عہدِ رواں کے ممتاز خطاط و نقاش مہر رشید کی خطاطی پر منظوم تاثرات احمد علی برقی اعظمی



عہدِ رواں کے ممتاز خطاط و نقاش مہر رشید کی خطاطی پر منظوم تاثرات
احمد علی برقی اعظمی
مہر رشید کو خطاطی میں حاصل ہے اک اوج کمال
قابلِ دید ہے عہد رواں میں ان کے ہُنر کا حسن و جمال
اس فن کے تھے ابوالآبا ایران کے کاتب میر عماد
ان کے دلکش خط کے نمونے ہیں اعجاز ہُنر کی مثال
سب خطاط جہاں میں ان سے حاصل کرتے ہیں فیضان
مہر رشید کی خطاطی بھی دیتی ہے دعوتِ فکر و خیال


شریف النفس کو اس کی شرافت مار ڈالے گی : احمد علی برقی اعظمی


ایک منظوم تعارف احمد علی برقیؔ اعظمی



ایک منظوم تعارف
احمد علی برقیؔ اعظمی
پوچھتے ہیں مجھ سے وہ میرا تعارف کیا کہوں
میرے والد برق تھے اور میں ہوں برقی اعظمی
شہرِ اعظم گڈھ ہے یوں تو میرا آبائی وطن
کھینچ لائی شہرِ دہلی میں زبانِ فارسی
ریڈیو کے فارسی شعبے سے ہوں اب مُنسلک
ضوفگن ہے برقؔ سے برقیؔ کے فن کی روشنی
اردو کی ویب سائٹوں پر کرتا ہوں عرضِ ہُنر
میرا فطری مشغلہ ہے چونکہ عصری آگہی
میری خوئے بے نیازی ہے مجھے بیحد عزیز
میرے ادبی ذوق کی مظہر ہے میری شاعری
ہوتا میں بھی گر زمانہ ساز تو سب جانتے
ہوں مقامی سطح پر اب تک شکارِ بے رُخی
یوں تو ہوں اربابِ دانش میں سبھی سے روشناس
مجھ کو شاید وہ سمجھتے ہیں ابھی تک مبتدی
ہیں فصیلِ شہر سے باہر ہزاروں قدرداں
باعثِ ذہنی سکوں ہے اُن سے میری دوستی
میرے والد کا تصرف ہے مرا عرضِ ہُن
ر ان کے فکر و فن کی ہے میرے سخن میں تازگی
جملہ اصنافِ سخن سے یوں تو ہے مجھ کو لگاو
ہے یہ یادِ رفتگاں وجہہِ نشاطِ معنوی
پہلے موضوعاتی تھا عرضِ ہُنر کا دایرہ
میری غزلوں میں بھی ہے جس سے تسلسل آج بھی
نام گلہائے سخن کا ہے مرے روحِ سخن
روح کو ہوتی ہے حاصل جس سے اک آسودگی
شہر اعظم گڈھ ہے برقیؔ یوں تو میری زادگاہ
شہرِ دہلی میں بسر کرتا ہوں اب میں زندگی


موج غزل ادبی گروپ کے۱۷۱ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۲۷ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی مصرعہ طرح : روز شعر کہتا ہوں، شاعری کا موسم ہے (ضیا شہزاد )



موج غزل ادبی گروپ کے۱۷۱ ویں عالمی فی البدیہہ طرحی  مشاعرے  بتاریخ ۲۷ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری طبع آزمائی
مصرعہ طرح : روز شعر کہتا ہوں، شاعری کا موسم ہے (ضیا شہزاد )
احمد علی برقی اعظمی
میرے دیدہ و دل میں تشنگی کا موسم ہے
اُس کی چشمِ میگوں میں میکشی کا موسم ہے
فرشِ راہ ہیں آنکھیں وہ ابھی نہیں آیا
کہہ رہا تھا جو مجھ سے دل لگی کا موسم ہے
اُس کا دلنشیں چہرہ ہے مرے تصورمیں
’’ روز شعر کہتا ہوں شاعری کا موسم ہے‘‘
یاد ہے مجھے اب بھی اس کا وعدۂ فردا
کیسے اُس کو سمجھاؤں آگہی کا موسم ہے
وہ مرے درِ دل پر جانے دے گا کب دستک
میرے قلبِ مضطر میں بے بسی کا موسم ہے
تازگی تھی جواِن میں ہوگئی ہے وہ عنقا
جسم و جاں میں اب میرے خستگی کا موسم ہے
کیا جواب دوں اُن کو زہرخند کا اُن کے
وہ جو مجھ سے کہتے ہیں آپ ہی کا موسم ہے
فصل گل بھی ہے برقی ان دنوں خزاں دیدہ
گلشنِ محبت میں دلکشی کا موسم ہے




گلزار تمنا کو سجانے آجا : احمد علی برقی اعظمی |


Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi Paying Poetic Compliments To G.R.Kanwal For His Services to Urdu

Dr Ahmad Ali Barqi Azmi Reciting His Ghazal In Literary Meet Of Ghalib...

ہیں کسی کے ہجر میں صبر آزما تنہائیاں : احمد علی برقی اعظمی


موج غزل ادبی گروپ کے عالمی آن لاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱ جولائی ۲۰۱۷ کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی



موج غزل ادبی گروپ کے عالمی آن لاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱ جولائی
۲۰۱۷ کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
مشکل میں اب جان پڑی ہے
’’ سر پہ ہمارے آن پڑی ہے‘‘
جادۂ شوق کی میرے منزل
آبھی جا سُنسان پڑی ہے
کب سے میرے دل کی بستی
بِن تیرے ویران پڑی ہے
آکے زمانے بھر کی مصیبت
میرے گھر مہمان پڑی ہے
جانے کیوں وہ جان تمنا 
ایک طرف بے جان پڑی ہے
اپنا سمجھ رہا تھا جس کو
مجھ سے وہ انجان پڑی ہے
میرے لئے جو دشمنِ جاں ہے
اُس کے لئے آسان پڑی ہے
دیکھ کے ہے حیراں آئینہ
سخت اس کی پہچان پڑی ہے
اک گوشے میں بیٹھ کے گُم سُم
دل میں لئے ارمان پڑی ہے
جاں پہ بنی ہے میری برقی
اُس کو اپنی شان پڑی ہے


Dr.G.R Kanwal And His Poetry Collections In Urdu











محترم جی آر کنول جو گذشتہ کئی دہائیوں سے دہلی اردو اکادمی کی گورننگ کونسل سے وابستہ رہے ہیں کےاردو اکادمی کی جانب سے سال ۲۰۱۸ کے موقراعزاز سے سرفراز ہونے پر منظوم تاثرات
احمد علی برقی اعظمی
ہیں صاحبِ علم و فضل و ہُنر، کہتے ہیں جنھیں جی آر کنول
ہے مظہرِ ندرتِ فکر و نظر، ان کی دلکش ہر ایک غزل
ہیں عہدِ رواں میں اردو کے اک ایسے عظیم وہ شیدائی
رہتے ہیں ہمیشہ جس کے لئے وہ شام و سحر سرگرمِ عمل
شعری مجموعے آٹھ اُن کے ہیں اردو ادب کا سرمایہ
گلہائے مضامیں ہیں ان کے پُرکیف وشگفتہ مثلِ کنول
ادبی خدمات ہیں جو ان کی ہیں اہلِ نظر اُن سے واقف
ہے میری نظر میں ناممکن اس دور میں ان کا کوئی بدل
اعزاز ملا ہے جو ان کو حقدار تھے پہلے ہی اس کے
مِل جائے جب بھی وہ برقی، مستحسن ہے خدمات کا پھل


غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ماہانہ ادبی نشست کا اہتمام



غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ماہانہ ادبی نشست کا اہتمام
            گزشتہ روز غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ماہانہ ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا۔نشست کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔ نشست میں عقیل احمد نے حضرت امیر خسروپر، محمد خلیل نے ہوائی جہاز پر مضمون پڑھا۔ چشمہ فاروقی نے اپنا افسانہ اکیلا پن پڑھا۔ اس موقع پر شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں   ؎
آئینے کو منہ دکھانا عام ہے لیکن کنول

سب خطائیں ساتھ لے کر منہ دکھانا اور ہے

جی آر کنول
تعمیر کبھی ہو نہ سکا قصر وفا کا

مٹی میں تیری ریت کی مقدار بہت ہے

ڈاکٹر مینا نقوی
شریک راہ سب اپنے تھے کوئی غیر نہ تھا

کیا ہے کس نے میرا خون مجھے نہیں معلوم

ظہیر احمد برنی
زندگی یوں گذر گئی جیسے

دھوپ چھت سے اتر گئی جیسے

عبدالرحمن منصور
مری جانب نگاہیں اس کی ہیں دزدیدہ دزدیدہ

جنون  شوق سے دل ہے مرا شوریدہ شوردیدہ

احمد علی برقی اعظمی
یہ درد خوب بہانے تلاش کرتا ہے

دل وجگر میں ٹھکانے تلاش کرتا ہے

زاہد علی خاں اثر
آگ لہجے فراز پھول بنیں

آئے ایسا بھی سال پھولوں کا

سرفراز احمد فراز
اب تو کشتی کی حفاظت کی کوئی ترکیب ہو

ناخدا،پتوار کی اور بادباں کی بات کر

شفا کجگاؤ نوی
مجبور پہ کر دیجیے کرم رحمت عالم

اب ٹوٹنے والا ہے بھرم رحمت عالم

ذہینہ  صدیقی
لوٹ کے گزری گھڑی پھر کبھی آتی نہیں ہے

یاد بچپن کی بھی دل سے کبھی جاتی نہیں ہے

دویا جین
رہا جو عشق میں بے داغ ہر دم

وہ پاکیزہ ترا دامن کہاں ہے

متین امروہوی
شاعرو آؤ مرثیے لکھیں

عشق صاحب کا انتقال ہوا

فاروق ارگلی
بدلتے لمحے انھیں کو سلام کرتے ہیں

جو اک حیات میں صدیوں کا کام کرتے ہیں

ڈاکٹر مسیحا جونپوری
ستم یہ سرنگوں ہیں آج وہ بھی

جنھیں شبیر ہونا چا ہیے تھا

رؤف رامش
کتنی ٹوٹن ہے کوئی آئے بکھیرے مجھے

اس سے پہلے کہ سمیٹیں یہ اندھیرے مجھے

منوج شاشوت
غم کے دریا کے پار جانا تھا

صبر کو ناخدا بنانا تھا

کیلاش سمیر
اپنا اپنا زخم لے کر جی رہا ہر کوئی

تیرے دل کا اورہے میرے دل کا تیر اور

منوج بیتاب
تیرہ محفل ہے جسے چاہے مقابل کر دے

پھر ہو تکرار یا گفتار سمجھ لوں گا

عمران راہی
زمیں  پر تو اڑالی خاک اب شاہین بننا ہے

کہ اب کے بال و پر اور آسماں کی کرنی ہے

نسیم بیگم نسیم
زندگی بھر مخالف رہے، موت نے اک جگہ کردیا

 اے زمین تیری آغوش میں، دوست دشمن ہیں لیٹے ہوئے

 شاہد انور
            اس موقع پر عزیزہ مرزا،انیمیش شرما، پیمبر نقوی،شگفتہ یاسمین، شاکر دہلوی،نگار بانو ناز نے بھی اپنے کلام پیش کئے۔آخر میں سکریٹری کے شکریہ کے ساتھ نشست ختم ہوئی۔




برقی اعظمی کی روح سخن : جناب انور خواجہ ریزیڈنٹ ایڈیٹرہفت روزہ اردو لنک یو ایس اے کی برقی نوازی



برقیؔ اعظمی کی ”روحِ سخن
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی جیسے قادر الکلام شاعر کے مجموعہئ شاعری ”روحِ سخن“ کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے گھبراہٹ سی ہو رہی ہے… کہاں وہ اور کہاں یہ ناچیز۔

برقیؔ اعظمی ایک زود گو شاعر ہیں۔ اُن کی زود گوئی ان کے کلام کے معیار پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ اسے مہمیز کرتی ہے۔اُن کی طبیعت میں جو ایک جولانی، جوش ولولہ اور زمزمہ ہے اسے حاصل کرنے میں انھوں نے نہ صرفِ پتہ مارا ہے بلکہ جگر کاوی کی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ ایک ساحر ایک جادوگر ہیں۔ اُن کے سامنے الفاظ تشبیہات تلمیحات اور محاورے قطار اندر قطاردست بستہ سر جھکائے کھڑے ہیں اور انتظار میں ہیں کہ کب برقیؔ صاحب حکم دیں اور وہ سجدہ بجا لائیں۔

اُردو ان کے گھر کی لونڈی ہے اور فارسی اُن کی دوست۔انہوں نے ابوالکلام آزاد اور اقبالؔ کی فارسی غزلوں کو جس طرح اُردو کا جامہ پہنایا ہے تو یوں لگتا ہے کہ یہ غزلیں اُردو میں لکھی گئی ہیں۔ برقیؔ اعظمی کی قادرالکلامی، تخلیقی قوت اور اسلوب کا تہور جان کر مجھے تین شاعر یاد آتے ہیں۔ میر انیسؔ، جوش ملیح آبادی اور جعفر طاہر۔ ان تینوں کو زبان و بیان پر جو قدرت حاصل تھی وہ اپنی مثال آپ ہیں۔انہوں نے طرح طرح اور متنوع موضوعات کو جس حُسنِ نزاکت اور دلنشینی سے پیش کیا ہے اُسے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا داد صلاحیت ہے۔تخلیقی عمل کا تجزیہ ایک بڑا کٹھن مرحلہ ہے اور اس کے بارے میں کوئی عالم یا نقاد آخری رائے نہیں دے سکتا۔ برقیؔ اعظمی نے ان شاعروں کی صف میں کھڑے ہونے کی کاوش کی۔ انہوں نے ہیئت اور موضوع میں روایت کی پاسداری کرتے ہوئے جدید تقاضوں کو پس انداز نہیں ڈالا۔ ان کے اسلوب میں جو جوشِ بیان ہے وہ صرف الفاظ سے پیدا نہیں ہوتا اس کا تعلق بحر و آہنگ سے ہے۔ انہوں نے مشکل زمینوں اور لمبی بحروں سے اجتناب کیا۔ وہ اپنے تخیل کی صناعی اور فنکاری کو  پورے طور پر بروئے کار لائے اور فن اور اسلوب کو ایک دوسرے میں مدغم کر کے ایک نیا شعری سانچا تخلیق کیا جس میں جذبات کی صداقت،انداز کی شیرینی اور حلاوت قدم قدم پر آپ کو ملتی ہے۔

 غزل اپنی تنگ دامنی کی وجہ سے ردیف اور قافیہ میں قید ہے اور بہت سے موضوعات کو اس انداز میں پیش نہیں کرسکتی لیکن ایک قادر الکلام شاعر کے سامنے یہ تنگ دامانی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ نے جس طرح غزل کے امکانات میں ایسی وسعت پیدا کی کہ دُنیا کے سارے مسائل کا احاطہ کر لیا۔ برقیؔ اعظمی نے روایات کی پیروی کی وہ جذبات کو مصور کرتے ہیں اور خیالات کی تصویر بناتے ہیں۔

برقیؔ اعظمی نے اپنی غزلوں میں چھوٹی بحر کو استعمال کیا ہے۔ اُردو کے کلاسیکل شاعروں نے بھی یا درمیانی بحریں زیادہ استعمال کی ہیں۔ شاید بہت سے مضامیں کو ان بحروں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ میر تقی میرؔ غالباً پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نہایت صناعی اور مہارت سے چھوٹی بحروں کا استعمال کیا ایک اور ہر طرح کے مضامین کو ان میں باندھا۔ غالبؔ نے چھوٹی بحریں استعمال کیں لیکن زیادہ نہیں۔ البتہ جدید دور میں جگر مرادآبادی  اور ان کے بعد فیض احمد فیضؔ نے چھوٹی بحروں کو نہایت چابکدستی سے برتا۔ برقیؔ اعظمی کی غزلوں کا زیادہ سرمایہ  چھوٹی بحروں میں ہے۔ انھوں نے جوش بیان اور معنی کو اس طرح شیر و شکر کیا کہ غزل کی غنائیت اور سوز و گداز ذرا بھی مجروح نہیں ہوا۔

برقیؔ اعظمی کی غزل میں آپ کو جس کلچر کی گونج سنائی دیتی ہے وہ بر صغیر ہند و پاک کی گنگا جمنی رنگت ہے لیکن اس کے باوجود اس کا لہجہ اسلامی ہے۔ میں ثبوت کے طور پر ان کی چند غزلیں پیش کرتا ہوں۔

دیارِ شوق میں تنہا بُلا کے چھوڑ دیا

حسین خوابِ محبت دکھا کے چھوڑ دیا

کیا تھا وعدہ نبھانے کا رسمِ اُلفت کا

دکھائی ایک جھلک مُسکرا کے چھوڑ دیا

وہ سبز باغ دکھاتا رہا مجھے اور پھر

نگاہِ ناز کا شیدا بنا کے چھوڑ دیا

اُجاڑنا تھا اگر اُس کو تو بسایا کیوں

نگارخان? ہستی سجا کے چھوڑ دیا

سمجھ میں کچھ نہیں آتا یہاں سے جاؤں کہاں

عجیب موڑ پہ یہ اُس نے لا کے چھوڑ دیا

ہے آج خان? قلبِ حزیں یہ تیرہ و تار

جلا کے شمعِ تمنا بُجھا کے چھوڑ دیا

٭٭٭

نظر بچا کے وہ ہم سے گزر گئے چُپ چاپ

ابھی یہیں تھے نہ جانے کِدھر گئے چُپ چاپ

ہوئی خبر بھی نہ ہم کو کب آئے اور گئے

نگاہِ ناز سے دل میں اُتر گئے چُپ چاپ

دکھائی ایک جھلک اور ہو گئے روپوش

تمام خواب اچانک بکھر گئے چُپ چاپ

یہ دیکھنے کے لئے منتظر ہیں کیا وہ بھی

دیارِ شوق میں ہم بھی ٹھہر گئے چُپ چاپ

کریں گے ایسا وہ اِس کا نہ تھا ہمیں احساس

وہ قول و فعل سے اپنے مُکر گئے چُپ چاپ

فصیلِ شہر کے باہر نہیں کسی کو خبر

بہت سے اہل ہنر یوں ہی مر گئے چُپ چاپ

دکھا رہے تھے ہمیں سبز باغ وہ اب تک

اُنھیں جو کرنا تھا برقیؔ وہ کر گئے چُپ چاپ

٭٭٭

اُردو کلچر اور ادب کو اس دَور میں جو مخدوش حالات درپیش ہیں ان پر سیاسی مذہبی ثقافتی اور ہُنری نظریات کی ایک زبردست یلغار ہے۔ اس یلغار کو صرف برقیؔ اعظمی جیسے دانشور اپنی تخلیقات سے روک سکتے ہیں۔

عظیم ادب کے دو اصول ہوتے ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اس شہ پارے میں وہ ساری خوبیاں اور جوہر موجود ہوں جن کو ہم داخلی خصوصیات کہتے ہیں۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ ہیئت واسلوب سے زیادہ اہم شاعر کا پیغام ہوتا ہے جو اعلیٰ ترین خیالات اور تصورات کا مرقع ہوتا ہے۔

شاعری جزویست از پیغمبری

اس نظریہ کی روشنی میں اگر دُنیا کے عظیم شاہکاروں کو پرکھا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عظیم ادب وہ ہے جو عظیم تصورات پیش کرتا ہے۔ اس اصول،کا اطلاق برقیؔ اعظمی کی شاعری پر پوری طرح ہوتا ہے۔

برقیؔ اعظمی کی شاعری کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر بہت شاعروں نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔ موضوعاتی شاعری ایک کٹھن، مشکل اور خشک فن ہے۔ انھوں نے ”یادِ رفتگاں“ کے عنوان کے تحت زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں شخصیات پر نظمیں کہی ہیں۔ اکثر نظمیں فی البدیہہ ہیں۔ برقیؔ اعظمی کی موضوعاتی شاعری کلاسیکی روایاتِ شعر و ادب سے پوری طرح ہم آہنگ ہے لیکن اس میں عصرِ حاضر کا رنگ بھی پوری طرح آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اعظمی صاحب کے یہاں موضوعات کے انتخاب میں ایک آفاقیت ہے۔ وہ رنگ و نسل اور مذہب کی حدود پار کر جاتے ہیں۔ان کے دل میں انسانیت کا گہرا درد موجود ہے۔ انہوں نے جو نقش رنگا رنگ پیش کئے اس کی مثال اُردو ادب میں نہیں ملتی۔ اعلیٰ انسانی اقدار اور آفاقی محبت ان کی موضوعاتی شاعری کا سمبل ہے۔ اس طرح وہ ایک تاریخی شعور سے آشنا ہوتے ہیں جو ان کو صوفیوں کے حلقہ میں لے آتا ہے۔ میرے نزدیک وہ جدید دور کے سچے صوفی ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ان کے شعری مجموعے ”روحِ سخن“ کی نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عوام میں بھی پذیرائی ہو گی۔ میری نیک تمنائیں اور دُعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

٭٭٭

 انور خواجہ

ریزیڈینٹ ایڈیٹر، ہفت روزہ ”اُردو لنک

امریکہ




Movie YAADE RAFTAGAN TO NASHTAR KHAIRABADI BY DR AHMAD ALI BARQI AZMI ...

Ahmad Ali Barqi Azmi Recites His Ghazals In A Literary Meet In Hindi Bhawan Jaunpur...

A Translation of Padmaja Iyenger’s Poem Entitled “Well” From English to Urdu Ahmad Ali Barqi Azmi





A Translation of Padmaja Iyenger’s Poem Entitled “Well” From English to Urdu
Ahmad Ali Barqi Azmi


پد مجا آینگر پیڈی کی ایک انگریزی نظم کا منظوم اردو مفہوم
میں نے اچھی طرح یہ جان لیا
احمد علی برقی اعظمی
جب تمہاری مجھے ضرورت تھی
صبر کا میرے امتحان لیا
سنگدل خامشی سے یہ جانا
کیا سمجھتے ہو مجھ کو، جان لیا
میں تمھارے لئے ضرورت تھی
میں نے اچھی طرح یہ مان لیا
بِن تمھارے بھی اب میں جی لوں گی
میں نے یہ اپنے دل میں ٹھان لیا
شکریہ پا کے چھوڑنے کا مجھے
میں ہوں کیا خود کو میں نے جان لیا
کس نے کیا کھویا اور کیا پایا
میں نے اچھی طرح یہ جان لیا

A translation of Padmaja Iyenger’s Poem Entitled “Well” From English to Urdu
Ahmad Ali Barqi Azmi
Jab tumhari mujhe zaroorat thi
Sabr ka mere imtehan liya
Sangdil khamushi se yeh jana
Kya samajhte ho mujh ko , jaan liya
Main tumhare liye zaroorat thi
Main ne achhi tarah yeh maan liya
Bin tumhare bhi ab main jee loongi
MaiN ne yeh apne dil meiN than liya
Shukriya pa ke chhodne ka mujhe
MaiN hooN kya khud ko main ne jaan liya
Kis ne kya khoya aur kya paaya
Main ne achhi tarah se jaan liya


WELL …
Padmaja Iyengar

Whenever my need for you
was the greatest
You always chose to test
My patience, my forbearance
Through your stony silence

I suppose that’s your way
Of letting me know
That when your need for me
Is the greatest
You’d manage on your own

Thank you for this challenge
Since I have now learnt
To do without you in life
And manage on my own
Whatever comes my way

Thanks for letting me know
Thanks for letting me go
Thanks for moving on
Thanks, I’ve moved on too

Who lost? Who gained?
Well …


آپ جائیں گے جہاں مُجھ کو وہیں پائیں گے آپ : موج غزل ادبی گروپ کے ۶۰ ویں عالمی آن لاین فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۱۰ جون ۲۰۱۷ کے لئے میری غزل مسلسل




ایک زمین کئی شاعر مظفر احمد مظفر (لندن) اور احمد علی برقی اعظمی ( نئی دہلی )





ایک زمین کئی شاعر
مظفر احمد مظفر (لندن) اور احمد علی برقی اعظمی ( نئی دہلی )
مظفر احمد مظفر
غزل
نمودِ صبح روشن ہے مگر رنجیدہ رنجیدہ
حریمِ شوق لرزاں ہے نظر شوریدہ شوریدہ
جبینِ شوق جب جھکتی ہے تیرے آستانے پر
تمنا کرنے لگتی ہے مجھے نمدیدہ نمدیدہ
مجھے تیرِ نگاہِ ناز کر دے جاں بحق اس دم
مری جانب اُٹھے جب بھی نظر دزدیدہ دزدیدہ
مرا جذبِ جنوں لے آیا آخر مجھ کو منزل پر
وگرنہ راستہ پر خار تھا پیچیدہ پیچیدہ
ترے آئینۂ دل پر جو ہے عکسِ وفا میرا
نگاہِ ناز کو لگتا ہے یہ نادیدہ نادیدہ
وہی میں ہوں مگر یہ کیا قیامت سر پہ ٹوٹی ہے
کوئی محفل بھی ہو رہتا ہوں میں سنجیدہ سنجیدہ
صدا جب تک نہ دے منزل مسافر چل نہیں سکتا
قدم تیری طرف اٹھتے ہیں پر لغزیدہ لغزیدہ
اگر شرمندۂ تعبیر میرا خواب ہو جاتا
نہ رہتی عمر بھر چشمِ طلب نمدیدہ نمدیدہ
مظفر داغ ہائے دل سے ہے تیرہ شبی ایسی
کرن افلاک سے پھوٹی ہے پر نادیدہ نادیدہ
غزل
احمد علی برقیؔ اعظمی
مری جانب نگاہیں اس کی ہیں دُزدیدہ دُزدیدہ
جنونِ شوق میں دل ہے مرا شوریدہ شوریدہ
نہ پوچھ اے ہمنشیں کیسے گذرتی ہے شبِ فُرقت
میں ہوں آزُردہ خاطر وہ بھی ہے رنجیدہ رنجیدہ
گُماں ہوتا ہے ہر آہٹ پہ مُجھ کو اُس کے آنے کا
تصور میں مرے رہتا ہے وہ خوابیدہ خوابیدہ
وہ پہلے تو نہ تھا ایسا اُسے کیا ہوگیا آخر
نظر آتا ہے وہ اکثر مُجھے سنجیدہ سنجیدہ
نہ پوچھو میری اِس وارفتگیئ شوق کا عالم
خلش دل کی مجھے کردیتی ہے نمدیدہ نمدیدہ
بہت پُرکیف تھا اُس کا تصور شامِ تنہائی
نگاہِ شوق ہے اب مُضطرب نادیدہ نادیدہ
سفر دشتِ تمنا کا بہت دشوار ہے برقیؔ
پہونچ جاؤں گا میں لیکن وہاں لغزیدہ لغزیدہ