BARQI AZMI RECITES A TOPICAL URDU POETRY ON CORONA VIRUS





AHMAD ALI BARQI AZMI RECITES A TOPICAL URDU POETRY ON CORONA VIRUS

دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں ۔ عبدالرحیم حزیں اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی


عبدالرحیم حزیں  اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
محبوب خدا ہیں وہ ہم جن کی ہیں امت میں
” دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں “
کرتا ہوں جو پیش ان کو اشعار کی صورت میں
خوشبوئے محبت ہے گُلہائے عقیدت میں
اظہار محبت ہے خلاق دوعالم کا
واللیل اذا یغشی قرآن کی آیت میں
مشغول زیارت ہیں جو گنبد خضرا کی
ہیں شاہ وگدا یکساں دربار رسالت میں
ہیں رحمتِ عالم وہ شیدا ہے خدا جن کا
کام آئیں گے محشر میں وہ سب کی شفاعت میں
تخلیقِ دوعالم کا سہرا ہے اُنہیں کے سر
سب لوح و قلم اُن کے ہیں سایۂ رحمت میں
کرسکتا نہیں کوئی توصیف رقم اُن کی
جو کچھ بھی لکھا جائے سرکار کی  مِدحت میں
بھائی ہیں حزیں میرے ہے فخر مجھے ان پر
یہ نعت کی محفل ہے اب جن کی صدارت میں
معراج کا اے برقی حاصل ہے شَرَف جن  کو
ہوگی نہ کمی واقع اُن کی کبھی عظمت میں


روزنامہ صدائے بنگال کے ادبی صفحے ’’ صدائے ادب ‘‘ میں مرتب :محبی نوشاد مومن اور مبصر: ایم زیڈ کنول چیف اکزیکیٹیو جگنو انٹرنیشنل لاہور کی برقی نوازی احمد علی برقی اعظمی


  
روزنامہ صدائے بنگال کے ادبی صفحے  ’’ صدائے ادب ‘‘ میں مرتب :محبی نوشاد مومن اور مبصر: ایم زیڈ کنول چیف اکزیکیٹیو جگنو انٹرنیشنل لاہور کی برقی نوازی
احمد علی برقی اعظمی
لطف کا نوشاد مومن کے ہوں میں منت گذار
دے جزائے  خیر انہیں اس کے لئے پروردگار

شعرے مجموعے پہ میرے ہے یہ اظہار خیال
ہیں یہ رشحات قلم ایم زیڈ کنول کے شاہکار

آج کا ادبی صفحہ ہے یہ صدا بنگال کی
جس کی ہیں خدمات ارباب نظر پر آشکار

پیش کرتا ہوں مبارکباد میں اس کے لئے
یہ جریدہ ہو جہاں میں ایک فخر روزگار

ان کا برقی اعظمی ہے صدق دل سے قدرداں
جن کی ہے اردو نوازی باعث صد افتخار

دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں ۔ عبدالرحیم حزیں اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی



عبدالرحیم حزیں  اعظمی کے زیرِ صدارت بزم سخنواراں کے ۲۱۷ ویں عالمی آنلاین فی البدیہہ نعتیہ طرحی مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
محبوب خدا ہیں وہ ہم جن کی ہیں امت میں
دن رات گذاریں گے سرکار کی مدحت میں
کرتا ہوں جو پیش ان کو اشعار کی صورت میں
خوشبوئے محبت ہے گُلہائے عقیدت میں
اظہار محبت ہے خلاق دوعالم کا
واللیل اذا یغشی قرآن کی آیت میں
مشغول زیارت ہیں جو گنبد خضرا کی
ہیں شاہ وگدا یکساں دربار رسالت میں
ہیں رحمتِ عالم وہ شیدا ہے خدا جن کا
کام آئیں گے محشر میں وہ سب کی شفاعت میں
تخلیقِ دوعالم کا سہرا ہے اُنہیں کے سر
سب لوح و قلم اُن کے ہیں سایۂ رحمت میں
کرسکتا نہیں کوئی توصیف رقم اُن کی
جو کچھ بھی لکھا جائے سرکار کی  مِدحت میں
بھائی ہیں حزیں میرے ہے فخر مجھے ان پر
یہ نعت کی محفل ہے اب جن کی صدارت میں
معراج کا اے برقی حاصل ہے شَرَف جن  کو
ہوگی نہ کمی واقع اُن کی کبھی عظمت میں

انحراف ادبی فورم کے زیر اہتمام افتخار عارف کے مصرعہ طرح پر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں ایک فی البدیہہ طرحی غزل احمد علی برقی اعظمی





انحراف ادبی فورم کے زیر اہتمام افتخار عارف کے مصرعہ طرح پر کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں ایک فی البدیہہ طرحی غزل
احمد علی برقی اعظمی
جو اپنا فرض ہے وہ بھی ادا کئے جائیں
تمام خلق خدا کا بھلا کئے جائیں
وبا کی شکل میں کورونا عذاب قدرت ہے
” دعاکے دن ہیں مسلسل دعا کئے جائیں “
ہے اس سے بچنا تو آپس میں فاصلہ رکھیں
جو احتیاطی تدابیر ہیں کئے جائیں
کہا تھا آپ سے کس نے کہ لاک ڈاؤن میں
بغیر ماسک کے باہر یونہی چلے جائیں
جو مل رہے ہیں تو یونہی ملیں کف افسوس
جو اس کا دینا ہے تاوان وہ دئے جائیں
پلیس والے کسی کے سگے نہیں ہوتے
کیاہے آپ نے جیسا اسے بھرے جائیں
ہے ایک عالمی بحران یہ خدا کے لئے
جو سہہ رہے ہیں سبھی آپ بھی سہے جائیں
جو بات دل میں ہے وہ برملا بیان کریں
سنیں سنیں نہ سنیں حال دل کہے جائیں
وصال یار میسر نہیں تو صبر کریں
مزہ فراق کا بھی کچھ دنوں چکھے جائیں
نہیں ہے کوئی مصاحب تو ایک گوشے میں
خود اپنا چاک گریباں یونہی سئے جائیں
جو جان ہے تو جہاں ہے یہ اک حقیقت ہے
جو روکھی سوکھی ملے کھائیں اور پئے جائیں
ہے لاک ڈاؤن اگر تو الگ تھلگ رہ کر
جہاں ہیں جیسے ہیں برقی یونہی جئے جائیں

بشکریہ  : محبی محمد مجید اللہ ناندید مہاراشٹرا

A Topical Urdu Poetry On Corona Virus by Ahmad Ali Barqi Azmi




کورونا وائرس کی تباہ
کاریوں پر ایک موضوعاتی نظم

احمد علی برقی اعظمی

چین کو اپنا بنایا ایسا کورونا نے شکار

ہو گیا سارے جہاں میں جس سے برپا انتشار

اس کے شر سے مانگتا ہے ہر کس و ناکس پناہ

ابن آدم کے ل
ٸے ہے روح فرسا اس کا
وار

ہے یہ مہلک وا
ٸرس سب کے لٸے سوہان روح

گلشن ہستی کی ہے جس سے خزاں دیدہ بہار

گررہے ہیں اوندھے منھ دنیا میں شی
ٸر
مارکیٹ

ہو گ
ٸے برباد کتنوں کے نہ
جانے کاروبار

لرزہ بر اندام ہیں سارے جہاں میں اس سے لوگ

ہیں مضر اثرات سے اس کے مسافر بیقرار

ہر ہوا
ٸی اڈے پر ہے افراتفری
آج کل

جانے کب ماحول ہوگا پھر دوبارہ سازگار

درس عبرت ہے ہمارے واسطے فطرت سے جنگ

دامن نوع بشر ہے آج جس سے تار تار

خود بنا کر وا
ٸرس سے جوہری ہتھیار ہم

اپنی بداعمالیوں کی جھیلتے ہیں آج مار

آج تک اس کا نہ تھا برقی کو
ٸی
وہم و گماں

جان لے لیں گے کسی کی نزلہ کھانسی اور بخار

Top of Form

Bottom of Form




A Topical Urdu Poetry On Corona Virus by Ahmad Ali Barqi Azmi

<iframe width="480" height="270" src="https://www.youtube.com/embed/QKDviTxgon8?clip=



A Topical Urdu Poetry On Corona Virus by Ahmad Ali Barqi Azmi

عارف اعظمی کے شعری مجموعے ’’ جمالِ سخن ‘‘ پر منظوم تاثرات احمد علی برقی اعظمی






عارف اعظمی کے شعری مجموعے ’’ جمالِ سخن ‘‘ پر منظوم تاثرات
احمد علی برقی اعظمی
میرے پیشِ نظرہے جمالِ سخن
روح عرضِ ہُنر ہے جمالِ سخن
جس سے عارف کا حسنِ بیاں ہے عیاں
مثلِ لعل و گُہر ہے جمالِ سخن
ندرتِ فکر کا اک مرقع ہے یہ
مرجعِ دیدہ ور ہے جمالِ سخن
ہر غزل میں تغزل کی ہے چاشنی
اس طرح جلوہ گر ہے جمال سخن
حسنِ فطرت نمایاں ہے ہر شعر سے
جلوۂ معتبر ہے جمالِ سخن
آسمانِ ادب پر ہے جو ضوفگن
نور شمس و قمر ہے جمال سخن
ساتھ جس کے ملے ایک ذہنی سکوں
ایسا اک ہمسفر ہے جمال سخن


اک نقش جاوداں ہے محبت کی زندگی : احمد علی برقی اعظمی بشکریہ سائبان ادبی گروپ



غزل
اک نقش جاوداں ہے محبت کی زندگی
سوہان روح ہے مجھے نفرت کی زندگی
ننگِ وجود دونوں جہاں میں ہے ان کی ذات
جو جی رہے ہیں بغض و عداوت کی زندگی
کردار کر رہے ہیں مرا مسخ جو عدو
جینے دیں اب مجھے وہ شرافت کی زندگی
حق نے عطا کیا ہے دلِ درد آشنا
ہے اس لئے عزیزیہ شفقت کی زندگی
جاہ و حشم پہ کہہ دو وہ اپنے کریں نہ ناز
یے چند روزہ اُن کی یہ عشرت کی زندگی
آئے ہیں خالی ہاتھ جو جائیں گے خالی ہاتھ
آئے گی کام کچھ نہ یہ ثروت کی زندگی
برقی کو پے ضمیر فروشی سے اجتناب

اس کے لئے ہے موت خجالت کی زندگی

حفیظ الرحمان احسن کے مصرعہ طرح پر انحراف کے ان لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 439 مورخہ 28 فروری 2020 پر میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی




انحراف کے ان لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 439 مورخہ 28 فروری   2020 
پر میری طبع آزمائی
احمد علی برقی اعظمی
صبر آزما بہت ہیں یہ دن انتظار کے
مثلِ خزاں ہیں جھونکے نسیمِ بہار کے
وہ ماجرے خیالی سناتے ہیں پیار کے
لمحے گذررہے ہیں شبِ انتظار کے
فصلِ خزاں ہے ان کے تعاقب میں اس لئے
’’ ہیں تتلیوں کے ہاتھ میں پرچم بہار کے ‘‘
ہے دیکھنا تو دیکھ لیں شاہین باغ میں
تیور ہیں کیسے آج وہاں گلعذار کے
اپنے ہی من کی سب کو سناتے ہیں بات جو
قصے سنیں گے کب وہ مرے حالِ زار کے
اُن کے خرامِ ناز کے مُشتاق ہیں سبھی
وہ جس طرف بھی جاتے ہیں زلفیں سنوار کے
حرکت سے اپنی باز نہ آئیں گے وہ کبھی
دیکھے ہیں اُن کے ساتھ کئی دن گذار کے
قائم رہا نہ وعدوں کا اُن کے کوئی بھرم
قصّے خیالِ خام ہیں قول و قرار کے
دنیائے رنگ و بو کا یہ کیسا نظام ہے
گُل ساتھ ساتھ رہتے ہیں ہر وقت خار کے
ذہنی سکوں کسی کو مُیسر نہیں ہے آج
مارے ہوئے ہیں گردشِ لیل و نہار کے
جی چاہے جتنی مشقِ ستم اِس پہ کرلیں وہ
برقیؔ کو تجربے ہیں غمِ روزگار کے

دل تو لگتا نہیں ہمارا بھی ( مصرعہ طرح افتخار راغب ) دیا ادبی فورم کے ۷۹ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش احمد علی برقی اعظمی




 دیا ادبی فورم کے ۷۹ویں آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
زندگی کا ہے جو سہارا بھی
جیتے جی ہے اسی نے مارابھی
کاش اس کی مجھے خبر ہوتی
اس سے ملنے میں ہے خسارا بھی
ضرب کاری تھی اتنی سخت اس کی
چور ہوجائے سنگِ خارا بھی
آگیا دل نہ جانے کیوں اس پر
جس سے ملنا نہ تھا گوارا بھی
ہو گئی اُلٹی میری ہر تدبیر
کام آیا نہ استخارا بھی
میرا جس مہ جبیں پہ دل آیا
دلربا بھی تھا اور دلآرا بھی
کیا کریں اس سے بن ملے برقی
’’
دل تو لگتا نہیں ہمارا بھی‘‘


تہنیت برائے خصوصی شمارہ جشن میر باہتمام قوس قزح ادبی فورم بشکریہ شہناز شازی و جناب امین جس پوری



غالب اکیڈمی،نئی دہلی کے یوم تاسیس اور مرزا غالب کے ۱۵۱ ویں یوم وفات پرطرحی مشاعرہ کا انعقاد


                                            

غالب اکیڈمی،نئی دہلی کے یوم تاسیس اور مرزا غالب کے ۱۵۱ ویں یوم  وفات پرطرحی مشاعرہ کا انعقاد
            غالب اکیڈمی ہرسال مرزا غالب کی یوم وفات اور غالب اکیڈمی  کے یوم تاسیس کے موقع پر ادبی و ثقافتی تقریبات کا اہتمام کر تی آرہی  ہے جس کو بے حدسراہا جاتا رہا ہے۔اس سال بھی طرحی مشاعرے کا شاندارانعقاد کیا گیا۔ سکریٹری غالب اکیڈمی نے شعرا،مہمان و سامعین کا خیر مقدم کیا۔ مشاعرے کی صدارت عصر حاضر کے ذی وقار شاعر جناب وقارمانوی  نے کی اور نظامت کے فرائض معروف شاعرمعین شاداب نے ادا کئے۔ طرح کے تین مصرعے (1)گر نہ اندوہ ِشبِ فرقت بیاں ہو جائے گا (2)بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے (3)ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے۔ ان تین طرحوں میں دہلی کے معروف و مشہور شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔اشعار پیش خدمت ہیں   ؎
جیسے بھی ہو ہمین بھی دکھا اپنی اک جھلک
ہم بھی کہیں کہ صاحبِ دیدار ہم ہوئے
وقار مانوی
جانے کس خطہئ عالم سے گزر ہے میرا
میں ہوں ایماں سے پریشاں میرا ایماں مجھ سے
جی آر کنول
بات کرنے لگے،ہر سیرت انساں مجھ سے
حامل ِ باطل وشر، سب ہیں پریشاں مجھ سے
ظفر مراد آبادی
شہریت کا مری جو مانگتے ہیں مجھ سے ثبوت
کچھ بتائیں تو سہی کیوں ہیں ہراساں مجھ سے
احمد علی برقی اعظمی
کارواں سب کچھ ہے میرا،وہ نہیں تو کچھ نہیں
وقت پر سب کچھ نثار کارواں ہوجائے گا
تابش مہدی
کیسے بتلاؤں جو پوچھے دل ناداں مجھ سے
 میں ہوں عالم سے کہ ہے عالم امکاں مجھ سے
 احمد محفوظ
جب تری یاد کے جگنو سر مژگاں چمکے
روشنی مانگنے آئی شبِ ہجراں مجھ سے
 جلیل نظامی (دوحہ قطر)
بے ثباتی تعلق کا یقین مجھ کو ہوا
میرے احباب ہوئے جب سے گریزاں مجھ سے
فصیح اکمل
ہے پریشان بہت فتنۂ  دوراں مجھ سے
اس نے دیکھے تھے کہاں سوختہ ساماں مجھ سے
نسیم عباسی
شاخ گل ہے یہ مرے ہاتھ میں شمشیر نہیں
جانے کیوں خوفزدہ ہیں یہ حریفاں مجھ سے
فاروق ارگلی
اہل جنوں کے واسطے تیغ و سناں سے کہا
 ہونٹوں پہ جاں تھی، حوصلے پھر بھی نہ کم ہوئے
شفا کجگاؤنوی
فضل سے میرے ہے شاداب گلستاں مجھ سے
رنگ ایک ایک کلی کا ہے نمایاں مجھ سے
سرفرازاحمد فراز
ایسی نظر پیار کی دونوں نے پیش کی
 مذہب کی فکر چھوڑ کے وہ ہم قدم ہوئے
ممتا کرن
کیوں کر اگے گا سبزہ یہاں کی زمین پر
عرصہ ہوا ہے گاؤں کی مٹی کو نم ہوئے
عمران عظیم
میرے دامن میں تو وحشت ہے جنوں ہے شاہد
 کیا سنور سکتی ہے تقدیرِ بیاباں مجھ سے
شاہد انور
ظلم بتلاؤں کسے وہ رازداں ہوجائے گا
 فاصلہ پھر اس کے میرے درمیاں ہوجائے گا
نسیم بیگم
بار بار آنا مرے ذہین پہ دستک دنیا
جانے کیا چاہتی ہے عمر گریزاں مجھ سے
جمیل مانوی
میری  آنکھوں نے سنواری ہے تری نوک پلک
یوں نگاہیں نہ بدل شہر نگاراں مجھ سے
شاہد انجم
زندگی ہے شرابوں کا تعصب یعنی
ہر قدم دوریئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
سمیر دہلوی
عشق سے خالی اگر سارا جہاں ہوجائے گا
چاندنی بجھ جائے گی سورج دھواں ہوجائے گا
ارشد ندیم
ساری فضیلتیں نہیں ملتیں لباس سے
دستار اوڑھ کر بھی کب محترم ہوئے
معین شاداب
            آخر میں سکریٹری غالب اکیڈمی نے شعرا و شرکا اور سامعین کا شکریہ اداد کیا۔



جسے دیکھو لگا ہے درہم و دینار کے پیچھے ۔ قوس قزح ادبی فورم کے ۳۵ ویں فی البدیہہ مشاعرے کے لئے میری کاوشیں : احمد علی برقی اعظمی