Barqui Azmi in Hot Cake Studio ہاٹ کیک چینل کی محفل لطفِ سخن کی برقی نوازی






ہاٹ کیک چینل کی محفل لطف سخن کی نذر
احمد علی برقی اعظمی
ہیں اگر مُشتاقِ حُسن ِ فکر و فن
آپ اُٹھائیں اب مرا لُطفِ سخن
میں جہاں ہوں ہے وہ چینل ’’ ہاٹ کیک
‘‘
ہے سجائی جس نے یہ بزمِ سخن
اس کے  لطفِ خاص  کا ممنون ہوں
ہو یونہی شمعِ  ادب یہ ضوفگن
ہو یہ دنیائے ادب میں نیکنام
سرخرو ہو اس کی ادبی انجمن


جس کی میں خدمات کا ہوں قدرداں
ہو وہ برقی فخرِ ابنائے وطن



ہاٹ کیک چینل منظور تاثرات : احمد علی برقی اعظمی



ہاٹ کیک چینل 

منظور تاثرات : احمد علی برقی اعظمی
سب کے جو وردِ زباں ہے ہاٹ کیک
مرجعِ دانشوراں ہے ہاٹ کیک
نازشِ ہندوستاں ہے ہاٹ کیک
اہلِ فن کا قدرداں ہے آٹ کیک
جو بھی ہیں اس بزم کی روحِ رواں
ان کی عظمت کا نشاں ہے ہاٹ کیک
ہے جو سوشل میڈیا پر ضوفشاں
ایک ادبی کہکشاں ہے ہاٹ کیک
نام کا ہے کام پر اس کے اثر
ناشرِ اردو زباں ہے ہاٹ کیک
اس میں ادبی گفتگو کا سلسلہ
مثلِ بحرِ بیکراں ہے ہاٹ کیک

اب نئے چہروں کی ہے اس کو تلاش
نازش پیر و جواں ہے ہاٹ کیک

دیتا ہے یہ دعوتِ فکر و نظر
عہدِ نو کا ترجماں ہے ہاٹ کیک
کیجئے بخت آزمائی آپ بھی
ایک گنج شایگاں ہے ہاٹ کیک 
ہے یہ برقی ترجمانِ روح عصر
فکر و فن کا پاسباں ہے ہاٹ کیک



’’ زخم کھا کر بھی مُسکراؤ تم ‘‘ ـدیا ادبی فورم کے ۱۶۰ ویں آن لاین فی االبدیہہ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی



دیا ادبی فورم کے ۱۶۰ ویں آن لاین فی االبدیہہ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
مجھے اب اور مَت ستاؤ تم
لوٹ کر یوں ابھی نہ جاؤ تم
کہہ رہے ہو چلا کے تیرِ نظر
’’ زخم کھا کر بھی مُسکراؤ تم ‘‘
کیا مجھے تم بھلا سکو گے کبھی
کہہ دیا مجھ سے بھول جاوٌ تم
مُرتَعِش ہو نہ جائے تارِ وجود
رگِ احساس مت دباؤ تم
اپنی رودادِ دل بیان کرو
نہ ڈرو میرے پاس آؤ تم
آتشِ شوق جو جلائی ہے
آکے خود ہی اسے بجھاؤ تم
ہوتی ہے صبر و ضبط کی اک حد
اور اب مجھ پہ ظلم ڈھاؤ تم
تالی اک ہاتھ سے نہیں بجتی
میں بھی نادم ہوں مان جاؤ تم
بِن بُلائے کہیں نہیں جاتا
آؤں گا میں اگر بُلاؤ تم
ڈوب جائے نہ موجِ غم میں کہیں
کشتیٔ دل مری بچاؤ تم
یوں کسی سے خفا نہیں ہوتے
میں بھی آؤںگا پہلے آؤ تم
بدگماں کس لئے ہو برقی سے
کیوں ہو گُم سُم کھڑے بتاؤ تم



لوری: سوجا میرے راج دلارے ۔ احمد علی برقی اعظمی، بشکریہ محبی محمد مجید اللہ


REMEMBERING UMAR QURAISH MARHOOM ON HIS BIRTH ANNIVERSARY ON 16TH SEPTEMBER AHMAD ALI BARQI AZMI


’’ دینَ محمدی کو بچایا حسین نے ‘‘ : سائبان ادبی گروپ کے ۹۰ ویں عالمی منقبتی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سید الشہدا حٖضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ : احمد علی برقی اعظمی


سائبان ادبی گروپ کے ۹۰ ویں عالمی منقبتی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سید الشہدا حٖضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
احمد علی برقی اعظمی
جوفرضِ عین تھا وہ نبھایا حسین نے
’’ دینَ محمدی کو بچایا حسین نے ‘‘
خونِ جگر سے سینچ کے میدانِ کربلا
گلزارِ دینِ حق کو سجایا حسین نے
شایاں ہے ان کو سیدِ شبان کا خطاب
جو پاسکا نہ کوئی وہ پایاحسین نے
’’ قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ‘‘
سچ کرکے اس کو رن میں دکھایا حسین نے
سردے کے راہ حق میں ہیں تاحشر سُرخرو
باطل کے آگے سر نہ جُھکایا حسین نے
نام و نشاں یزید کا باقی نہیں ، جسے
حَرفِ غَلط کی طرح مِٹایا حسین نے
اسلام کی بقا سے نہیں بڑھ کے اپنی جان
حسنِ عمل سے اپنے جتایا حسین نے
شیرِ خدا دکھاتے تھے جو رزمگاہ میں
برقی وہ کام کرکے دکھایا حسین نے





حسین ہائے حسین : آئینے میں راستہ گروپ کی مجلس مسالمہ کے مصرعہ طرح پر میری نذرِ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ : احمد علی برقی اعظمی



آئینے میں راستہ گروپ کی مجلس مسالمہ کے مصرعہ طرح پر میری نذرِ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ
احمد علی برقی اعظمی
جو کربلا میں تھا تنہا حسین ہائے حسین
’’ چراغ مرقدِ زہرا حسین ہائے حسین ‘‘
نبی کا تھا جو نواسہ علی کا نورِ نظر
تھا سب کو جاں سے جو پیارا حسین ہائے حسین
شہید ہوگیا دینِ نبی کی حُرمت پر
غم و الم کا وہ مارا حسین ہائے حسین
سبھی کو آج رُلاتا ہے خون کے آنسو
وہ بیکسوں کا سہارا حسین ہائے حسین
کرے وہ دستِ یزیدِلعین پر بیعت
نہ تھا اُسے یہ گوارا حسین ہائے حسین
ہے مجتہد کی زباں گُنگ کیا بیان کرے
دل و جگر ہوئے پارا حسین ہائے حسین
ہیں غم میں آج جو شہدائے کربلا کے شریک
سبھی نے رو کے پُکارا حسین ہائے حسین
نہ سوگوار ہوں برقی وہ غم میں کیوں اُس کے

ہے جن کی آنکھ کا تارا حسین ہائے حسین

نذرِ شہرۂ آفاق نعت خواں اُمِ حبیبہ : نتیجہ فکر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ۔۔ پیشکش ناظم شعر و سخن ڈاٹ نیٹ ٹورانٹو ، کناڈا جناب سردار علی



نذرِ شہرۂ آفاق نعت خواں امِ حبیبہ 
احمدعلی برقیؔ اعظمی
اُمِ حبیبہ کی آواز
جس میں ہے اک سوز و گُداز
نعت سرائی میں ان کی
زیر و بم کا ہے اعجاز
برِ صغیر میں ان کی ذات
سب کے لئے ہے مایۂ ناز
ہے توصیف سے بالاتر
نعتِ نبیﷺ کا یہ اعزاز
جب تک ہیں یہ ماہ و نجوم
زندہ رہے گی یہ آواز
ہو جاتے ہیں سب مسحور
ہوتی ہیں جب نغمہ طراز
میری دعا ہے شام و سحر
اُن کو خدا دے عمرِ دراز
کتنا ہے وجد آور برقیؔ 
اُن کا یہ دلکش انداز
قطعہ

احمد علی برقی اعظمی
امِ حبیبہ ہے وہ نام
جس پہ خدا کا ہے انعام

ہے وہ پیکرِ عشقِ رسول
وردِ زباں ہے جس کا مقام





بشکریہ : شعر و سخن ڈاٹ نیٹ : امیر خسرو کی ایک فارسی غزل کا اردو ترجمہ،۔۔۔ احمد علی برقی عظمی



ہے نہایت دلنشیں شعر و سخن کی پیشکش
مستحق ہیں داد کے اس کے لئے سردار علی
ہیں کناڈا میں وہ برقی ملکِ اردو کے سفیر
مرجعِ اہلِ نظر ہے جن کی اردو دوستی
ان کی میں خدمات کا ہوں صدق دل سے قدرداں
’’ قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری ‘‘
سپاسگزار
احمد علی برقی اعظمی

بشکریہ : ناظم ایک زمین کئی شاعر جناب عمر جاوید خان : طرحی غزلیں مشاعرہ اردو ادب ، مظفر احمد مظفر ( لندن) عبد اللہ خالد ( دہلی ) وقار برکاتی ظاہری ( کانپور) احمد علی برقی اعظمی (دہلی )



ایک زمین کئی شاعر
مظفر احمد مظفر ( لندن) عبد اللہ خالد ( دہلی ) وقار برکاتی ظاہری ( کانپور) احمد علی برقی اعظمی (دہلی )
طرحی غزل*
برگِ خِزاں تھا حِیطٙہءِ صرصر میں آ گیا
اُڑتا ہوا میں دٙستِ ستمگر میں آ گیا
دل مبتلائے جذبہ ءِ الفت ہے اس قدر
جنّت سے اٹھ کےکوچہءِ دلبر میں آ گیا
یہ بھی طِلسمِ نقشِ کفِ پا ہے دوستو!
دیکھو! میں کیسے گُنبدِ بے در میں آ گیا
پا ہی گیا میں اوجِ ثریّا کی وسعتیں !
عالم سمٹ کے جب خٙطِٙ ساغر میں آ گیا
یوں دل پہ اِلتِفاتِ نظر کر گیا ہے وہ
”دستک دیے بغیرمرے گھر میں آ گیا “
***مظفراحمد مظفر
دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا
یہ حوصلہ کہاں سے ستمگر میں آ گیا
کچھ دیر اسکا ہاتھ مرے ہاتھ میں رہا
طوفان سا لہو کے سمندر میں آگیا
کیا حادثہ ہوا ہے کہ دل سا اسیرِشب
بازیگرانِ صبح کے لشکر میں آ گیا
پھیلاتومیرے قدکے برابر نہ تھا لباس
سمٹا تو ایک چھوٹی سی چادر میں آ گیا
سچ بول کرفضول کا جھگڑا لیا ہے مول
یعنی کہ خوامخواہ کے چکر میں آ گیا
راہِ عروجِ عشق میں دل ایسا تیز گام
کچھ یوں گرا زوال کی ٹھوکرمیں آ گیا
خاؔلد! جنونِ شوق کو بھی آسرا ملے
دامن تو خیر دستِ رفو گر میں آ گیا ***عبداللہ خالد
طرحی غزل۔
بےچہرگی کا غم تھا تو پیکر میں آ گیا
قطرہ بھی بہتے بہتے سمندر میں آ گیا
نیکی ضرور کوئی مرے کام آگئی
ورنہ وہ شخص کیسے مقدر میں آ گیا
اک زخم بھر گیا تو لگاتا ہے ایک زخم
یہ فن کہاں سے دستِ رفوگر میں آ گیا
عشاق میں بھی گرمئ بازار اس کی ہے
جب سے گلاب اس کے فلیور میں آ گیا
معصوم تھیں ادائیں بھی کمسن تھا جب تلک
ہو کر جواں وہ اور ہی تیور میں آ گیا
باغی تھا ٗ بے وفا تھا ٗ وہ غدار تو نہ تھا
آخر پلٹ کے اپنے ہی لشکر میں آ گیا
پھر ہوگئی وقاؔر مجھے زندگی عزیز
پھر کو ئی خُوب رُو دلِ مضطر میں آ گیا
***وقاربرکاتی طاہری
طرحی غزل
سودائے عشق جب سے مرے سَر میں آ گیا
اک کربِ ذات میرے مقدر میں آ گیا
وہ گُلعذار آتا ہے ہر سو مجھے نظر
حسن و جمال جس کا گُلِ تَر میں آ گیا
یہ نامہ بَر کی دیدہ دلیری تو دیکھئے
’’ دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا ‘‘
رہتا ہے میرے پیشِ نظر وقتِ میکشی
یہ کس کا عکس شیشہ و ساغر میں آ گیا
میں سوچتاتھا شَرسے ہوں محفوظ اُسکے میں
دامن مرا بھی دستِ ستمگر میں آ گیا
اپنا سمجھ رہا تھا جسے خیر خواہ میں
وہ بھی مرے حریفوں کے لشکر میں آ گیا
برؔقی ہے میرے ذہن میں اک محشرِ خیال
اک مد و جزر جیسے سمندر میں آ گیا
***ڈاکٹر احمدعلی برؔقی اعظمی
بشکریہ : اردو ادب


دستک دئے بغیر مرے گھر میں آگیا : ایک قادر الکلام اور صاحب طرز سخنور عبد اللہ خالد کے مصرعہ پر اردو ادب کے ماہ ستمبر ۲۰۱۸ کے مشاعرے کے لئے میری طرحی غزل




بشکریہ : اردو ادب
طرحی مشاعرہ ستمبر
۲۰۱۸
مصرعہ طرح : دستک دئے بغیر مرے گھر میں آگیا-عبداللہ خالد
طرحی غزل
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
*****------******-----****--------*******------***
سودائے عشق جب سے مرے سَر میں آگیا
اک کربِ ذات میرے مقدر میں آگیا
وہ گُلعذار آتا ہے ہر سو مجھے نظر
حسن و جمال جس کا گُلِ تَر میں آگیا
یہ نامہ بَر کی دیدہ دلیری تو دیکھئے
’’ دستک دیے بغیر مرے گھر میں آگیا ‘‘
رہتا ہے میرے پیشِ نظر وقتِ میکشی
یہ کس کا عکس شیشہ و ساغر میں آگیا
میں سوچتا تھا شَر سے ہوں محفوظ اُس کے میں
دامن مرا بھی دستِ ستمگر میں آگیا
اپنا سمجھ رہا تھا جسے خیر خواہ میں
وہ بھی مرے حریفوں کے لشکر میں آگیا
برقی ہے میرے ذہن میں اک محشرِ خیال
اک مد و جزر جیسے سمندر میں آگیا


مـرحـوم استـاد مـهـدى حـسـن , خـبـرم رسـیـده امـشـب کـه نـگـار خـواهـی آ...








حضرت امیر خسرو کی
فارسی غزل مہدی حسن کی آواز میں اور اس کا منظوم اردو ترجمہ : مترجم احمد علی برقی
اعظمی

حضرت امیر خسرؔ و دہلوی کی ایک فارسی غزل کا منظوم اردو ترجمہ

احمد علی برقیؔ اعظمی

خبر ملی ہے کہ تو اے نگار آئے گا

فدائے جادہ ہوں جس سے سوار آئے گا

میں جاں بلب ہوں تو آ ، تاکہ زندہ ہوجاؤں

نہیں رہا تو، تو کیا کرنے یار آئے گا

میں جانتا ہوں اذیت فراق کی تیرے

تو مجھ سے ہونے مگر ہمکنار آئے گا

تو میرے دل میں ہے ،سوزِ دروں بھی ہے اس میں

اِدھر کا رخ جو کیا دلفگار آئے گا

تمام آہوئے صحرا ہیں سربکف ، کرنے

تو اِس دیار میں اُن کا شکار آئے گا

کشش یہ عشق کی تجھ کو یونہی نہ چھوڑے گی

جنازے میں نہیں گر، بَر مزار آئے گا

تو ایک بار میں خسروؔ کا ہو گیا دلبر

کروں گا کیا میں اگر چند بار آئے گا




حضرت امیر خسرو کی فارسی غزل مہدی حسن کی آواز میں اور اس کا منظوم اردو ترجمہ : مترجم احمد علی برقی اعظمی
حضرت امیر خسرؔ و دہلوی کی ایک فارسی غزل کا منظوم اردو ترجمہ
احمد علی برقیؔ اعظمی
خبر ملی ہے کہ تو اے نگار آئے گا
فدائے جادہ ہوں جس سے سوار آئے گا
میں جاں بلب ہوں تو آ ، تاکہ زندہ ہوجاؤں
نہیں رہا تو، تو کیا کرنے یار آئے گا
میں جانتا ہوں اذیت فراق کی تیرے
تو مجھ سے ہونے مگر ہمکنار آئے گا
تو میرے دل میں ہے ،سوزِ دروں بھی ہے اس میں
اِدھر کا رخ جو کیا دلفگار آئے گا
تمام آہوئے صحرا ہیں سربکف ، کرنے
تو اِس دیار میں اُن کا شکار آئے گا
کشش یہ عشق کی تجھ کو یونہی نہ چھوڑے گی
جنازے میں نہیں گر، بَر مزار آئے گا
تو ایک بار میں خسروؔ کا ہو گیا دلبر
کروں گا کیا میں اگر چند بار آئے گا

حضرت امیر خسرو کی فارسی غزل
خبرم رسید امشب که نگار خواهی آمد
سر من فدای راهی که سوار خواهی آمد
به لبم رسیده جانم، تو بیا که زنده مانم
پس از آن که من نمانم، به چه کار خواهی آمد
غم و قصه فراقت بکشد چنان که دانم
اگرم چو بخت روزی به کنار خواهی آمد
منم و دلی و آهی. ره تو درون این دل
مرو ایمن اندر این ره که فگار خواهی آمد
همه آهوان صحرا سر خود گرفته بر کف
به امید آن که روزی به شکار خواهی آمد
کششی که عشق دارد نگذاردت بدینسان
به جنازه گر نیایی، به مزار خواهی آمد
به یک آمدن ربودی، دل و دین و جان خسرو
چه شود اگر بدین سان دو سه بار خواهی آمد




فانی بدایونی کی زمین میں ایک غزل : احمد علی برقی اعظمی ۔۔۔ بشکریہ ایک زمین کئی شاعر





ایک زمین کئی شاعر
فانی بدایونی اور احمد علی برقی اعظمی
فانی بدایونی
قطرہ دریائے آشنائی ہے
کیا تری شان کبریائی ہے
تیری مرضی جو دیکھ پائی ہے
خلش درد کی بن آئی ہے
وہم کو بھی ترا نشاں نہ ملا
نارسائی سی نارسائی ہے
کون دل ہے جو دردمند نہیں
کیا ترے درد کی خدائی ہے
جلوۂ یار کا بھکاری ہوں
شش جہت کاسۂ گدائی ہے
موت آتی ہے تم نہ آؤگے
تم نہ آئے تو موت آئی ہے
بچھ گئے راہ یار میں کانٹے
کس کو عذر برہنہ پائی ہے
ترک امید بس کی بات نہیں
ورنہ امید کب بر آئی ہے
مژدۂ جنت وصال ہے موت
زندگی محشر جدائی ہے
آرزو پھر ہے در پئے تدبیر
سعی ناکام کی دہائی ہے
موت ہی ساتھ دے تو دے فانیؔ
عمر کو عذر بے وفائی ہے

احمد علی برقی اعظمی
آپ نے بزمِ دل سجائی ہے
دل لگانے میں کیا برائی ہے
روح پرور ہیں روز و شب میرے
آپ کی جب سے یاد آئی ہے
جیسے بر آئی ہو مراد کوئی
دل پہ ایک بیخودی سی چھائی ہے
آپ کیا ہیں مجھے ہے سب معلوم
آپ کی ڈھونگ پارسائی ہے
کون اس کو بجھائے گا آخر
آگ دل مین جو یہ لگائی ہے
صفحۂ ذہن پر ہے وہ موجود
دیدہ و دل میں جو سمائی ہے
دیں گے کب اس کو دعوتِ دیدار
آپ سے جس نے لو لگائی ہے
کہیں فانی کی تو نہیں تقدیر؟
میرے حصے میں جو بھی آئی ہے
یادِ فانی منا رہے ہیں جو
خوب انہیں اُن کی یاد آئی ہے
مستحق ہیں وہ داد و تحسیں کے
جن کو اب اُن کی یاد آئی ہے
اُس سے بڑھ کر نہیں کوئی خوش بخت
زندگی جس کو راس آئی ہے
چاہتے ہیں وہ سونپ دوں ان کو
زندگی بھر کی جو کمائی ہے
جس کوکہتے ہیں آج وہ فیشن
عہدِ حاضر کی بے حیائی ہے
لوگ مغرب زدہ ہیں کیوں آخر
اپنی تہذیب کیا پرائی ہے
خواب غفلت میں آج ہیں جو لوگ
اُن کی قسمت میں جگ ہنسائی ہے
حال نا گفتہ بہ ہے برقی کا
’’ نارسائی سی نارسائی ہے‘‘