بزمِ سخنوراں ادبی گروپ کے ۱۲۱ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی نعتیہ مشاعرے بتاریخ ۲۷ مئی ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی


بزمِ سخنوراں ادبی گروپ کے ۱۲۱ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی نعتیہ مشاعرے بتاریخ  ۲۷ مئی ۲۰۱۸ کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
تخلیق ہوا جن کے لئے کون و مکاں ہے
’’ سرکار کی مِدحت میں قلم میرا رواں ہے ‘‘
نام اُن کا بہ فیضانِ خدا جُزوِ اذاں ہے
سرکار دوعالم کی یہ عظمت کا نشاں ہے
مداح ہو جس ذات کا خلاقِ دوعالم
ایسا کوئی محبوبِ خدا اور کہاں ہے
وہ سورۂ کوثر ہو کہ یٰسیں کہ مزمل
قرآن کی آیات سے یہ سب پہ عیاں ہے
ہے نامِ خدا اور نبی لازم و ملزوم
خود دیکھ لیں یہ کلمۂ طیب سے عیاں ہے
کوئی بھی بَجُز ان کے نہیں شافعِ محشر
ہر صاحبِ ایماں کے یہی وِردِ زباں ہے
وہ نور جو ہے باعثِ تخلیق دوعالم
برقیؔ ہی نہیں سب کے لئے روحِ رواں ہے


ہے اس کے دستِ ناز میں تیر و کمان پھر: احمد علی برقی اعظمی


غزل : نخلِ مُراد کی مرے شاخِ اُمید جل گئی احمد علی برقی اعظمی


ڈاکٹراحمد علی برقی اعظمی کی شعری و فکری جہات روح سخن کے حوالے سے : بقلم ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا شعبۂ اردو کروڑی مل کالج،دہلی یونیورسٹی،دہلی


ڈاکٹراحمد علی برقی اعظمی کی شعری و فکری جہات
روح سخن کے حوالے سے
کلیدی الفاظ: # احمد علی برقی اعظمی#شعری و فکری جہات#روح سخن
ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا
شعبۂ اردو کروڑی مل کالج،دہلی یونیورسٹی،دہلی
ای میل:
urisath@gmail.com
urisath@yahoo.com
موبائل:+91-9968244001
تلخیص:
روح سخن ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی شعری و فکری جہات کا آئینہ دار دستاویز ہے۔جس کا مطالعہ قارئین کو اس شاعری سے آگاہ کراتا ہے جو معیاری اور کلاسیکی شاعری کی طرف اشارہ کر تا ہے۔روح سخن اردوشاعری کے سرمائے میں ایک بہترین اور خوش آیند اضافہ ہے۔جو ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کے ذوق مطالعے ،فکری وجدان،شعر فہم اور اس میراث کے حق کی ادائیگی کا غماز ہے جو انھیں ان کے والد بزرگوار،ممتاز شاعر،شاگرد حضرت نوح ناروی رحمت الٰہی برقؔ اعظمی سے ملی ہے۔
ڈاکٹر احمد علی برقی ؔ اعظمی علمی و ادبی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ،آج کی سائبر اور سوشل میڈیا والی دنیا میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا جب ان کی کو ئی نہ کوئی تخلیق وہاں پہنچ کر قارئین،صارفین اور ناظرین سے داد نہ وصول کرتی ہو۔اسی طرح دنیا بھر میں منعقد ہونے والی شعری و ادبی نشستوں میں ان کی شرکت نہ ہوتی ہو۔بلکہ آج کے وقت میں تو انھیں اس دنیا میں نام پیدا کرنے والوں میں اہم اور نمایاں مقام حاصل ہوتا جارہا ہے۔بالخصوص ان کی موضوعاتی اور فکری شاعری نے تو دنیا بھر میں دھوم مچا رکھی ہے۔
شعرگوئی،شاعر اور شاعری‘یہ ایک ایسا مثلث ہے جس کی اہمیت ہردور میں رہی اور ہر طبقے کے افراد و دانشوروں نے اس کو سراہا ہے۔اسے فروغ دینے کی کوششوں کو سلام کیا ہے اور انھیں یادگار کے طورپر بعد والی نسلوں کو میراث تک میں دیا ہے۔ ولیؔ ،آرزوؔ ، میرؔ ، ذوقؔ ، غالبؔ ،مومنؔ ،حالیؔ ،داغؔ ،اقبالؔ ،جوشؔ ،فراقؔ ،مجازؔ ،فانیؔ ،اخترؔ ،سیمابؔ ،جگرؔ اور ان کے بعد بھی نظم نگار شعرا کی ایک طویل فہرست ہے ایسے شاعروں کی جنھیں ہمارے پیش روؤں نے بطور میراث ہمیں دیا ہے اور ان کی شاعری،غزلوں،نظموں بلکہ تمام اصناف تک پہنچنے کے طریقے بھی ایجاد کردیے تھے۔
اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی کے طور پرڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کا نام نامی بھی شامل ہے۔جو ہمارے معاصر ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ فکر و احساس کے شاعر بھی ہیں اور ان کے شعری و فکری جہات کا دائرہ وسیع ولامحدود ہے۔ان کی شاعری خاصے کی چیز ہے اور دعوت مطالعہ دیتی نظر آتی ہے۔
برقیؔ اعظمی عام فہم اور عا م انسان کے بھی سمجھ میں آجانے والی شاعری کرتے ہیں جسے سہل طرز اور آسان شاعری بھی کہا جاسکتا ہے مگر جس قدر یہ کہنا اور لکھنا سہل اور آسان ہے اتنا اسے انجام دینا آسان نہیں ہے ،یعنی برقی صاحب کا کام ،آسان شاعری کرنا اور سہل طریقے سے شاعری سے دل چسپی رکھنے والوں تک بات پہنچانا اتنا سہل نہیں ہے۔ان کی شاعری اس لیے بھی دل چسپی کی باعث ہے کہ وہ ہمارے دکھ درد اور فکرو پریشانی کا حل ہے۔
عام موضوعات اور عناوین کے علاوہ ڈاکٹر برقیؔ کا جو سب سے اہم اور ممتاز کارنامہ ہے ،وہ ہے ان کی سائنس فہمی اور سائنس و ماحولیات،موسم و احوال کو موضوع بنا کر شاعری کرنا،یہ ان ہی کا کارنامہ ہے جس کی ساری دنیا میں دھوم مچی اور سب نے اس نادر و نایاب کمال کو سراہا بلکہ متعدد اہل علم و شعرو سخن شناورں نے اس کی دل کھول کر داد بھی دی۔





ڈاکٹر احمد علی برقی ؔ اعظمی علمی و ادبی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ،آج کی سائبر اور سوشل میڈیا والی دنیا میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا جب ان کی کو ئی نہ کوئی تخلیق وہاں پہنچ کر قارئین،صارفین اور ناظرین سے داد نہ وصول کرتی ہو۔اسی طرح دنیا بھر میں منعقد ہونے والی شعری و ادبی نشستوں میں ان کی شرکت نہ ہوتی ہو۔بلکہ آج کے وقت میں تو انھیں اس دنیا میں نام پیدا کرنے والوں میں اہم اور نمایاں مقام حاصل ہوتا جارہا ہے۔بالخصوص ان کی موضوعاتی اور فکری شاعری نے تو دنیا بھر میں دھوم مچا رکھی ہے۔
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کی پیدایش(ان کے ذاتی احوال کے مطابق)شہر اعظم گڑھ کے محلہ باز بہادر میں 25دسمبر 1954کو تلمیذ نوح ناروی حضرت رحمت الٰہی برقؔ اعظمی کے گھر ہوئی۔معمول کے مطابق ابتدائی تعلیم شہر کے معروف اسکولوں میں ہوئی جن میں مدرسہ اسلامیہ باغ میر پیٹو،شبلی ہائر سکنڈری اسکول شامل ہیں اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے شبلی نیشنل کالج کا رخ کیا اور وہاں سے بی ۔اے۔ایم اے۔بی ایڈ جیسی اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کیں۔بعد ازاں دہلی آکر ملک کی مشہور و معروف یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونیورسٹی جسے عرف عام میں جے این یو کہا جاتا ہے، میں 1977میں ایم۔اے فارسی ،پھر پی ایچ ڈی تک ڈگریاں حاصل کیں۔ اس کے بعد آپ آل انڈیا ریڈیو کے شعبۂ فارسی سے وابستہ ہوگئے اور تا دم تحریر اسی شعبے کے انچارج ہیں ۔
شاعری کا شوق و فن انھیں اپنے والد رحمت الٰہی برقؔ اعظمی سے ورثے میں حاصل ہوئی جو جانشین داغ حضرت نوح ناروی کے خصوصی اور چہیتے شاگرد تھے۔چنانچہ گھر کے شعری و فکری ماحول میں ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کی تعلیم و تربیت نے ان کے اندر موجود اس شاعر کو بیدار کردیا جس نے عمر کے اس پڑاؤ تک ان کو متحرک بنا رکھا ہے۔
ذیل کی سطور میں ان ہی ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی شعر گوئی،غزل گوئی پر مکمل نوٹ ان کے شعری مجموعے میں ’’روح سخن‘‘کے حوالے سے رقم کیا جاتا ہے۔
شاعری اور شعری وجدان خزینۂ قدرت سے اپنے بندوں کو دیا جانے والا وہ بے مثال تحفہ ہے جس کے ذریعے اس فکر اور احساس سے مالا مال افراد مخصوص،محدود،معروف اور مروجہ طرق،الفاظ،جملوں،قافیوں،دائروں اور احاطوں میں رہ کر کاینات اور بے کراں خلاؤں کی گہرائیاں ناپتے ہیں۔یہ جاننے سے پہلے کہ شاعری کے اثرات ہماری زندگیوں پر کیا پڑتے ہیں اور ان سے ہم کیا سیکھتے ہیں یا زندگی میں کیا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شعر،شاعری اور شاعر کے متعلق کچھ کہا اور سمجھاجائے۔شعرگوئی کیاہے؟کیا کچھ جملوں ،لفظوں، حروف اور نقوش کو ایک لڑی سی میں پرودینا ہی محض یا پھر اس کے معانی کچھ اور ہیں۔جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ تو اس کی ظاہری شکل وصورت ہے اور ایک تکنیکی طریقہ ہے کہ اس میں مخصوص فضا ہو،گنے چنے اور موڈی فائڈ جملے و حروف ہوں مگر اس ترتیب و تنظیم کے بعد جو خزینہ شعر فہمی سے حاصل ہوتا ہے ،وہی اصل جوہر ہے۔ایک شاعر ان ہی دائروں میں سمٹ کر (یہ اس کی مجبوری نہیں،تکنیک اور ہنر ہے)تحت الثریٰ اور ثریّا تک کے نقشے کھینچ دیتا ہے۔ہمارے سماج کی نفسیات ،درد،درماں،علاج،فکروں کی کجی اور پھر ان کی اصلاح،معاشروں کے نہج اور چلن پر قدغن،مرد ہ ضمیر اور احساس کو زندہ کر نا،زندگی کا ایک نظریہ قائم کر نا یا پھر قائم شدہ و جاری شدہ کو نئے روپ و نقش دینا’شعرگوئی ‘کے اہم ترین مقاصد ہیں۔ان مقاصد کی انجام دہی میں شاعر اس تکنیک کے ماسٹر اور حکم راں کے طور پر اپنا کردار نبھاتا ہے ،وہ نئی نئی باتیں،نئے نئے انداز،نئی نئی فکریں،نئی نئی جہات،الگ الگ زاوئیے،جدا جدارُخ ہر اعتبار سے شعر کے پیغام کو اور اس کی ترسیل کو مضبوط سے مضبوط بناتا ہے۔مدتوں سوچتا ہے پھر کہیں جاکے ایسی بات کہتا ہے جو دلوں کو تسخیر اور آنکھوں کو تاباں کرتی چلی جاتی ہے۔ان دونوں چیزوں کو ملاکر ایک تیسری چیز جو وجود میں آتی ہے اسے’شاعری‘کہتے ہیں۔شعرگوئی،شاعر اور شاعری‘یہ ایک ایسا مثلث ہے جس کی اہمیت ہردور میں رہی اور ہر طبقے کے افراد و دانشوروں نے اس کو سراہا ہے۔اسے فروغ دینے کی کوششوں کو سلام کیا ہے اور انھیں یادگار کے طورپر بعد والی نسلوں کو میراث تک میں دیا ہے۔ ولیؔ ،آرزوؔ ، میرؔ ، ذوقؔ ، غالبؔ ،مومنؔ ،حالیؔ ،داغؔ ،اقبالؔ ،جوشؔ ،فراقؔ ،مجازؔ ،فانیؔ ،اخترؔ ،سیمابؔ ،جگرؔ اور ان کے بعد بھی نظم نگار شعرا کی ایک طویل فہرست ہے ایسے شاعروں کی جنھیں ہمارے پیش روؤں نے بطور میراث ہمیں دیا ہے اور ان کی شاعری،غزلوں،نظموں بلکہ تمام اصناف تک پہنچنے کے طریقے بھی ایجاد کردیے تھے۔
اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی کے طور پرڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کا نام نامی بھی شامل ہے۔جو ہمارے معاصر ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ فکر و احساس کے شاعر بھی ہیں اور ان کے شعری و فکری کا جہات کا دائرہ وسیع ولامحدود ہے۔ان کی شاعری خاصے کی چیز ہے اور دعوت مطالعہ دیتی نظر آتی ہے۔
یہ بچے آج کل بالغ نظر ہیں وقت سے پہلے
تُو مٹی کے کھلونوں سے انھیں بہلائے گا کیسے
**
عجب دور زمانہ ہے، کرے کوئی بھرے کوئی!
یہ کیسا تازیانہ ہے، کرے کوئی بھرے کوئی!!
**
میں بے گناہی کا اپنی ثبوت کیسے دوں!
کوئی نہ جب مری باتوں کو اعتبار کرے!!
**
نظر ملا نہ سکا کوئی اس نے جب یہ کہا!
گناہ گار نہ ہو جو، وہ سنگ سار کرے!!
**
حالات مساعد نہیں رہتے ہیں ہمیشہ!
ہموار نہیں راہ تو ہموار کیے جا!!
**
یہ اور اس جیسے سینکڑوں اشعار ہیں جو برقیؔ اعظمی کی اس فکر رسا کی ترجمانی کرتے ہیں جو ان کو گہرے تجربے اور مشاہدے کے طفیل حاصل ہوئی ہے۔وہ نہ صرف ایک خالص غزل گو ہیں بلکہ ناصح بھی ہیں ،اسی طرح محض ناصح ہی نہیں ،اچھے غزل گو اور گل و بلبل،لب و رخسار اور زلف کی باتیں بھی کرنے والے ،اسی طرح رعنائی چمن و گلشن کے بھی گلچیں و شیدائی ہیں۔ان کی غزلوں کا مجموعہ ’روح سخن‘ اس کا بیان اور اظہار ہے۔ جو ان تمام موضوعات اور عناوین پر مشتمل ہے اور برقی اعظمی کی شعری بصیرت کا بیان بھی ۔اس میں غزلیں،قطعات اور یاد رفتگاں کے عنوان سے موزوں کلام موجود ہے۔
برقیؔ اعظمی عام فہم اور عا م انسان کے بھی سمجھ میں آجانے والی شاعری کرتے ہیں جسے سہل طرز اور آسان شاعری بھی کہا جاسکتا ہے مگر جس قدر یہ کہنا اور لکھنا سہل اور آسان ہے اتنا اسے انجام دینا آسان نہیں ہے ،یعنی برقی صاحب کا کام ،آسان شاعری کرنا اور سہل طریقے سے شاعری سے دل چسپی رکھنے والوں تک بات پہنچانا اتنا سہل نہیں ہے۔ان کی شاعری اس لیے بھی دل چسپی کی باعث ہے کہ وہ ہمارے دکھ درد اور فکرو پریشانی کا حل ہے۔برقی اعظمی نے وہی لکھا جو ان پر گزرا اور ایک عام انسان پر اس کی زندگی میں واقع ہونے والی مشکلوں،پریشانیوں،کلفتوں اور مسائل کی صورت میں بیتتا ہے۔’روح سخن‘کے کلام اور برقی اعظمی کی شاعری کو اگر آج کا المیہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ انھوں نے محض زخم دکھا دیے ہوں ،بلکہ ان کا حل بھی بتایا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے والے ان کے قدم بہ قدم چل کر ذہنی سفر طے کر تے ہیں اور کبھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور کبھی سنجیدگی سے اس پر غور کرنے لگتے ہیں۔
ایک مقام پربرقی ؔ اعظمی کی شاعری کے متعلق ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’جناب احمد علی برقیؔ اعظمی ایسے خانوادے کے چشم و چراغ ہیں جن کے اسلاف شعرو ادب کی پاکیزہ روایات کے حامل رہے ہیں ۔......انھوں نے اپنے عہد کے عصری تقاضوں سے اکتساب فیض کیا ہے ،اس لیے ان کی شاعری حدیث حسن بھی ہے اور حکایت روز گار بھی۔‘‘(1)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ایک غزل کے منتخب اشعاردرج کردوں :
خانۂ دل میں تھے مہماں، آپ تو ایسے نہ تھے!
کردیا کیوں اس کو ویراں، آپ تو ایسے نہ تھے!!
آپ تو افسانۂ ہستی کا عنواں تھے مرے!
دیکھ کر اب ہیں گریزاں، آپ تو ایسے نہ تھے!!
کیف و سرمستی کا ساماں آپ تھے میرے لیے!
مثل آئینہ ہوں حیراں، آپ تو ایسے نہ تھے!!
کچھ بتائیں تو سہی، اس بد گمانی کا سبب!
کیوں ہیں اب برقی ؔ سے نالاں ،آپ تو ایسے نہ تھے!!
مذکورہ غزل کے مطالعے سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ غزل کے روایتی موضوعات سے مکمل انحراف و احتراز کرتے ہوئے برقی اعظمی اپنی شاعری کے ہر مضمون،ہر بیان اور ہر جذبے کو ایک شخص واحد کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور کوئی عجب نہیں کہ یہ شخص واحد خود برقی اعظمی ہی ہو یا وہ ہم سب ،اور ہم سب برقیؔ اعظمی یا برقیؔ اعظمی ہی ہم سب ہیں۔ان کی شاعری کا نصف فیصد یا بیشتر حصہ خود ان کے ہی ارد گرد گھومتا ہے۔وہی اس کے مرکزی کردار ہیں اور وہی اس کے اولین مخاطب بھی اس کے بعد وہ کسی اور سے اس کو منسوب کرتے ہیں ۔ان کی غزلوں کا رنگ چھوٹی اور سیدھی بحروں سے سجا سجایاہمارے سامنے آتا ہے۔یہ ہنر انھوں نے فارسی ادبیات سے سیکھا ہے چوں کہ انھوں نے فارسی میں ڈاکٹریٹ حاصل کی ہے اور اس طرح انھیں اس پر عبور بھی حاصل ہے۔فارسی میں یہی ہوتا ہے کہ مختصر مختصر بحروں ،قافیوں ،ردیفوں اور دائروں میں ہی غزلیں لکھی جاتی ہیں اور اس طرح سے ان کو سمجھنا اور ان کا تجزیہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
دل کی ویرانی کبھی دیکھی ہے کیا!
یہ پریشانی کبھی دیکھی ہے کیا!!
میری چشم نم میں جو ہے موجزن!
ایسی طغیانی کبھی دیکھی ہے کیا!!
آئینہ میں شکل اپنی دیکھ کر!
ایسی حیرانی کبھی دیکھی ہے کیا!!
**

رسم الفت کو نبھا کر دیکھو!
دل سے اب دل کو ملا کر دیکھو!!
جو تمھیں ہم سے الگ کرتی ہے!
تم وہ دیوار گرا کر دیکھو!!
بد گمانی کا نہیں کوئی علاج!
ہم کو نزدیک سے آکر دیکھو!!
یہ غزلیں ،یہ اشعار اور یہ انداز بیاں دیکھیے کتنی آسان بحروں میں مرقوم و منظوم ہے اور کتنی آسانی سے اس کو سمجھا جاتا ہے۔وہ فطرت سے بہت قریب رہ کر شاعری کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کی آواز بن کر لبیک کہتے ہیں۔گل و بلبل کی نزاکت کو بھی سمجھتے ہیں اور خزاں و موسم باراں کی مجبوریوں کو بھی سمجھتے ہیں ۔پھر وہی کمپرومائزنگ ان کی شاعری میں جھلکتی ہے جس سے مشکلیں اور سختیاں اپنا لہجہ،اپنا رخ اور اپنا انداز بدل لیتی ہیں ۔انسان میں ممکن ہے بہت سی خوبیاں ہوسکتی ہیں ،اگر اس میں سمجھوتہ کرنے کی خو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے اور اگر کچھ بھی نہ بس یہی نیک خو ہو تو یہ حیات و کاینات اس کے لیے مثالی بن سکتی ہیں ۔برقی اعظمی پر زود گوئی کا الزام لگتا ہے۔اس الزام کا جواب امریکہ میں مقیم معروف اسکالر اور شاعر سرور عالم راز سرورریوں دیتے ہیں:
’’یہاں زود گوئی کے حوالے سے چند باتیں کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔زود گوئی صرف ایک قسم کی نہیں ہوتی۔ایک زود گوئی تو وہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے غزل کے مضامین میں گہرائی و گیرائی کم ہوجاتی ہے ،اشعار میں زبان و بیان و مضامین کی یکسانیت درآتی ہے اور بعض اوقات کسی غزل پر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ اس سے قبل نظر سے گزرچکی ہے۔ایسی زود گوئی سے دامن بچانا ضرور ہے لیکن ایک ماہر اور صاحب فن شاعر کے لیے ناممکن نہیں ہے۔برقی صاحب کی یہ زود گوئی اختیاری ہے ۔وہ حسب فرمائش جب کہیے ہر موضوع پر داد سخن دے سکتے ہیں اور دیتے ہیں ۔‘‘(2)
برقی اعظمی کی شعر گوئی کا یہ رنگ بھی دیکھتے چلیں:
نہ تو ملتا ہے وہ مجھ سے نہ جدا ہوتا ہے!
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہوتا!!
جب نہیں دیتا در دل پہ وہ دستک برقیؔ !
کیا بتاؤں میں تمھیں ایسے میں کیا ہوتا ہے!!
**
پھر وہی شدت جذبات کہاں سے لاؤں!
جیسے پہلے تھے وہ حالات کہاں سے لاؤں!!
منتشر ہوگئے اوراق کتاب ہستی!
ساتھ دیتے نہیں حالات کہاں سے لاؤں!!
**
داستاں ایسی ہے جس کا نہیں عنواں کوئی!
مجھ سا دنیا میں نہیں بے سر و ساماں کوئی!!
سوچتا ہوں کچھ کہوں،پھر سوچتا ہوں کیا کہوں!
اپنے آگے وہ کسی کی مانتا کچھ بھی!!
یہ کشمکش تقریباً ہم سب کی ہے۔کم و بیش ہر انسان اس دہرے اور ڈبل سیٹ اپ کا شکار ہے۔بالخصوص سنجیدہ اور فکر و احساس جیسی نعمت سے مالا مال افراد کے لیے ہر پل ایسی نامساعد صورت حال پیش آتی ہی ہے۔انھیں تو قدم قدم پر درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وقت وحالات ان سے جذبات سے کھیل جاتے ہیں۔ان سے باقاعدہ خراج وصول کیا جاتا ہے اور ان کی آگاہی و دانش مندی کے قرض چکانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔پھر بھی یہ باہمت،اولعزم اور سرفروش ان کے مقابل رہتے ہیں،منہ زور آندھیوں کا رخ موڑتے ہیں اور انھیں شکست دیتے ہیں ۔برقی اعظمی کے یہ اشعار اسی حوصلگی اور اسی ہمت و عزم کے غماز ہیں ۔اسی سربلندی و سرفروشی کا اظہارو انکشاف بھی۔
غزل کے روایتی موضوعات سے ہٹ کر اس طرح کے موضوعات کی پیش کش نے گو برقی ؔ اعظمی کے لیے زمین تنگ کردی اور کسی حدتک انھیں روایات کا باغی بھی معروف کردیا مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔دراصل برقی کا زمانہ،برقی کے زمانے کے حالات،برقی ؔ کے عہد کی تیزی سے ادلتی بدلتی اور آتی جاتی رُتوں اور حالات کا تقاضا ہی یہی ہے کہ وہ ایسے ہی موضوعات اور جہات کو عنوان بنا کر خامہ فرسائی کریں ۔نئے زخم ہیں،نئے صدمے،نئے تقاضے ہیں اور نئی ذمے داریاں لہٰذا ان کا ٹریٹمنٹ اور سولیوشن بھی جدید طرز کا ہی ہونا چاہیے۔اس سے نہ صرف یہ کہ فساد کا منہ جلد بند ہوگا بلکہ تباہی کے دائرے بھی محدود ہوکر رہ جائیں گے اور انسانیت محفوظ رہے گی۔
اسی بات کو سہ ماہی فکرو تحقیق ،ماہنامہ اردو دنیا اور ماہنامہ بچوں کی دنیا کے نائب ایڈیٹرعبد الحئی اس طرح کہتے ہیں:
وہ ایک سدا بہار اور ہمہ جہت تخلیق کار ہیں ۔برقی اعظمی کو نہ صرف شعروادب کی تمام اصناف ۔حمد،نعت،قصیدہ منقبت، غزل،نظم وغیرہ پر دسترس حاصل ہے بلکہ آج وہ شاید واحد شاعر ہیں جو انٹر نیٹ اور سوشل سائٹس کی مدد سے دنیا کے مختلف حصوں میں معروف و مقبول ہیں ...انھوں نے موضوعاتی شاعری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے ۔عظیم شخصیات کو منظوم خراج عقیدت پیش کر نا ہو،کسی خاص دن پر شعر کہنا ہو،کوئی تہوار ہو،کوئی حادثہ،واقعہ ہو،کسی رسالے کا خاص شمارہ ہو،کوئی کتاب ہو،انھوں نے سبھی کو اپنے منظوم کلام میں سمو کر دوام عطا کیا ہے۔‘‘(3)
یہی ایک حساس شاعرو فن کاری کی ذمے داری ہوتی اور اس کا فرض بھی جسے ادا کر نا اس کا منصب ہوتا ہے۔برقی ؔ اعظمی کی یہ شعوری کوشش ہے جس میں وہ کامیاب رہے ہیں نیز بعد کے آنے والوں کے لیے اس سنگلاخ وادی کے کانٹے چن کر اس میں پھول بوئے ہیں۔
مجھ کو ہنس ہنس کر رُلایا دیر تک!
چین پھر اس کو نہ آیا دیر تک !!
آتش سیال تھا میرا لہو!
میرا خوں اس نے جلایا دیر تک!!
میں ورق اس کی کتاب حسن کا!
چاہ کر بھی پڑھ نہ پایا دیر تک!!
حال دل برقی ؔ کا تھا نا گفتہ بہ!
سر پہ چھت تھی اور نہ سایا دیر تک!!
ان حالات سے گزرتے ہیں برقیؔ بلکہ ان کی جلو میں ہم سب۔یہ ہم سب کے حالات ہیں اور ہماری حیات مستعار کے وہ عناوین جنھیں ہم ہی پڑھ سکتے ہیں اوراپنے اپنے طور پر ہم ہی ان کی گہرائیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔کوئی اور ان کی تشریح صرف اسی حدتک کرسکتا ہے جس حد تک وہ ہم سے واقف ہے۔چنانچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے علاوہ ہمیں مکمل طور پر کوئی نہیں جان سکتا ۔لہٰذا اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کے ادراک کے لیے ہمیں اپنے ہی اندر کھڑکیاں کھولنی پڑتی ہیں۔باہر کے لوگوں کو ہمارے چند حالات پتا چل جاتے ہیں اوروہ ان کو عناوین بنا کر ہمیں دنیا بھر میں رسوا کرتے پھرتے ہیں۔ان ہی چند معلومات کو بنیاد بنا کر ہمیں ہدف ملامت بنایا جاتا ہے یا اعزاز و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔بس ان ہی چند کے ارد گرد دنیا والے ہمارا اچھا برامقام متعین کرلیتے ہیں ۔مگر حقیقت تو یہ ہے کہ :’من آنم کہ من دانم‘ --------برقی نے ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا ایک طریقہ بتایا ہے اور ہمیں درپیش مسائل و حالات سے آگہی بخشنے کی کوشش کی ہے۔
میرے زیر مطالعہ ان کا شعری مجموعہ ’روح سخن ‘ہے جسے دنیائے شعرو ادب میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔اس کا سہرا جہاں کتاب کے مشمولات اور نادر انتخاب کے سر جاتا ہے وہیں اس کے مصنف اور شاعر احمد علی برقی ؔ اعظمی کی شخصیت اور ذات کے سر بھی ہے۔ان کی بلیغ نظر اور وسیع فکر کے سر بھی ہے۔ان کی نگہ بلند اور دلنواز سخن کے سر بھی ہے۔اس کے مطالعے سے جہاں شاعری کے جدید رجحانات کا پتا چلتا ہے وہیں حالات کی گردنیں بھی ان کی مضبوط بانہوں میں پھنستی نظر آتی ہیں اوران سلسلوں کو بھی روکتی تھامتی نظر آتی ہیں جو ہمارے وقت میں ایک تکلیف دہ اور مسلسل درد کی شدت اختیارکرتے جارہے ہیں یا دوسرے لفظوں میں ناسور اور کینسر بنتے جارہے ہیں ۔’روح سخن‘کا مطالعہ ہمیں’روح کاینات‘کا مطالعہ بھی کرادیتا ہے۔ ایک ہی نشست میں ہی ہم یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں آ،جا،جاتے ہیں۔برقی اعظمی کا یہ کمال بذ ات خود ایک کمال ہے۔
ڈاکٹرتابش مہدی برقی ؔ اعظمی کی غزل گوئی اور شعر گوئی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی دہلی کے نامور ،زود گواور قادر الکلام شاعر ہیں ۔وہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر گوئی کی بھر پور قدرت رکھتے ہیں ۔انھوں نے غیر مشروط وابستگی ،مسلسل مشق و ممارست اور غیر معمولی محنت و توجہ کی وجہ سے شعر گوئی کو اپنے لیے آسان بنا لیاہے۔وہ جب اور جس موضو ع پر چاہیں نظم لکھ سکتے ہیں.....میں سمجھتا ہوں کہ انھیں یہ چیز ان کے والد محترم استاذ الشعرا حضرت برقؔ اعظمی سے ورثے میں ملی ہے،جو دبستان داغ سے بھی تعلق رکھتے تھے اور دبستان ناسخ لکھنوی سے بھی۔‘‘(4)
’روح سخن‘میں بعض غزلیں وہ ہیں جو غزل مسلسل کے زمرے میں آتی ہیں ۔یعنی غزل مسلسل وہ کہلاتی ہے جس میں ابتدا سے انتہا تک ایک ہی مضمون/خیال اور فکر باندھی گئی ہو مگر برقی ؔ اعظمی نے غزل مسلسل میں بھی متعدد مضامین شامل کردیے ،اس طرح سے کلام کا حسن اور بڑھ گیا اسی طرح اس کمی کا ازالہ بھی ہوگیا جو غزل مسلسل کے یکساں مضمون اور ایک جیسے خیال سے ہوتا یا اس کے ہونے کا امکان تھا۔غزل مسلسل یا ایک جیسا ہی خیال کبھی بہتر اور اچھا مانا جاتا ہوگا مگر آج کل کا زمانہ اس میں اور وسعت مانگتا ہے بلکہ لازمی طور پر تقاضا کر تا ہے۔لہٰذا اس کی عرض سنے بغیر بات بنتی ہی نہیں۔برقی ؔ اعظمی نے وقت کے اس تقاضے کا خیال رکھا ہے اور اس فریضے کو بخوبی نبھایا ہے۔اس طرح سے بلا تامل یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ وقت کے نبض شناس ،سدابہار اور بروقت و باہوش شاعر ہیں ۔موضوعاتی اور شخصی شاعری کے توسط سے انھوں نے اردو ادب میں ایک نئے عنوان کا اضافہ کیا ہے یا اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ موضوعات کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔یہ ہردو اضافے نہ صرف خوش آیند ہیں بلکہ اردو شعرو ادب کا عظیم الشان سرمایہ بھی ہیں۔عظیم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے سے لے کر کسی خاص اور اہم دن پربھی،کسی تہوار یا قابل ذکر واقعے پر بھی ،کسی کتاب یا کسی رسالے کے اہم و خاص نمبر پر بھی وہ سب پر منظوم تہنیت رقم کرتے ہیں اور پیش کرتے ہیں ۔اس طرح سے نہ صرف نئے موضوع اور عنوان سے آگاہی حاصل ہوتی ہے بلکہ وہ موضوع بہ یا معنون بہ حیات دوام حاصل کرلیتی ہے۔ان کے مجموعے ’روح سخن ‘میں یادِ رفتگاں کے عنوان سے اردو ادب کی جن اہم شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے ان میں آرزو ؔ لکھنوی،علامہ اقبالؔ ،اصغرؔ گونڈوی،فیض احمد فیضؔ ،ابن صفی،ابن انشا،مجازؔ ،کیفیؔ اعظمی،مجروح سلطان پوری،جیسی اہم اور نامور ہستیاں موجود ہیں۔اس کے علاوہ،بسنت،خزاں ،بارش،پھول،شبنم، ابر،ہوا جیسے فطری عناصر کو بھی موضوع گفتگو بنایا ہے۔برقیؔ اعظمی کی موضوعات نگاری کا سفر ابھی بھی جاری ہے۔چنانچہ گزشتہ دنوں ان کے متعدد خراج نامے ظفر گورکھپوری،پروفیسر یوسف تقی اور پروفیسر اسلم پرویز کے سانحات ارتحال پر فیس بک اور دیگر سوشل سائٹس پر نظر آئی تھیں ۔ جنھیں مداحین اور قدردانوں نے بے حد پسند کیا اور برقی اعظمی کی اس شان کا اعتراف بھی کیا۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بطور نمونہ ان کے منظوم خراج عقیدت کی چند مثالیں پیش کردی جائیں۔
وہ نشتر ؔ خیرآبادی کویوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں :
بادۂ عرفاں سے ہے سرشار ان کی شاعری!
رنگ میں ہے ان کے دلکش فکرو فن کا اہتمام!!
ان کی غزلیں بخشتی ہیں ذہن کو اک تازگی!
دیتی ہیں وہ اہل دل کو بادۂ عرفاں کا جام!!
ابن صفی کو کچھ اس طرح:
ابن صفی سپہر ادب کے تھے ماہتاب!
اردو ادب میں جن کا نہیں ہے کوئی جواب!!
جاسوسی ناولوں میں جو ہیں ان کے شاہ کار!
اپنی مثال آپ ہیں اور وہ ہیں لا جواب!!
ان کے نقوش جاوداں پھیلے ہیں ہرطرف!
احسان ان کے اردو ادب پر ہیں بے حساب!!
مجازؔ کوانھوں نے یوں یاد کیا:
آب زر سے ثبت ہے تاریخ میں نام مجازؔ !
آئے ہم سب منائیں مل کے اب شام مجازؔ !!
پی کے جس کو آج تک مسحور ہیں اہل نظر!
تھا نشاط و کیف سے سرشار وہ جام مجازؔ !!
اس کی غزلوں اور نظموں میں حدیث دلبری!
اہل اردو کے لیے ہے ایک انعام مجازؔ !!
حالیہ دنوں وفات پانے والے پروفیسر اسلم پرویز کے لیے وہ یوں لکھتے ہیں:
ڈاکٹر اسلم جو تھے دنیائے اردو کا وقار!
باغ جے این یو میں ان کی ذات تھی مثل بہار!!
میں تھا جے این یو میں جب اردو کے وہ استاد تھے!
ان کی ہیں خدمات ارباب نظر پر آشکار!!
اردو گھر سے ان کی تھی دیرینہ جو وابستگی!
اہل اردو کے لئے ہے باعث صد افتخار!!
یہ ہے ان کا انداز بیان اور انداز خراج عقیدت۔وہ اپنے مرحومین اور رفتگان کو اس طرح یاد کرتے کراتے ہیں اور ان کو شعری لب ولہجہ دے کر زندہ و جاوید کر دیتے ہیں۔یہ ان کا شاعری اور شعرگوئی کا جداگانہ پہلو ہے جس کے مالک اور ماسٹر وہ خود ہیں ۔وہی بہتر اور خوب صورت انداز میں اسے فروغ دے سکتے ہیں اور دے رہے ہیں ۔ان کے علاوہ شایدو باید ہی کوئی اس صنف کو فروغ دے۔یہ صنف یا یہ انداز’روح سخن‘کے اہم ترین پہلوؤں میں شامل ہے۔اس لیے بھی اس مجموعے کی اہمیت اور وقار دوچند ہوجاتا ہے۔
نئے دور میں و ہ نئی غزل کے شناور بن کر ابھرے ہیں ۔اس کے لیے انھوں نے کچھ نقوش اور نمونے اور خطوط بھی متعین کیے جن کے اردگرد ان کی غزل گوئی کا دائرہ گردش کرتا ہے۔جیسے انھوں نے زندہ اور متحرک افراد و اشیا پر لکھا۔نمبر دو:وہ طرحی غزلوں میں جدت پیداکردیتے ہیں۔نمبر تین:وہ طرحی غزلوں پر دو غزلہ اور سہ غزلہ بھی لکھ دیتے ہیں۔ہمہ جہتی موضوعات پر انھیں جس طرح کی دسترس حاصل ہے اس کا اندازہ ان کی آن لائن سائٹس ،فیس بک،وہاٹس ایپ اور دیگر سوشل سائٹس پر پڑھنے سے ہوتا ہے۔وہ کتنے زودگو اور مثبت قلم کار شاعر ہیں یہ دونوں چیزوں ایک ساتھ صرف ان کے یہاں ہی نظر آتی ہیں ۔ایک مقام پر عزیز بلگامی ان کی اسی خوبی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’جہاں تک ان کی فکری جولانگاہ اور اس کی وسعت کی بات ہے ،توجیسا کہ ہم نے عرض کیا،اس کا دائرہ عالمی سطح پر تک پھیل گیا ہے اور فکرو فن کی مختلف جہتوں کے ساتھ وہ مصروف سخن نظر آتے ہیں ۔آج دنیا کی کوئی معروف آن لائن انجمن ایسی نہیں جہاں حضرت برقی ؔ کی برق رفتار شاعری کی رسائی نہ ہوئی ہو۔ایک طرف وہ ہر صنف سخن میں اپنی تخلیقیت کے کامیاب تجربے کرتے ہیں،تو دوسری طرف تاز ہ تخلیقات کومعرض وجودمیں لانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔مثلا کسی انجمن پر کسی مصرع طرح کا اعلان ہوتا ہے تو سب سے پہلی غزل برق رفتاری کے ساتھ کسی کی پہنچتی ہے تو وہ حضرت برقیؔ کی ہی ہوتی ہے۔کسی کتاب کی رونمائی ہو،کسی کتاب کا اجرا ہورہا ہوتو برقی صاحب کی رگ سخن پھڑک جاتی ہے اور کم ازکم 7شعروں پر مشتمل منظوم خراج تحسین پیش کرہی دیتے ہیں ۔‘‘(5)
واقعی ایسا ہے بھی اور خوب ہے۔ان کا جو اہم کارنامہ ہے وہ ’’یادرفتگاں ‘‘کے حوالے سے منظوم خراج عقیدت پیش کر نا ہے۔وہ اس ذمے داری کو اس طرح نبھا دیتے ہیں کہ حق ہی ادا ہوجاتا ہے ۔اسی بات کو سید ضیا خیرآبادی یوں کہتے ہیں:
’’یاد رفتگاں کے عنوان کے تحت ان کی نظموں کی مثال اردو شاعری کی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتی۔یادوں کی اس طرح بزم آرائی کا اہتمام کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔اس بحرانی دور میں اردو کو اس ڈوبتی ناؤ کے نا خدا بن کر جس ذمے داری کو آپ نے نبھایا ہے وہ قابل تحسین ہے۔‘‘(6)
سید ضیا خیرآبادی نے یہ بہت سچی بات کہی ہے اور برقیؔ اعظمی کی اس خوبی اور اس کمال کا ذکر اور اعتراف کھلے الفاظ میں کیا ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یقیناًیہ شاعری میں ایک نیا تجربہ ہے بلکہ آج کے وقت اور حالات کے لحاظ سے ضروری بھی۔یہ ایک ایسی ایجاد اور تجربہ ہے جو مقبول بھی ہے اور پسندیدہ بھی۔اسی لیے برقی صاحب کی ہرگام پر پذیرائی ہورہی ہے اور ان کے لیے اہل علم کے دلوں میں خاطر خواہ جگہ بنتی جارہی ہے۔وہ مقبول ہوتے جارہے ہیں ۔اس طرح ان کا کلام اور فکر دونوں ہی نکھرتے جارہے ہیں۔نئی شاعری اور نئی فکر اور نیا وژن بھی نظر آرہا ہے۔جس کی اردو ادب اور اردو شاعری کو سخت ضرورت ہے جس کی تکمیل برقی ؔ اعظمی بحسن و خوبی کررہے ہیں ۔ان کا قلم رواں دواں ہے اور تیز رَو بھی۔سفر حالاں کہ بہت لمبا ہے مگر نہ تو ان کے اعصاب پر تھکن نمایاں ہے اور نہ ہی کلام میں اضمحلال بلکہ روز افزو ں تازگی اور سرسبزی و شادابی نظر آتی ہے۔’روح سخن‘اس کا منہ بولتا ثبوت ہے نیز وہ منفرد اور منتشر کلام جو فیس بک،وہاٹس ایپ،ٹوئٹر اور دیگر سوشل سائٹس کے ذریعے منظر عام پر آتا ہے۔
انگلینڈ میں مقیم مظفر احمد مظفر روح سخن پر اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں :
’’(اس مجموعے میں )جملہ محاسن شعری میں یعنی جدت تخیل،جدت طرازیِ ادا،ندرت افکار اور دیگر اوصاف کو قدرتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کلام میں ایک مخصوص سحر انگیز جاذبیت سرائیت کر گئی ہے اور وہی نقطۂ نظر جو اردو کے ادب عالیہ میں مروج رہا ہے۔اسی کی طرف شاعر کا جھکاؤ ہے۔‘‘(7)
روح سخن کا قاری مذکور ہ بالا باتوں اور نکات سے بہت حد تک اتفاق کرے گا ،قاری برقیؔ اعظمی کے کلام میں جہاں سامان تشنگی کا سامان پائے گا وہیں اسے جدت طرز اور کلام کی نئی وسعتوں کا احساس ہوگا۔اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اٹلانٹا امریکہ میں مقیم سید ہ عمرانہ نشترؔ خیرآبادی روح سخن اور اس کے مایۂ ناز شاعرکے فن کی ان الفاظ میں توصیف کرتی ہیں:
’’جب ہم ڈاکٹر برقی ؔ اعظمی کے کلام کا بنظر دقیق تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں زبان اور بیان کی بہت سی خوبیاں اس میں نظر آتی ہیں جو ان کی دلکش تحریروں کو حسن بخشتی ہیں ۔ان کے چہکتے ہوئے ردیف اور قافیے،ان کی حیران کردینے والی تشبیہات اور استعارے اور ان کے دل کو چھونے والے محاورے بہت خوب صورتی کے ساتھ ان کے کلام میں استعمال ہوئے ہیں ۔کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں :
جس کو وہ پڑھتا رہے گا،عمر بھر لکھ جاؤں گا
خط میں اس کے نام ایسا نامہ بر لکھ جاؤں گا
ایسا ہوگا میری اس تحریر میں سودوگداز
موم ہوجائے گاپتھر کا جگر لکھ جاؤ ں گا
***
اشک پلکوں پہ چمکتے ہیں ستاروں کی طرح
میرا کاشانۂ دل اب ہے مزاروں کی طرح
یہاں اشک ستاروں کی طرح ،خانۂ دل مزاروں کی طرح اور پتھر کا جگر وغیرہ ان کی تشبیہات اور استعاروں کی خوب صورت مثالیں ہیں ۔‘‘(8)
عمرانہ نشترؔ صاحبہ کی مذکورہ تحریر کے تمام نقوش ڈاکٹر برقیؔ اعظمی کے فکرو فن کے سچے ترجمان اور بیان ہیں۔یقیناًڈاکٹر برقیؔ اعظمی نے لفظیات و معانی کی جدت کا ایسا سلسلہ قائم کیا ہے جس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی ۔یہی خوبی کسی شاعر اور فن کار کو عمدہ شاعر اور بہترین فن کار بناتی ہے۔ایسے جدت اور نئے پن کے طلب گار اور کوشش کنندگان کو وہ شہرت اور دوامیت ملتی ہے۔شاید یہی مقصد ہوتا ہے کسی شاعر اور فن کار بھی مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اس ٹاسک کو چھوپاتے ہیں اور وہ اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔ورنہ کتنے تو ایسے ہوتے ہیں جو اس راہ سفر میں تھوڑا بہت چل کر پھر پلٹ جاتے ہیں یا چل ہی نہیں پاتے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو اتنا گہرا تجربہ ہوتا ہے اور نہ وہ کسوٹی جس میں ڈھل کر لفظ،الفاظ اور لفظیات ڈھلتے ہیں پھر اس کے بعد وہ مناسب مقام اور محل میں چسپاں ہوتے ہیں ۔
عام اور روایتی موضوعات کے علاوہ ڈاکٹربرقی ؔ اعظمی کا جو سب سے بڑا کمال ہے وہ ان کی سائنس و ٹیکنالوجی اور اس طلسمی دنیا میں آئے دن ہونے والی تبدیلیوں پر بہت گہری نظرہے چنانچہ وہ ایک زمانے میں انھوں نے ان ایجادات و اختراعات کو موضوع بنا کر یادگار نظمیں اور غزلیں لکھی ہیں جنھیں اس وقت بھی اور آج بھی علمی و ادبی دنیا نے خوب سراہا ہے ۔چنانچہ ایک مقام پر ڈاکٹر محمد صدیق نقوی لکھتے ہیں:
’’دور حاضر کے جدید موضوعات میں خاص طور ’’گلوبل وارمنگ‘‘ کو ردیف بنا کر انھوں نے طویل غزلیہ نظم لکھی ۔اسی طرح انٹر نیٹ،عالمی سائنس ڈے،عالمی ارض ڈے،ایڈز کا سدباب،آلودگی باعث حادثات،آلودگی مٹائیں جیسے موضوعا ت کوبھی غزلیہ شاعری میں پیش کرتے ہوئے برقی اعظمی نے ندرت فکر اور موضوع کی پیش کشی کے معاملے میں حددرجہ کامیابی حاصل کی ہے۔‘‘(9)
صدیق نقوی صاحب نے مذکورہ مضمون میں ڈاکٹر برقی کی سائنسی شاعری کا گہرائی و گیرائی سے جائزہ لیا ہے اور متعدد و کارآمد نتائج بھی اخذ کیے ہیں۔اسی طرح نقوی صاحب کی مذکورہ باتوں کی تائید دیگر اہل قلم کی تحریروں سے بھی ہوتی ہے۔اس کے حوالے سے ان کا مختصر شعری مجموعہ ’’برقی شعائیں ‘‘قابل مطالعہ ہے۔جس کے مطالعے سے پہلے پہل تواندازہ ہوگا جیسے ہم کوئی سائنسی کتاب پڑھ رہے ہیں ۔مگر بہ نظر غائراس کا مطالعہ بتائے گا کہ وہ ادبی کاوش اور تخلیق ہے۔
مجموعی نتیجہ:ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی فکری،فنی،روایتی،موضوعاتی،سائنسی اور عصری شاعری اور شعرگوئی ان کی محنت،لگن،کوشش اور جدجہد کا اظہار ہے۔ انھوں نے مذکورہ تمام موضوعات و عناوین پر برجستہ اور بہت کم وقت میں شاعری کی ہے ۔جس پر کچھ ناقدین نے انھیں زودگو کہا تو کچھ نے ان کی شاعری کو فکر وں سے عاری ،مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ان کا اولین شعری مجموعہ’’روح سخن‘‘ اور اس میں شامل نظمیں،غزلیات،دوہے،قطعے اس بے جا اعتراض کا مکمل و مدلل جواب ہیں۔نیز اس شعری مجموعے پر مشاہیر اہل قلم و فکر و نظرکے تبصرے،تجزیے،سپاس نامے ڈاکٹر برقی کا مناسب دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔’’روح سخن ‘‘ کے مطالعے سے ڈاکٹر برقی اعظمی کا قد اور مقام و مرتبہ بھی پتا چلتا ہے اور ان کے اس فکر و احساس کا اندازہ بھی ہوتا ہے جو انھوں نے لفظوں،شعروں،بیتوں،غزلوں اور دیگر اصناف کی رگوں میں پھونکا ہے۔ان کی موضوعاتی شاعری،جس میں یادرفتگاں کا عنوان نہایت کارآمد،لائق مطالعہ اور تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتا ہے کیوں کہ اس میں انھوں نے دنیا بھر کے مشاہیر اہل قلم،زندگی کے مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیات،کتابوں اور رسالوں کے خصوصی نمبر و اشاعتوں،انجمنوں اور ادارو ں کے تاریخی پروگراموں پر بیش بہا نظمیں لکھیں ہیں اور لطف یہ ہے کہ ان کا فارم ’غزل کا فارم ہے۔بحرووزن،عروض،کسی سے بھی وہ خالی یا عاری نہیں ۔اس طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے آج نہیں مگر آنے والے وقت میں ڈاکٹر برقی اعظمی اردو شاعری کے ایک جلی اور معتبر عنوان سے جانے جائیں گے۔
مآخذو مراجع
روح سخن۔(شعری مجموعہ)ڈاکٹر احمدعلی بر قی اعظمی۔تخلیق کار پبلشرز۔دہلی۔2013
روزنامہ ’آج کل‘لاہور۔ پیر 28اگست2017
مشمولہ روح سخن۔اندرونی فلیپ۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
احمد علی برقی اعظمی کی غزلیہ شاعری۔مشمولہ روح سخن۔ص:20۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
احمد علی برقی اعظمی اوران کی شاعری۔مشمولہ روح سخن۔ص:20۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
تحسین و تبریک۔مشمولہ روح سخن۔ص:32۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
ایک ہمہ جہت شخص،ایک بے مثال فن کار۔مشمولہ روح سخن۔ص:32۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
برقیؔ اعظمی کی روح سخن پر میرے تاثرات۔مشمولہ روح سخن۔ص:46۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
روح سخن۔مشمولہ روح سخن۔ص:26۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
سپہر شعر پہ روشن ہے آفتاب سخن۔مشمولہ روح سخن۔ص:55۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
عصری شاعری میں غزلیہ ہیئت کا نگہبان۔مشمولہ روح سخن۔ص:70۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
ڈاکٹر احمد علی برقی ؔ اعظمی کی موضوعاتی شاعری۔مشمولہ روح سخن۔ص:70۔تخلیق کار پبلشرز،دہلی۔2013
***


موجِ سخن کے ۸۳ ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی


موجِ سخن کے ۸۳ ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی

مشتہر نام کرو تم مرا اخباروں میں
’’ میں تو شامل ہوں محبت کے گنہگاروں میں‘‘

مرکے بھی زندۂ جاوید ہیں فنکار عظیم
جو نظر آتے ہیں تاریخ کے شہ پاروں میں

وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں جن کے اطوار
مجھے شامل نہ کرو ایسے قلمکاروں میں

لوگ اب گھر سے نکلتے ہوئے یوں ڈرتے ہیں
نذرِ دہشت کہیں ہو جائیں نہ بازاروں میں

جن کے سُر تال ہیں اب رونقِ بازار ادب
بٹ گئی بزمِ سخن ایسے اداکاروں میں

کوئی لیتا ہی نہیں بلبلِ شیدا کی خبر
بوم آتے ہیں نظر شاخ پہ گلزاروں میں

آج مفقود ہے وہ جذبۂ اصحاب رسول
رقص کرتے تھے جو تلوار کی جھنکاروں میں

جس کے اسلاف کی عظمت کے نشاں ہیں ہر سو
جائے عبرت ہے وہی قوم ہے ناداروں میں

لوگ کہتے ہیں اسے قصرِ تمنا اپنا
جس کے اسلاف تھے اپنے کبھی معماروں میں

جو کبھی میرے اشاروں پہ چلا کرتے تھے
خوئے اخلاص وہ باقی نہ رہی یاروں میں

نام ہے صفحۂ تاریخ سے ان کا غائب
ملک و ملت کے جو برقی تھے وفاداروں میں


ایک زمین کئی شاعر خمار بارہ بنکوی اور احمد علی برقی اعظمی : بشکریہ ناظمِ ایک زمین کئی شاعر۔ اردو کلاسک جناب عمر جاوید خان


ایک زمین کئی شاعر
خمار بارہ بنکوی اور احمد علی برقی اعظمی
خمار بارہ بنکوی
واقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سے
اس راز کو پوچھو کسی برباد نظر سے
اک اشک نکل آیا ہے یوں دیدہ تر سے
جس طرح جنازہ کوئی نکلے بھرے گھر سے
رگ رگ میں عوض خون کے مے دوڑ رہی ہے
وہ دیکھ رہے ہیں مجھے مخمور نظر سے
اس طرح بسر ہوتے ہیں دن رات ہمارے
اک تازہ بلا آئی جو اک ٹل گئی سر سے
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی
واقف نہیں شاید مرے اُجڑے ہوئے گھر سے
مِل جائیں ابد سے مرے اللہ یہ لمحے!
وہ دیکھ رہے ہیں مجھے مانوس نظر سے
جائیں تو کہاں جائیں کھڑے سوچ رہے ہیں
اُٹھنے کو خمار اُٹھ تو گئے ہم کسی در سے


احمد علی برقی اعظمی
جاتا نہیں یہ عشق کا سودا مرے سر سے
لوٹ آتا ہوں جا جا کے دوبارہ ترے در سے
میں حال زبوں اپنا کسی سے نہیں کہتا
’’ اک اشک نکل آیا ہے یوں دیدۂ تَر سے ‘‘
دیتا ہے صدائیں مجھے معلوم نہیں کون
آتی ہے اک آواز اِدھر اور اُدھر سے
وحشت زدہ کرتا ہے مجھے اپنا ہی سایہ
کرتا ہے تعاقب کوئی جاتا ہوں جدھر سے
تم سن نہیں سکتے میں سنا بھی نہیں سکتا
کرتا ہوں یہ تحریر رقم خون جگر سے
دیکھا ہے کہیں تم نے مرے رشکِ قمر کو
میں پوچھتا رہتا ہوں یہی شمس و قمر سے
برقی کو کہیں دیکھا ہے تم نے ، تو وہ بولا
وہ خانہ برانداز ہے نکلا ابھی گھر سے


انحراف ادبی گروپ کے ۳۵۰ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بیاد خمار بارہ بنکوی مرحوم کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی


انحراف ادبی گروپ کے ۳۵۰ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ  طرحی مشاعرے بیاد خمار بارہ بنکوی مرحوم کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
جاتا نہیں یہ عشق کا سودا مرے سر سے
لوٹ آتا ہوں جا جا کے دوبارہ ترے در سے
میں حال زبوں اپنا کسی سے نہیں کہتا
’’ اک اشک نکل آیا ہے ہے یوں دیدۂ تَر سے ‘‘
دیتا ہے صدائیں مجھے معلوم نہیں کون
آتی ہے اک آواز اِدھر اور اُدھر سے
وحشت زدہ کرتا ہے مجھے اپنا ہی سایہ
کرتا ہے تعاقب کوئی جاتا ہوں جدھر سے
تم سن نہیں سکتے میں سنا بھی نہیں سکتا
کرتا ہوں یہ تحریر رقم خون جگر سے
دیکھا ہے کہیں تم نے مرے رشکِ قمر کو
میں پوچھتا رہتا ہوں یہی شمس و قمر سے
برقی کو کہیں دیکھا ہے تم نے ، تو وہ بولا
وہ خانہ برانداز ہے نکلا ابھی گھر سے


ایک زمین کئی شاعر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی اور احمد علی برقی اعظمی : بشکریہ ناظم ایک زمین کئی شاعر، ایک اور انیک اور اردو کلاسک ادبی گروپ


ایک زمین کئی شاعر
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان  بریلوی اور احمد علی برقی اعظمی
نعت : اعلٰحضرت احمد رضا خان بریلوی
سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
باغِ خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے

حرماں نصیب ہوں تجھے اُمید گہ کہوں
جانِ مراد و کانِ تمنا کہوں تجھے

گلزارِ قدس کا گل رنگیں ادا کہوں
درمانِ درد، بلبل شیدا کہوں تجھے

صبح وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف
بیکس نواز گیسوئوں والا کہوں تجھے

اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں
اے جانِ جاں میں جانِ تجلا کہوں تجھے

بے داغ لالہ یا قمر بے کلف کہوں
بے خار گلبنِ چمن آراء کہوں تجھے

مجرم ہوں اپنے عفو کا ساماں کروں شہا
یعنی شفیع روزِ جزا کا کہوں تجھے

اس مردہ دل کو مژدہ حیات ابد کا دوں
تاب و توانِ جانِ مسیحا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

کہہ لے کی سب کچھ انکے ثناء خواں کی خامشی
چپ ہو رہا ہے کہہ کہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رِضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

نعت سرورِ کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ 
احمد علی برقی اعظمی
یٰسین یا مزمل و طٰہ کہوں تجھے
اے پیکرِ جمال میں کیا کیا کیا کہوں تجھے
معراج کا شرف ہے تجھے اس لئے نہ کیوں
مسند نشینِ عرشِ معلیٰ کہوں تجھے
گلزار دینِ حق کا گُلِ سَرسَبَد ہے تو
’’ باغِ خلیل کا گُلِ زیبا کہوں تجھے ‘‘
وجہہِ وجود عالمِ امکاں ہے تیری ذات
پھر کیوں نہ اس کا انجمن آرا کہوں تجھے
بعد از خدا توہی ہے فقط سب کا چارہ ساز
مسیکن و بیکسوں کا سہارا کہوں تجھے
خیر البشر نہیں ہے کوئی جب ترے سوا
پھر کیوں نہ سب سے ارفع و اعلیٰ کہوں تجھے
برقی کی صرف تجھ پہ شفاعت ہے مُنحَصِر
اپنا نہ کیوں نجات دہندہ کہوں تجھے



ایک زمین کئی شاعر بیخود دہلوی اور احمد علی برقی اعظمی بیخود دہلوی :بشکریہ ناظمِ ایک زمین کئی شاعر۔ ایک انیک اور اردو کلاسک جناب عمر جاوید خان


ایک زمین کئی شاعر
بیخود دہلوی اور احمد علی برقی اعظمی
بیخود دہلوی
دردِ دل میں کمی نہ ہو جائے
دوستی دشمنی نہ ہو جائے
تم مری دوستی کا دم نہ بھرو
آسماں مدعی نہ ہو جائے
بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
طالع بد وہاں بھی ساتھ نہ دے
موت بھی زندگی نہ ہو جائے
اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں
عاشقی بندگی نہ ہو جائے
کہیں بیخودؔ تمہاری خودداری
دشمن بے خودی نہ ہوجائے

احمد علی برقی اعظمی
جان بلب زندگی نہ ہوجائے
دوستی دشمنی نہ ہوجائے
ہے درندوں سا اُس کا طرزِ  عمل
جانور ، آدمی نہ ہوجائے
ہے بزرگوں کی جو مرے میراث
اس کا وہ مدعی نہ ہو جائے
غنچہ و گُل پہ نظرِ بد اس کی
وجہہِ پژمُردگی نہ ہو جائے
نہ کہیں میری جان کا جنجال
میری یہ بیخودی نہ ہوجائے
ہے رویہ جو اس کا میرے ساتھ
سلب زندہ دلی نہ ہوجائے
مار ڈالے   نہ مجھ کو قبل از وقت
وجہِ مَرگ عاشقی نہ ہوجائے
راحتِ جاں جسے سمجھتا ہوں
تلخ یہ زندگی نہ ہوجائے
میری جاں کا عذاب  میرے لئے
اُس کی یہ بے رُخی نہ ہو جائے
بَرسرِ عام کرکے قتل مرا
میرا قاتل بری نہ ہو جائے
آج کل ہے جو سُرخیٌ اخبار
حال میرا وہی نہ ہوجائے
جس سے ہوتی ہے میری روح فنا
کہیں برقی وہی نہ ہو جائے