آ گئی فصلِ خزاں ہیں فصلِ گل جانے کے دن: احمد علی برقی اعظمی ۔۔ جناب امین جس پوری ناظم عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کی برقی نوازی




غزل
ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی
آ گئی فصلِ خزاں ہیں فصلِ گل جانے کے دن
غنچۂ اُمید کے آتے ہیں مُرجھانے کے دن
ہے شبِ فُرقت ابھی آئے گی کب صُبحِ اُمید
کتنے دلکش تھے وہ زُلفِ یار سُلجھانے کے دن
قدر و قیمت سے تھے جس کی آج تک نا آشنا
دیکھ کر اب آگئے ہیں اُس کو للچانے کے دن
جاتے جاتے کہہ گیاتھا آئے گا واپس ضرور
گِن رہا ہوں اُس کے اب میں لوٹ کر آنے کے دن
تھا بہت مسرور لیکن اب ہوں اُتنا ہی مُلول
جیسے جیسے آتے ہیں نزدیک تر جانے کے دن
آرہا ہے مُحتسب ہو خیر میخانے کی اب
ایسا لگتا ہے گئے اب جام و پیمانے کے دن
مُسکرا کر صُلح جوئی کا دیا اُس نے جواب
اب گئے برقیؔ سمجھنے اور سمجھانے کے دن


ممکن نہ تھا جو کرکے دکھایا حسین نے : کُنج ادب انٹرنیشنل گروپ کے پانچویں فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنام سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ کے لئے میری نذر عقیدت احمد علی برقی اعظمی




کُنج ادب انٹرنیشنل گروپ کے پانچویں فی البدیہہ طرحی مشاعرے بنام سید الشہدا حضرت امام حسین ؓ کے لئے میری نذر عقیدت
احمد علی برقی اعظمی
ممکن نہ تھا جو کرکے دکھایا حسین نے
ناموسِ مصطفیٰﷺ کو بچایا حسین نے
جو اپنا فرض تھا وہ نبھاتے چلے گئے
دیکھا نہ کچھ بھی اپنا پرایا حسین نے
نقشِ قدم پدر کا پسر کو بھی تھا عزیز
سجدے میں اپنے سر کو کٹایاحسین نے
بچے ،جوان، بوڑھے سبھی ہوگئے شہید
جو کچھ تھا اپنے پاس لُٹایا حسین نے
کس کا لقب ہے سیدِ شُبان خُلد میں
جو پاسکا نہ کوئی وہ پایا حسین نے
شہدائے کربلا کے ہے خوں سے ہرا بھرا
گلزارِ دیں کو ایسے سجایا حسین نے
’’ قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے ‘‘
سچ کرکے اس کو رَن میں دکھایاحسین نے
برقی رہیں گے زندۂ جاوید حشر تک
ایسا جہاں میں نام کمایا حسین نے

ایک زمین کئی شاعر استاد قمر جلالوی و احمد علی برقی اعظمی


ایک زمین کئی شاعر

استاد قمر جلالوی و احمد علی برقی اعظمی

استاد قمر جلالوی
مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے

انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے
تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے"

مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے

قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے

احمد علی برقی اعظمی
جو کی جذبۂ شوق نے دستگیری مری جادۂ عشق میں چلتے چلتے
پہنچ ہی گیا اپنی منزل پہ آخر خراماں خراماں ٹہلتے ٹہلتے
چراغ محبت کی لو ہے جو مدھم نہ بجھ جائے یہ ناگہاں جلتے جلتے
نہ ہو جاؤں میں یونہی دنیا سے رخصت شبِ ہجر کروٹ بدلتے بدلتے
تجھے ناز ہے جس پہ اے جانِ جاناں فقط چاندنی ہے وہ اک چاردن کی
جو بَروقت تو مجھ سے مِلنے نہ آیا ترا حسن ڈھل جائے گا ڈھلتے ڈھلتے
یہ سوزِ دروں مار ڈالے نہ مجھ کو ہر اک وقت رہتا ہے مجھ کو یہ خدشہ
کہیں خاک کردے نہ مجھ کو بالآخر مرے جسم میں خوں اُبَلتے اُبَلتے
کہا اُس سے جب یہ غمِ زندگی سے مرا ذہن کب تک رہے گا یہ بوجھل
وہ بولا ہے میٹھا بہت صبر کا پھل بہل جائے کا دل بہلتے بہلتے
نہ کھائی ہو جس نے کبھی کوئی ٹھوکر وہ کیا جانے کیسے سنبھلتے ہیں گِر کر
ہے گِر گِر کے جس کو سنبھلنے کی عادت سنبھل جائے گا وہ سنبھلتے سنبھلتے
جسے جان پیاری ہے جیتا رہے گا وہ ہر حال میں چاہے جس طرح گذرے
بفضلِ خد آج بھی ہے سلامت وہ بحرِ حوادث میں بھی پلتے پلتے
سلامت روی بھی ہے بیحد ضروری بہت ہوگیا اپنی حد میں رہے وہ
بہت اُڑ رہا ہے جو اوجِ فلک پرکہیں گِر نہ جائے اُچھلتے اُچھلتے
کہاں سے اُسے لا کے دوں چاند تارے بضد ہے وہ لے کر ہی مانے گا مجھ سے
کہا میرے معصوم بچے نے اک دن سرِ راہ مجھ سے مچلتے مچلتے
نہ کام آئی کچھ اُس سے عرضِ تمنا ہوا ٹس سے مس وہ نہ اپنی روش سے

کہا اُس نے برقیؔ سے اک روز ہنس کر گلے گی تری دال بھی گلتے گلتے

#Fikr-O-Fann / Sher-O-Sukhan: Hassan Chishti with Azeez Belguami : فکروف...

ہفت روزہ فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کے ۱۰۰ ویں فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دو فی البدیہہ غزلیں احمد علی برقی اعظمی






ہفت روزہ فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل کے ۱۰۰ ویں فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
عشق میں اس کے مبتلا ہوکر
رہ گیا دردِ لادوا ہوکر
خانۂ دل میں تھا جو راحتِ جاں
جارہا ہے وہ اب خفا ہوکر
کچھ سمجھ میں مری نہیں آتا
کیسے اس سے رہوں جدا ہوکر
رنج و غم سے ہے میرے ناواقف
وہ مرا درد آشنا ہوکر
کیوں ڈبونے پہ ہے تُلا مجھ کو
کشتی دل کا ناخدا ہوکر
جس کو اپنا سمجھ رہا تھا میں
وہ نہ تھا میرا دلربا ہوکر
ہجر میں میری اس کے اے برقی
زندگی رہ گئی سزا ہوکر
ہفت روزہ فیس بک ٹائمز امٹرنیشنل کے ۱۰۰ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
لے اُڑا دل وہ دلربا ہوکر
چل دیا مجھ سے پھر جُدا ہوکر
کی نہ اُس نے مری مسیحائی
زخم رِستا رہا ہرا ہو کر
جس نے میری وفا کی قدر نہ کی
جی سکے گا نہ بے وفا ہوکر
جل اُٹھا شمعِ رُخ کی سوزش سے
مثلِ پروانہ میں فدا ہوکر
میرا پُرسان حال کوئی نہیں
کیا تھا اب رہ گیا میں کیا ہوکر
جو سمجھتا تھا خود کو اب تک شاہ
پھر رہا ہے وہ اک گدا ہوکر
کچھ بتاتا نہیں وہ برقی سے
جا رہا ہے کہاں خفا ہوکر




میرے دیدہ و دل میں تشنگی کا موسم ہے : احمدعلی برقی اعظمی ۔ موج غزل ادبی گروپ کے۱۷۱ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۲۷ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی



موج غزل ادبی گروپ کے۱۷۱ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی  مشاعرے  بتاریخ ۲۷ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی
مصرعہ طرح : روز شعر کہتا ہوں، شاعری کا موسم ہے (ضیا شہزاد )
احمد علی برقی اعظمی
میرے دیدہ و دل میں تشنگی کا موسم ہے
اُس کی چشمِ میگوں میں میکشی کا موسم ہے
فرشِ راہ ہیں آنکھیں وہ ابھی نہیں آیا
کہہ رہا تھا جو مجھ سے دل لگی کا موسم ہے
اُس کا دلنشیں چہرہ ہے مرے تصورمیں
’’ روز شعر کہتا ہوں شاعری کا موسم ہے‘‘
یاد ہے مجھے اب بھی اس کا وعدۂ فردا
کیسے اُس کو سمجھاؤں آگہی کا موسم ہے
وہ مرے درِ دل پر جانے دے گا کب دستک
میرے قلبِ مضطر میں بے بسی کا موسم ہے
تازگی تھی جواِن میں ہوگئی ہے وہ عنقا
جسم و جاں میں اب میرے خستگی کا موسم ہے
کیا جواب دوں اُن کو زہرخند کا اُن کے
وہ جو مجھ سے کہتے ہیں آپ ہی کا موسم ہے
فصل گل بھی ہے برقی ان دنوں خزاں دیدہ
گلشنِ محبت میں دلکشی کا موسم ہے





برقی اعظمی کی شاعری کا یک صفحہ : بشکریہ اردو سخن




برقی اعظمی کی شاعری کا یک صفحہ
http://www.urdusukhan.com/2011/04/ahmda-ali-barqi-azmi-احمد-علی-برقی-اعظمی-کی-شاعری-سے-ایک/

یہ صفحہ اردو سخن پر ہے جو میرا جلوہ گر 
دیتا ہے اہل نظر کو دعوت فکر و نظر 

ہے یہ برقی کے شعور فکر و فن کا آئینہ
فیصلہ اس کا کریں گے دیکھ کر اہل نظر
احمد علی برقی اعظمی
بشکریہ اردو سخن

موجِ سخن کے ۴۳ ویں عالمی آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی



موجِ سخن کے ۴۳ ویں عالمی آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
عبور کرنا ہے جو وہ ندی نہیں آئی
’’ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘‘
جو پہلے میری روش تھی اسی پہ قایم ہوں
مری وفاؤں میں اب تک کمی نہیں آئی
تھا اُس کا وعدۂ فردا مرے لئے جانسوز
مجھے تھی جس کی تمنا کبھی نہیں آئی
جو میری بیخ کنی کرتا ہے پسِ پردہ
اسے نبھانا کبھی دوستی نہیں آئی
ہے صبر آزما اب اور انتظار مجھے
جسے سمجھتا تھا میں زندگی نہیں آئی
ہمیشہ کرتا ہے یوں تو وہ صلح کی باتیں
امید جس کی تھی وہ آشتی نہیں آئی
وہ سبز باغ دکھاتا ہے اس کا روز مجھے
مگر وصال کی اب تک گھڑی نہیں آئی
ہمیشہ دیکھ کے ہنستا ہے حالِ زار مرا
نگاہِ ناز میں اس کی نمی نہیں آئی
لکھا ہے ٹھوکریں کھانا مرے مقدر میں
اسی لئے مجھے منزل رسی نہیں آئی
بہار میں بھی نمایاں خزاں کے ہیں آثار
شگفتہ گلشنِ دل میں کلی نہیں آئی
بھٹکتا رہتا ہوں میں تیرگی کی راہوں میں
جو رہنما ہو مری، روشنی نہیں آئی
ضروری خونِ جگر ہے سخنوری کے لئے
وہ شعر کہتے ہیں پر شاعری نہیں آئی
تمھاری قدر بھی برقی کریں گے بعد از مرگ
وہ کہہ رہے ہیں ابھی وہ صدی نہیں آئی
بشکریہ : موج سخن


ادا جعفری کی زمین میں سائبان ادبی گروپ کے مصرعہ طرح بیاد ادا جعفری پر میری فی البدیہہ طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی


حمد باری تعالی احمد علی برقیؔ اعظمی : بشکریہ : ناظم عالمی ادبی گروپ ’’ صبا آداب کہتی ہے ‘‘ جناب امین جس پوری





حمد باری تعالی
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہے تو ہی عالم آرا پروردگار عالم
ہرسو ترا نظارا پرورگار عالم
کیسے کروں گذارا پروردگار عالم
بس ہے ترا سہارا پروردگار عالم
مختار کُل تو ہی ہے محتاج سب ہیں تیرے
کچھ بھی نہیں ہمارا پروردگار عالم
فضل و کرم سے اپنے تو بخش دے وہ مجھ کو
جو ہو تجھے گوارا پروردگار عالم
ہے بحرِ بیکراں میں جس کا گِھرا سفینہ
ملت ہے بے سہارا پروردگار عالم
میں گُل سمجھ رہا تھا جوشِ جنوں میں جس کو
ہے مثلِ سنگِ خارا پروردگار عالم
کر سکتا ہے مسخر تو دل کو اُس کے جس سے
میں جیت کر بھی ہارا پروردگار عالم
اظہارِ مدعا کیا اپنا کروں میں تجھ سے
ہے تجھ پہ آشکارا پروردگار عالم
فضل و کرم کا تیرے محتاج ہے یہ برقیؔ
رنج و الم کا مارا پروردگار عالم

Ahmad Ali Barqi Azmi | Naye Puraney Chiragh 2019 Mushaira | Urdu Academy.. Courtesy : True Media And Urdu Academy Delhi.

Tamam Shud - Poet Ahmad Ali Barqi Azmi -Courtesy:Syed Abubaker Maliki محبوب کبریا پہ رسالت تمام شد

:ستم سہہ کے بھی مسکرانا پڑا ہے : احمد علی برقی اعظمی



بشکریہ سائبان ادبی گروپ
ارشاد احمد نیازی کے مصرعہ طرح پر سائبان ادبی گروپ کے عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۷ اگست ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی 
احمد علی برقی اعظمی
ستم سہہ کے بھی مسکرانا پڑا ہے
یہ کیوں میرے پیچھے زمانا پڑا ہے
اسے آج مجھ کو منانا پڑا ہے
ہر اک ناز اس کا اُٹھانا پڑا ہے
جو رہتا تھا اکثر مرے آگے پیچھے
بُلانے پہ اب اُس کے جانا پڑا ہے
جو سائے سے بھی میرے ڈرتا تھا اس کی
مجھے ہاں میں ہاں اب مِلانا پڑا ہے
سلیقہ نہیں دل لگانے کا جن کو
اُنھیں سے مجھے دل لگانا پڑا ہے
مجھے وہ جو پہلے مرے رہنما تھے
’’ چراغوں کو رستہ دکھانا پڑا ہے ‘‘
جنہیں بے وفائی کا ہے میری شکوہ
مجھے بھی انہیں آزمانا پڑا ہے
بٹھا کر میں جس پر گُھماتا تھا اس کو
اُسی پُشت پر تازیانہ پڑا ہے
کبھی آج تک جو نہ گایا تھا برقی
مجھے وہ ترانہ بھی گانا پڑا ہے


ایک زمین کئی شاعر مرزا غالب اور احمد علی برقی اعظمی مرزا غالب



ایک زمین کئی شاعر
مرزا غالب اور احمد علی برقی اعظمی
مرزا غالب
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا 
یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا 
بے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی 
کھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا 
بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل 
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا 
تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھے 
تِریاکیِ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا 
سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئے 
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا 
بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار 
یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا 
باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل 
ابرِ بہار خم کدہ کِس کے دماغ کا! 
عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے ۱۳ ویں پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
عنقا سکوں ہے عہدِ رواں میں دماغ کا
جیسے گذر گیا ہو زمانہ فراغ کا
ناسور بن گیا ہے ہر اک زخمِ خونچکاں
کیا ماجرا سناؤں تمہیں دل کے داغ کا
منزل کی سمت جوشِ جنوں میں ہوں گامزن
بس نقشِ پا ہے اس کے وسیلہ سراغ کا
تاریک کررہا ہے وہ کیوں میرے ذہن کو
دینا ہے کام روشنی گھر کے چراغ کا
گلشن کا باغباں نے بُرا حال کردیا
ہر گُل زباں حال سے کہتا ہے باغ کا
جس گلستاں میں پہلے چہکتی تھیں بلبلیں
اب بے سُرا ہے راگ وہاں صرف زاغ کا
شیرازۂ حیات ہے اس طرح منتشر
برقی ہو جیسے دل پہ تسلط دماغ کا



کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا : عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے ۱۳ ویں پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی : احمد علی برقی اعظمی



بشکریہ : صبا آداب کہتی ہے فورم
عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے ۱۳ ویں پندرہ روزہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
عنقا سکوں ہے عہدِ رواں میں دماغ کا
جیسے گذر گیا ہو زمانہ فراغ کا
ناسور بن گیا ہے ہر اک زخمِ خونچکاں
کیا ماجرا سناؤں تمہیں دل کے داغ کا
منزل کی سمت جوشِ جنوں میں ہوں گامزن
بس نقشِ پا ہے اس کے وسیلہ سراغ کا
تاریک کررہا ہے وہ کیوں میرے ذہن کو
دینا ہے کام روشنی گھر کے چراغ کا
گلشن کا باغباں نے بُرا حال کردیا
ہر گُل زباں حال سے کہتا ہے باغ کا
جس گلستاں میں پہلے چہکتی تھیں بلبلیں
اب بے سُرا ہے راگ وہاں صرف زاغ کا
شیرازۂ حیات ہے اس طرح منتشر
برقی ہو جیسے دل پہ تسلط دماغ کا





اس کی چشم میگوں میں میکشی کا موسم ہے : احمد علی برقی اعظمی


میری قربانیوں کا صلہ کچھ نہیں :حریم سخن گروپ کے تیسرے فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی



حریم سخن گروپ کے تیسرے فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
میری قربانیوں کا صلہ کچھ نہیں
آج تک اس نے مجھ کو دیا کچھ نہیں
اپنے من کی ہی وہ بات کرتا رہا
اس سے کہتا رہا پَر سُنا کچھ نہیں
میں اندھیرے میں یونہی بھٹکتا رہا
’’ چاند، سورج، ستارہ ، دیا کچھ نہیں ‘‘
کرکے عرضِ تمنا ہوں اس سے خَجِل
چَل دیا سن کے وہ اور کہا کچھ نہیں
فرض ہے جس کا حاجت روائی مری
اُس کی جانب سے مجھ کو مِلا کچھ نہیں
اُس کی ہرزہ سرائی سے حیران ہوں
یوں تو اُس نے کہا بَرمَلا کچھ نہیں
فردِ جُرم اُس کی پہلے سے تیار تھی
کیوں مجھے دی سزا یہ پتہ کچھ نہیں
نکتہ چینی کی برقی ہے عادت جسے
آگے پیچھے اُسے سوجھتا کچھ نہیں