں
تجھ سے روشن ہے مری شمعِ شبستانِ حیات
تیرے آگے روشنئ کہکشاں کچھ بھی نہیں
یہ جہانَ آب و گِل میرے لئے بیکار ہے
’’جُز ترے رنگینئ کون و مکاں کچھ بھی نہیں ‘‘
گر نہ ہو ذہنی سکوں ایسے میں برقیؔ اعظمی
مال و دولت ، عیش و عشرت ، عز و شاں کچھ بھی نہیں

دیارشبلی کے ممتاز دانشور و صاحب طرز سخنورپروفیسر الطاف اعظمی ،سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات



دیارشبلی کے ممتاز دانشور و صاحب طرز سخنورپروفیسر الطاف اعظمی ،سابق وائس چیئرمین اردو اکادمی دہلی کے شعور فکر و فن پر منظوم تاثرات
احمد علی برقیؔ اعظمی
منور ہے ’’ چراغِ شب گزیدہ ‘‘
جو اک آئینہ عرضِ ہُنر ہے
ہے الطاف اعظمی کا ضوفشاں فن
نمایاں نُدرتِ فکر و نظر ہے
وہ علمِ طب ہو یا نقد و نظر ہو
شعورِ فکر اُن کا جلوہ گر ہے
کتابوں کا ہے اک انبار اُن کی
جو اُن کے نخلِ دانش کا ثمر ہے
ہیں ان کے کارنامے سب پہ روشن
ہے واقف اُن سے جو بھی دیدہ ور ہے
وہ اپنے آپ میں اک انجمن ہیں
چراغِ فکر جس کا جلوہ گر ہے
وہ برقیؔ اعظمی کے ہموطن ہیں
جو اقصائے جہاں میں نامور ہے

Lecture on: Sir Syed Ahmad's Concept of Education by Prof Altaf Ahmad Azmi

Barqi Azmi ki Nazm Rekhta par | Rekhta Studio شہرۂ آفاق اردو ویب سایٹ ریختہ کی ادبی خدمات اور افادیت پر احمد علی برقی اعظمی کے منظوم تاثرات بشکریہ ریختہ

Barqi Azmi ki Nazm Rekhta par | Rekhta Studio شہرۂ آآفاق اردو ویب سایٹ ریختہ کی ادبی خدمات اور افادیت پر احمد علی برقی اعظمی کے منظوم تاثرات بشکریہ ریختہ

’’ یارب نگاہِ اہلِ سیاست سے دور رکھ ‘‘ : سائبان ادبی گروپ کے ۹۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنامِ مظفر احمد مظفر کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی



سائبان ادبی گروپ کے ۹۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنامِ مظفر احمد مظفر کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
مکرو فریب اور رذالت سے دور رکھ
’’ یارب نگاہِ اہلِ سیاست سے دور رکھ ‘‘
بنیاد جس کی ظلم و ستم پر ہو استوار
اہلِ جہاں کو ایسی حکومت سے دور رکھ
جاری ہے آج غزہ و شام و یمن میں جو
نوعِ بشر کے خون کی تجارت سے دور رکھ
انصاف جو دلا نہ سکے بے گناہ کو
ایسے وکیل اور عدالت سے دور رکھ
محفوظ جس میں رہ نہ سکے پاکدامنی
اہلِ ہوس کی ایسی محبت سے دور رکھ
حاصل یو جو ضمیر فروشی سے ہم کو ،اُس
نام و نمود و عزت و شہرت سے دور رکھ
ہر وقت جل رہا ہے حسد کی جو آگ میں

برقی کو اس کے بُغض و عداوت سے دور رکھ

Ahmad Ali Barqi Azmi In International Multilingual Anthology Amarawati Poetic Prism 2017 On Page No 525



آپ کی یاد آتی رہی رات بھر:نذر مخدوم محی الدین۔۔۔ایک زمین کئی شاعر مخدوم محی الدین اور احمد علی برقی اعظمی ـ بشکریہ ناظم ایک زمین کئی شاعر


ایک زمین کئی شاعر
مخدوم محی الدین اور احمد علی برقی اعظمی
بیاد و نذرِ مخدوم محی الدین
غزل
مخدوم محی الدین
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر


رات بھر درد کی شمع جلتی رہی

غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر


بانسری کی سریلی سہانی صدا

یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر


یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے

چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر


کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا

کوئی آواز آتی رہی رات بھر


طرحی غزل ( بیاد و نذرِ مخدوم محی الدین )

احمد علی برقیؔ اعظمی
روئے زیبا دکھاتی رہی رات بھر
چاندنی میں نہاتی رہی رات بھر

بجھ نہ جائے کہیں شمعِ ہستی کی لَو

وہ گھٹاتی بڑھاتی رہی رات بھر
اُس
 اس آنے سے پہلے جو ویران تھی

دل کی بستی بساتی رہی رات بھر

و؎ہ دکھا کر مجھے ایک خوابِ حسیں
حسرتِ دل جگاتی رہی رات بھر

دے کے دستک درِ دل پہ بادِ صبا
نیند میری اُڑاتی رہی رات بھر

جو بنائے تھے ابتک خیالی محل
وہ اُنھیں آکے ڈھاتی رہی رات بھر

جاگنے پر تھی برقیؔ سے بیزار جو
خواب میں وہ مناتی رہی رات بھر


غزل دیگر
احمد علی برقی اعظمی
شمعِ دل وہ جلاتی رہی رات بھر
خواب میں آتی جاتی رہی رات بھر
اس کا روئے حسیں چاند سے کم نہ تھا
’’ چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر‘‘
زیرِ لب اُس کے دلکش لبوں پر ہنسی
دل پہ بجلی گراتی رہی رات بھر
لے کے قلب و جگر کا مرے امتحاں
وہ مجھے آزماتی رہی رات بھر
میرا تارِ نَفَس میرے بس میں نہ تھا
اُس پہ وہ گنگناتی رہی رات بھر
میری بیتابیٔ دل کو وہ دیکھ کر
زیرِ لب مسکراتی رہی رات بھر
اُس کے وعدے سبھی وعدۂ حشر تھے
وہ ہنسا کر رلاتی رہی رات بھر
شمعِ امیدِ برقی شبِ وصل میں

وہ جلاتی بجھاتی رہی رات بھر


’’ نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا‘‘ فی البدیہہ طرحی غزل نذرِ میراجی : احمد علی برقی اعظمی



غزل
احمد علی برقی اعظمی
جوش جنوں میں کون ہے اپنا کون پرایا بھول گیا
’’ نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا‘‘
دیکھ کے اس کا چہرۂ زیبا عرضِ تمنا بھول گیا
مصرعہ ثانی یاد رہا پر مصرعہ اولیٰ بھول گیا
ذہن پہ اس کے حسن کا جادو ایسا اثر انداز ہوا
غمزہ و ناز مین ایسا کھویا کیا کیا دیکھا بھول گیا
چشمِ تصور میں ہے ابھی تک اس کا دھندلا دھندلا عکس
صفحہ دل پر تھا جو لب و رخسار کا خاکہ بھول گیا
آ گیا زد میں تیر نظر کی گُم ہیں اب اس کے ہوش و حواس
دردِ جگر کا خود ہی مسیحا اپنے مداوا بھول گیا
ہونے لگا ہے سوز دروں کی ابھی سے شدت کا احساس
اس کے بغیر کروں گا تنہا کیسے گذارا بھول گیا
دے گا کب دروازۂ دل پر دستک یہ معلوم نہیں
کرکے ہمیشہ برقی سے وہ وعدۂ فردا بھول گیا