احمد فراز کے مصرعہ طر ح پرگلکاریاں ادبی فورم کے ۱۵۷ ویں عالمی آنلاین طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش





احمد فراز کے مصرعہ طر ح پرگلکاریاں ادبی فورم کے ۱۵۷ ویں عالمی آنلاین  طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
کرشمے غمزہ و ناز و نظر دیکھتے ہیں کے
دیارِ شوق سے ہم بھی گُذرکے دیکھتے ہیں
سُنا ہے خوشنما منظر ہے گُلعذاروں سے
اگر یہ سچ ہے تو ہم بھی ٹھہر کے دیکھتے ہیں
ہے اُس کی چشمِ فسوں ساز جیسے گہری جھیل
شناوری کے لئے ہم اُتر کے دیکھتے ہیں
خرامِ ناز میں سرگرم ہے وہ رشکِ گُل
چمن میں غنچہ و گُل بھی سنور کے دیکھتے ہیں
جدھر جدھر سے گُذرتا ہے وہ حیات افروز
نظارے ہم وہاں شمس و قمر کے دیکھتے ہیں
حریمِ ناز معطّر ہے اُس کی آمد سے
مزاج بدلے نسیمِ سحر کے دیکھتے ہیں
کبھی ہے خُشک کبھی نَم ہے چشمِ ماہ وشاں
نظارے چل کے وہاں بحر و بَر کے دیکھتے ہیں
جو خواب دیکھا تھا احمد فراز نے برقی
ہم اُس کو زندۂ جاوید کر کے دیکھتے ہیں


BARQI AZMI'S POETIC COMPLIMENT TO (AIR) ALL INDIA RADIO

BARQI AZMI'S POETIC COMPLIMENT TO (AIR) ALL INDIA RADIO
AHMAD ALI BARQI AZMI HAI NISHAN E AZMAT E HINDUSTAN AIR HAI JAHAAN MEIN BE ZABANON KI ZABAAN AIR
KARTA HAI DINIYA KI KHABRON SE HAMEIN YE BA KHABAR KAMIYABI KI HAI DILKASH DASTAAN AIR
GANGA JAMUNI HIND KI TAHZEEB HAI IS SE AYAAN HAI SAQAFAT KA HAMARI TARJUMAAN AIR
LOG SAR DHUNTE HAIN SUN KAR IS KE NAGHME DILNAWAZ SAB KI HAI TAFREEH KI ROOH E RAWAAN AIR
ROUSHANI SE JIS KI RAUSHAN HAI JAHAN E RANG O BU HAI JAHAAN MEIN EK AISI KAHKASHAAN AIR
KAHTE HAI AKASHVANI IS KO URF E AAM MEIN HAI JO URDU MEIN SAD E AASMAAN AIR
GULFISHAN HAI IS MEIN BARQI HIND KI HAR EK ZABAAN SAB ZABANON KA HAI DILKASH GULSITAAN AIR
Ahmad Ali Barqi

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کی کچھ فی البدیہہ غزلیں

کتیبہ مزار شاھدخت جھان آرا ، دختر شاھجھان پادشاہ مغول ھنددر درگاہ حضرت نظام الدین اولیا در دھلی نو






کتیبہ مزار شاھدخت جھان آرا ، دختر شاھجھان پادشاہ مغول ھنددر درگاہ حضرت نظام الدین اولیا در دھلی نو
بغیر سبزہ نپوشد کسی مزار مرا
کہ قبرپوش غریبان ھمین گیاہ بس است
جھان آرا
مرے مزار کو ڈھکتا ہے بس یہی سبزہ
کہ مجھ غریب کی چادر یہی گیاہ ہے بس
احمد علی برقی اعظمی

’’ ہم پر تمھاری چاہ کا الزام ہی تو ہے‘‘ : سخنداں عالمی ادبی فورم کے مصرعہ طرح ’’ ہم پر تمھاری چاہ کا الزام ہی تو ہے‘‘ پر میری کاوش ۔ احمد علی برقی اعظمی



سخنداں عالمی ادبی فورم کے مصرعہ طرح ’’ ہم پر تمھاری چاہ کا الزام ہی تو ہے‘‘ پر میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
آئے گا لوٹ کر وہ ابھی شام ہی تو ہے
بھیجا ہے جو وہ پیار کا پیغام ہی تو ہے

وہ چشمِ مست میرے لئے جام ہی تو ہے
اس کی نگاہ بادۂ گلفام ہی تو ہے
پہلے پہل ہوئی تھیں نگاہیں جہاں پہ چار
اس کی یہی وہ جلوہ گہہِ عام ہی تو ہے
دیتی ہے آگے بڑھنے کا جو سب کو حوصلہ
اس زندگی میں حسرتِ ناکام ہی تو ہے
اہلِ جہاں سے کچھ نہ ملے اس کا غم نہیں
اللہ کا یہ زندگی انعام ہی تو ہے
ہوگا خدا کے فضل سے اک روز نیک نام
بدنام ہی سہی ابھی بدنام ہی تو ہے
تیار کی ہے تم نے ابھی صرف فردِ جرم
’’ ہم پر تمھاری چاہ کا الزام ہی تو ہے‘‘
کر لوں گا اپنے عزمِ مصمم سے اس کو زیر
کیا خوف اس سے گردشِ ایام ہی تو ہے
وہ دیکھ تیرے سامنے منزل کا ہے نشاں
کیوں رک گئے قدم ترے اک گام ہی تو ہے
عقلِ سلیم دی ہے خدا نے یہ کس لئے
صیاد نے بچھایا ہے جو دام ہی تو ہے
برقی کو اس کے کام سے سب جان جائیں گے
گمنام ہے جو شہر میں گمنام ہی تو ہے


کروڑی مل کالج دہلی یونیورسٹی کی برقی نوازی : بشکریہ ادبستان


کروڑی مل کالج دہلی یونیورسٹی کی برقی نوازی : بشکریہ ادبستان




 ٭ آج دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں اردو ہو اور وہاں ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کا نام نہ پہنچا ہو۔
دنیا بھر کے اردو پروگراموں، تقریبات، مشاعروں،مذاکروں اور سیمیناروں میں برقی کی شرکت و شمولیت لازمی عنصر کا درجہ رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ خود ڈاکٹر برقی کی درجنوں اردو 
https://4.bp.blogspot.com/-gFB15hbGKKE/Wcvc0hsJaBI/AAAAAAAAHEs/7mmxueiZqO8bjVsgLn4015v0mC5t2QiIQCLcBGAs/s320/barqi-2.jpg

سائٹس،فیس، وہاٹس ایپ،ٹوئٹر اور دیگر سوشل سائٹس پرہر دن اپلوڈ ہونے والی پوسٹ اور میسج ان کی اردو دوستی اور دنیا ئے اردو میں اہمیت و مقام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔مذکورہ خیالا ت کا اظہار ڈاکٹریحییٰ صبانے کے ایم سی کے شعبہئ اردو کی جانب سے منعقدہ ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کو دی گئی استقبالیہ تقریب سے کیا۔ نھوں نے مزید گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ابھی حالیہ دنوں ڈاکٹر برقی اعظمی کا شعری مجموعہ”روح سخن“منظر عام پر آیا ہے جس نے پوری دنیا سے قبول عام اور پذیرائی حاصل کی ہے۔دوران تعارفی خطاب انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر برقی کی ذات او رشخصیت ایک انجمن اور ایک عہد کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کا وجود اردو شعرو ادب کے لیے نیک فال ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر برقی جہاں ایک معروف ادیب و شاعر ہیں وہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے آل انڈیا ریڈیو،نئی دہلی کے شعبہ ِ فارسی سے وابستہ ہیں جہاں آپ سینئر براڈ کاسٹر و ایڈیٹر،اینکرجیسے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ 
اس موقع پر کے ایم سی شعبہ اردو سے وابستہ ڈاکٹر امتیاز وحید نے بھی ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی پر اپنے تاثرات مقالے کی صورت میں پیش کرتے ہوئے،ان کی شاعری،فکرو فن بالخصوص ان کی موضوعاتی غزل گوئی پرخصوصی گفتگو کی جس سے ان کی شاعری، فکر، فن، ملاحظات اور تجربات کا مکمل احاطہ کیا۔اس کے بعد برقی اعظمی نے غزل،فکرغزل،ماحول غزل،غزل نمائی،غزل راگ سے متعلق اپنا ہی کلام سنا کر گفتگو کی۔ جسے سامعین و حاضرین نے بے حد پسندکیا۔برقی اعظمی کی دلکش و فکر انگیز شاعری اور غزلوں پر سب نے دل کھول کر داد دی اور ان کے فکرو فن کو سراہا۔
https://4.bp.blogspot.com/-CP88jwfgeUk/WcvdBwcn6uI/AAAAAAAAHEw/Q7n9AZ_FuuYM4Bv_PgLi62DXbwl4PUyMQCLcBGAs/s320/barqi-3.jpg

اس موقع پر شعبے کے طلبا و طالبا ت کی ایک کثیرتعداد کے علاوہ شعبہ کے سینئر استاذڈاکٹر خالد اشرف، ڈاکٹر راکیش پانڈے، ڈاکٹر محمد محسن،ڈاکٹر امتیاز وحید،عمران عاکف خان،عبد الحفیظ خان خصوصی طور پر موجود تھے۔



میں کسی بھی تحریک سے وابستہ نہیں | مشتاق احمد نوری :مشتاق احمد نوری :ہاٹ کیک چینل پرحقانی القاسمی سے گفتگو کے تناظر میں ایک تعارف






مشتاق احمد نوری :ہاٹ کیک
چینل پرحقانی القاسمی سے گفتگو کے تناظر میں ایک تعارف

احمد علی برقیؔ اعظمی

شخصیت مشتاق نوری کی ہے فخرِ روزگار

عہدِحاضر کے ہیں جو معروف افسانہ نگار

ہے نمایاں ان کے افسانوں میں عصری حسیت

ابنِ آدم کے مسائل کے ہیں جو آئینہ دار

نام ہے افسانوی مجموعے کا اُن کے ’’ تلاش ‘‘

نوعِ انساں کا عیاں ہے جس سے ذہنی انتشار

منفرد اسلوب افسانوں میں ہے ان ی شناخت

’’ خودکشی ‘‘ اور ’’ کانٹے کی خوشبو ‘‘ سے ہے جو آشکار

’’ زندگی اے زندگی ‘‘ سے ہے نمایاں کربِ عصر

ان کا ہے’’ وہ ایک لمحہ ‘‘ ایک ادبی شاہکار

’’ چھت پہ ٹھہری دھوپ ‘‘ ہو یا ’’ بند آنکھوں کا سفر ‘‘

ہیں سبھی مجموعے ان کے فکر و فن کے شاہکار

ان سے محوِ گفتگو ہے آج چنل ہاٹ کیک

گفتگو حقانی ہے جس میں ہے ان کی شاہکار

زین شمسی بھی ہیں ان کے ساتھ محو گفتگو

عہدِ حاضر میں ہیں جو اردو صحافت کا وقار

چہرۂ حقانی ہے عصری ادب کا آئینہ

جس کی تنقیدی بصیرت ہے سبھی پر آشکار

شاعری میں بھی ہے ان کی ندرتِ فکر و نظر

گلشنِ اردو کی برقیؔ اعظمی ہیں وہ بہار




تھا مرا کشمیر کا پہلا سفر یہ یادگار: احمد علی برقی اعظمی


Ghazal | Kuch yaad raha Kuch bhool gaye | Ahmad Ali Barqi Azmi | Rekhta- Courtesy :Rekhta ...






ریختہ کی ہے یہ اک اردو
نوازی کا ثبوت
ہے یہ ویب سایٹ ادب کا ایک گنجِ شایگاں
اس کی اس برقی نوازی کا نہایت شکریہ
عہدِ نو میں ہے جو عملاََ ناشرِ اردو زباں
سپاسگزار
احمد علی برقی اعظمی
























’’ وہ سانپ جس کو مری آستیں میں پلنا تھا‘‘ : دیا کے ۵۶ ویں آن لاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش : احمد علی برقی اعظمی



دیا کے ۵۶ ویں آن لاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش

احمد علی برقی اعظمی
فریب اس نے دیا جس کا کام چھلنا تھا
اکیلا چھوڑ دیا جس کو ساتھ چلنا تھا

مرے نصیب میں لکھی تھی پرورش اس کی

’’ وہ سانپ جس کو مری آستیں میں پلنا تھا‘‘
میں اس کے وصل سے کس طرح بہرہ ور ہوتا

مجھے تو آتشِ فرقت میں یونہی جلنا تھا
نہ آئی کام مرے چارہ گر کی چارہ گری

بہل سکا نہ مرا دل جسے بہلنا تھا
تھپیڑے کھاتی رہی اس میں میری کشتیٔ عمر

مجھے تو موجِ حوادث میں رہ کے پلنا تھا
دبی ہے حسرتِ خوابیدہ آج بھی دل میں

مچل رہا ہے ابھی تک جسے مچلنا تھا
بکھر سکا نہ مری زندگی کا شیرازہ

دیارِ شوق میں گِر گِر کے یوں سنبھلنا تھا
ہے آج عہدِ رواں میں شکارِ دربدری

نظامِ گردشِ دوراں جسے بدلنا تھا
شعار وعدہ خلافی ہے اس کا اے برقی

بدلتا کیے نہ آخر جسے بدلنا تھا


نذرَ سید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ







Barqui Azmi in Hot Cake Studio ہاٹ کیک چینل کی محفل لطفِ سخن کی برقی نوازی






ہاٹ کیک چینل کی محفل لطف سخن کی نذر
احمد علی برقی اعظمی
ہیں اگر مُشتاقِ حُسن ِ فکر و فن
آپ اُٹھائیں اب مرا لُطفِ سخن
میں جہاں ہوں ہے وہ چینل ’’ ہاٹ کیک
‘‘
ہے سجائی جس نے یہ بزمِ سخن
اس کے  لطفِ خاص  کا ممنون ہوں
ہو یونہی شمعِ  ادب یہ ضوفگن
ہو یہ دنیائے ادب میں نیکنام
سرخرو ہو اس کی ادبی انجمن


جس کی میں خدمات کا ہوں قدرداں
ہو وہ برقی فخرِ ابنائے وطن



ہاٹ کیک چینل منظور تاثرات : احمد علی برقی اعظمی



ہاٹ کیک چینل 

منظور تاثرات : احمد علی برقی اعظمی
سب کے جو وردِ زباں ہے ہاٹ کیک
مرجعِ دانشوراں ہے ہاٹ کیک
نازشِ ہندوستاں ہے ہاٹ کیک
اہلِ فن کا قدرداں ہے آٹ کیک
جو بھی ہیں اس بزم کی روحِ رواں
ان کی عظمت کا نشاں ہے ہاٹ کیک
ہے جو سوشل میڈیا پر ضوفشاں
ایک ادبی کہکشاں ہے ہاٹ کیک
نام کا ہے کام پر اس کے اثر
ناشرِ اردو زباں ہے ہاٹ کیک
اس میں ادبی گفتگو کا سلسلہ
مثلِ بحرِ بیکراں ہے ہاٹ کیک

اب نئے چہروں کی ہے اس کو تلاش
نازش پیر و جواں ہے ہاٹ کیک

دیتا ہے یہ دعوتِ فکر و نظر
عہدِ نو کا ترجماں ہے ہاٹ کیک
کیجئے بخت آزمائی آپ بھی
ایک گنج شایگاں ہے ہاٹ کیک 
ہے یہ برقی ترجمانِ روح عصر
فکر و فن کا پاسباں ہے ہاٹ کیک



’’ زخم کھا کر بھی مُسکراؤ تم ‘‘ ـدیا ادبی فورم کے ۱۶۰ ویں آن لاین فی االبدیہہ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی



دیا ادبی فورم کے ۱۶۰ ویں آن لاین فی االبدیہہ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
مجھے اب اور مَت ستاؤ تم
لوٹ کر یوں ابھی نہ جاؤ تم
کہہ رہے ہو چلا کے تیرِ نظر
’’ زخم کھا کر بھی مُسکراؤ تم ‘‘
کیا مجھے تم بھلا سکو گے کبھی
کہہ دیا مجھ سے بھول جاوٌ تم
مُرتَعِش ہو نہ جائے تارِ وجود
رگِ احساس مت دباؤ تم
اپنی رودادِ دل بیان کرو
نہ ڈرو میرے پاس آؤ تم
آتشِ شوق جو جلائی ہے
آکے خود ہی اسے بجھاؤ تم
ہوتی ہے صبر و ضبط کی اک حد
اور اب مجھ پہ ظلم ڈھاؤ تم
تالی اک ہاتھ سے نہیں بجتی
میں بھی نادم ہوں مان جاؤ تم
بِن بُلائے کہیں نہیں جاتا
آؤں گا میں اگر بُلاؤ تم
ڈوب جائے نہ موجِ غم میں کہیں
کشتیٔ دل مری بچاؤ تم
یوں کسی سے خفا نہیں ہوتے
میں بھی آؤںگا پہلے آؤ تم
بدگماں کس لئے ہو برقی سے
کیوں ہو گُم سُم کھڑے بتاؤ تم



لوری: سوجا میرے راج دلارے ۔ احمد علی برقی اعظمی، بشکریہ محبی محمد مجید اللہ


REMEMBERING UMAR QURAISH MARHOOM ON HIS BIRTH ANNIVERSARY ON 16TH SEPTEMBER AHMAD ALI BARQI AZMI


’’ دینَ محمدی کو بچایا حسین نے ‘‘ : سائبان ادبی گروپ کے ۹۰ ویں عالمی منقبتی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سید الشہدا حٖضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ : احمد علی برقی اعظمی


سائبان ادبی گروپ کے ۹۰ ویں عالمی منقبتی مشاعرے کے لئے میری نذرِ عقیدت بحضور سید الشہدا حٖضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ
احمد علی برقی اعظمی
جوفرضِ عین تھا وہ نبھایا حسین نے
’’ دینَ محمدی کو بچایا حسین نے ‘‘
خونِ جگر سے سینچ کے میدانِ کربلا
گلزارِ دینِ حق کو سجایا حسین نے
شایاں ہے ان کو سیدِ شبان کا خطاب
جو پاسکا نہ کوئی وہ پایاحسین نے
’’ قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ‘‘
سچ کرکے اس کو رن میں دکھایا حسین نے
سردے کے راہ حق میں ہیں تاحشر سُرخرو
باطل کے آگے سر نہ جُھکایا حسین نے
نام و نشاں یزید کا باقی نہیں ، جسے
حَرفِ غَلط کی طرح مِٹایا حسین نے
اسلام کی بقا سے نہیں بڑھ کے اپنی جان
حسنِ عمل سے اپنے جتایا حسین نے
شیرِ خدا دکھاتے تھے جو رزمگاہ میں
برقی وہ کام کرکے دکھایا حسین نے





حسین ہائے حسین : آئینے میں راستہ گروپ کی مجلس مسالمہ کے مصرعہ طرح پر میری نذرِ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ : احمد علی برقی اعظمی



آئینے میں راستہ گروپ کی مجلس مسالمہ کے مصرعہ طرح پر میری نذرِ عقیدت بحضور سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ
احمد علی برقی اعظمی
جو کربلا میں تھا تنہا حسین ہائے حسین
’’ چراغ مرقدِ زہرا حسین ہائے حسین ‘‘
نبی کا تھا جو نواسہ علی کا نورِ نظر
تھا سب کو جاں سے جو پیارا حسین ہائے حسین
شہید ہوگیا دینِ نبی کی حُرمت پر
غم و الم کا وہ مارا حسین ہائے حسین
سبھی کو آج رُلاتا ہے خون کے آنسو
وہ بیکسوں کا سہارا حسین ہائے حسین
کرے وہ دستِ یزیدِلعین پر بیعت
نہ تھا اُسے یہ گوارا حسین ہائے حسین
ہے مجتہد کی زباں گُنگ کیا بیان کرے
دل و جگر ہوئے پارا حسین ہائے حسین
ہیں غم میں آج جو شہدائے کربلا کے شریک
سبھی نے رو کے پُکارا حسین ہائے حسین
نہ سوگوار ہوں برقی وہ غم میں کیوں اُس کے

ہے جن کی آنکھ کا تارا حسین ہائے حسین

نذرِ شہرۂ آفاق نعت خواں اُمِ حبیبہ : نتیجہ فکر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی ۔۔ پیشکش ناظم شعر و سخن ڈاٹ نیٹ ٹورانٹو ، کناڈا جناب سردار علی



نذرِ شہرۂ آفاق نعت خواں امِ حبیبہ 
احمدعلی برقیؔ اعظمی
اُمِ حبیبہ کی آواز
جس میں ہے اک سوز و گُداز
نعت سرائی میں ان کی
زیر و بم کا ہے اعجاز
برِ صغیر میں ان کی ذات
سب کے لئے ہے مایۂ ناز
ہے توصیف سے بالاتر
نعتِ نبیﷺ کا یہ اعزاز
جب تک ہیں یہ ماہ و نجوم
زندہ رہے گی یہ آواز
ہو جاتے ہیں سب مسحور
ہوتی ہیں جب نغمہ طراز
میری دعا ہے شام و سحر
اُن کو خدا دے عمرِ دراز
کتنا ہے وجد آور برقیؔ 
اُن کا یہ دلکش انداز
قطعہ

احمد علی برقی اعظمی
امِ حبیبہ ہے وہ نام
جس پہ خدا کا ہے انعام

ہے وہ پیکرِ عشقِ رسول
وردِ زباں ہے جس کا مقام





بشکریہ : شعر و سخن ڈاٹ نیٹ : امیر خسرو کی ایک فارسی غزل کا اردو ترجمہ،۔۔۔ احمد علی برقی عظمی



ہے نہایت دلنشیں شعر و سخن کی پیشکش
مستحق ہیں داد کے اس کے لئے سردار علی
ہیں کناڈا میں وہ برقی ملکِ اردو کے سفیر
مرجعِ اہلِ نظر ہے جن کی اردو دوستی
ان کی میں خدمات کا ہوں صدق دل سے قدرداں
’’ قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری ‘‘
سپاسگزار
احمد علی برقی اعظمی

بشکریہ : ناظم ایک زمین کئی شاعر جناب عمر جاوید خان : طرحی غزلیں مشاعرہ اردو ادب ، مظفر احمد مظفر ( لندن) عبد اللہ خالد ( دہلی ) وقار برکاتی ظاہری ( کانپور) احمد علی برقی اعظمی (دہلی )



ایک زمین کئی شاعر
مظفر احمد مظفر ( لندن) عبد اللہ خالد ( دہلی ) وقار برکاتی ظاہری ( کانپور) احمد علی برقی اعظمی (دہلی )
طرحی غزل*
برگِ خِزاں تھا حِیطٙہءِ صرصر میں آ گیا
اُڑتا ہوا میں دٙستِ ستمگر میں آ گیا
دل مبتلائے جذبہ ءِ الفت ہے اس قدر
جنّت سے اٹھ کےکوچہءِ دلبر میں آ گیا
یہ بھی طِلسمِ نقشِ کفِ پا ہے دوستو!
دیکھو! میں کیسے گُنبدِ بے در میں آ گیا
پا ہی گیا میں اوجِ ثریّا کی وسعتیں !
عالم سمٹ کے جب خٙطِٙ ساغر میں آ گیا
یوں دل پہ اِلتِفاتِ نظر کر گیا ہے وہ
”دستک دیے بغیرمرے گھر میں آ گیا “
***مظفراحمد مظفر
دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا
یہ حوصلہ کہاں سے ستمگر میں آ گیا
کچھ دیر اسکا ہاتھ مرے ہاتھ میں رہا
طوفان سا لہو کے سمندر میں آگیا
کیا حادثہ ہوا ہے کہ دل سا اسیرِشب
بازیگرانِ صبح کے لشکر میں آ گیا
پھیلاتومیرے قدکے برابر نہ تھا لباس
سمٹا تو ایک چھوٹی سی چادر میں آ گیا
سچ بول کرفضول کا جھگڑا لیا ہے مول
یعنی کہ خوامخواہ کے چکر میں آ گیا
راہِ عروجِ عشق میں دل ایسا تیز گام
کچھ یوں گرا زوال کی ٹھوکرمیں آ گیا
خاؔلد! جنونِ شوق کو بھی آسرا ملے
دامن تو خیر دستِ رفو گر میں آ گیا ***عبداللہ خالد
طرحی غزل۔
بےچہرگی کا غم تھا تو پیکر میں آ گیا
قطرہ بھی بہتے بہتے سمندر میں آ گیا
نیکی ضرور کوئی مرے کام آگئی
ورنہ وہ شخص کیسے مقدر میں آ گیا
اک زخم بھر گیا تو لگاتا ہے ایک زخم
یہ فن کہاں سے دستِ رفوگر میں آ گیا
عشاق میں بھی گرمئ بازار اس کی ہے
جب سے گلاب اس کے فلیور میں آ گیا
معصوم تھیں ادائیں بھی کمسن تھا جب تلک
ہو کر جواں وہ اور ہی تیور میں آ گیا
باغی تھا ٗ بے وفا تھا ٗ وہ غدار تو نہ تھا
آخر پلٹ کے اپنے ہی لشکر میں آ گیا
پھر ہوگئی وقاؔر مجھے زندگی عزیز
پھر کو ئی خُوب رُو دلِ مضطر میں آ گیا
***وقاربرکاتی طاہری
طرحی غزل
سودائے عشق جب سے مرے سَر میں آ گیا
اک کربِ ذات میرے مقدر میں آ گیا
وہ گُلعذار آتا ہے ہر سو مجھے نظر
حسن و جمال جس کا گُلِ تَر میں آ گیا
یہ نامہ بَر کی دیدہ دلیری تو دیکھئے
’’ دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا ‘‘
رہتا ہے میرے پیشِ نظر وقتِ میکشی
یہ کس کا عکس شیشہ و ساغر میں آ گیا
میں سوچتاتھا شَرسے ہوں محفوظ اُسکے میں
دامن مرا بھی دستِ ستمگر میں آ گیا
اپنا سمجھ رہا تھا جسے خیر خواہ میں
وہ بھی مرے حریفوں کے لشکر میں آ گیا
برؔقی ہے میرے ذہن میں اک محشرِ خیال
اک مد و جزر جیسے سمندر میں آ گیا
***ڈاکٹر احمدعلی برؔقی اعظمی
بشکریہ : اردو ادب