جسے دیکھو لگا ہے درہم و دینار کے پیچھے ۔ قوس قزح ادبی فورم کے ۳۵ ویں فی البدیہہ مشاعرے کے لئے میری کاوشیں : احمد علی برقی اعظمی



ان کا کیا جرم ہے کیوں ان کی ہے حالت ایسی ہیں جو یہ غربت و افلاس کے مارے بچے


بشکریہ : محترم حسن چشتی ، شیکاگو
ان کا کیا جرم ہے کیوں ان کی ہے حالت ایسی 
 ہیں جو یہ غربت و افلاس کے مارے بچے


میں حسن چشتی کے لطفِ خاص کا ممنوں ہوں
جن کی ہے برقی نوازی باعث عز و شرف


تونے جس بات پہ کہرام بچا رکھا ہے ۔ ۲۶ ویں عبدالستار مفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش احمد علی برقی اعظمی


۲۶ ویں عبدالستار مفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری دوسری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
جس نے کہرام زمانے میں مچا رکھا ہے
نگہہِ ناز میں وہ تیر قضا رکھا ہے
جس سے روشن ہے مری شمعِ شبستانِ حیات
تیری الفت کا دیا دل میں جلا رکھا ہے
محو حیرت ہیں ترا دیکھ کے وہ حسن و جمال
چاند تاروں نے بھی منھ اپنا چھپا رکھا ہے
کب اسے آکے تو آباد کرے گا آخر
قصر دل تیرے لئے اپنا سجا رکھا ہے
غمزہ و ناز و ادا ہوش ربا ہیں تیرے
جس نے مجھ کو ترا دیوانہ بنا رکھا ہے
مار ڈالے نہ یہ دزدیدہ نگاہی تیری
انگلیوں پر مجھے کیوں اپنی نچا رکھا ہے
حسن برقی کے لئے ہے یہ ترا توبہ شکن
جس نے رکھا یہ ترا نام بجا رکھا ہے

تونے جس بات پہ کہرام مچا رکھا ہے ۔۔ ۲۶ ویں عبدالستارمفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش۔۱




۲۶ ویں عبدالستارمفتی میموریل آن لائن فی البدیہہ طرحی مشاعرے کے لئے میری کاوش
احمد علی برقی اعظمی
دیدہ و دل کو سرِ راہ بچھا رکھا ہے
ہر گذرگاہ کو پھولوں سے سجا رکھا ہے
دیکھئے ہوتا ہے مایل بہ کرم کب مجھ پر
حال دل میں نے اسے اپنا سنا رکھا ہے
آکے خود دیکھ لے گر دیکھنا چاہے اس کو
کیا بتاؤں دلِ بیتاب میں کیارکھا ہے
کس کی ہے ریشہ دوانی مجھے معلوم نہیں
’’تونے جس بات پہ کہرام مچا رکھا ہے‘‘
میں ہوں وہ صید ہے صیاد زمانہ جس کا
اس نے ہر گام پہ اک جال بچھا رکھا ہے
قید ہوسکتا ہے زندان بلا میں وہ بھی
جس میں مظلوم کو بے جرم و خطا رکھا ہے
ڈھونڈتی رہتی ہیں برقی کو کہیں جانا ہو
اُس نے گھر اُس کا بلاؤں کو بتا رکھا ہے


Fayaz Shaheryaar's Impressive Speech at Ghalib Academy Book Inauguration...









Fayaz Shaheryar's Impressive Speech at Ghalib Academy While Releasing Mahshar E Khayal Poetry Collection Of Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi
Courtesy : 
GNK URDU

POWER OF VOTE : AHMAD ALI BARQI AZMI






ایک زیرو کو بنا سکتا ہے ہیرو یہ نشاں
ووٹ کی طاقت کو اپنے آپ اگر پہچان لیں
احمد علی برقی اعظمی
एक जीरो को बना सकता है हीरो यह निशाँ
वोट की ताक़त को अपने आप अगर पहचान लें
अहमद अली बर्क़ी आज़मी
Ek zero ko bana sakta hai Hero yeh nishan
Vote ki taqat ko apne aap agar pahchan leiN


قوس قزح ادبئ فورم کے زیر اہتمام جشن میر کے لئے میری غزل نذر میر تقی میر احمد علی برقیؔ اعظمی : بشکریہ شہناز شازی اور امین جس پوری



قوس قزح ادبئ فورم کے زیر اہتمام جشن میر کے لئے میری غزل نذر میر تقی میر
احمد علی برقیؔ اعظمی
اُس کے وعدے پہ اعتبار کیا
مستقل اُس کا انتظار کیا
خانۂ دل میں کرکے حشر بپا
اس طرح مجھ کو بیقرار کیا
صرف اس کے لئے بصد اخلاص
مذہبِ عشق اختیار کیا
اب مجھے ہو رہا ہے یہ احساس
میں نے کس بے وفا سے پیار کیا
تا کہ اُس کو نہ ہو کوئی شکوہ
میں نے ماحول سازگار کیا
اور اس کے سوا میں کیا کرتا
اُس پہ جو کچھ بھی تھا نثار کیا
کاش ایسا نہیں کیا ہوتا
پُشت پر میری اُس نے وار کیا
اُس کی دلجوئی کے لئے برقیؔ
اُس نے جو چاہا اختیار کیا




جشنِ خدائے سخن : میر تقی میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے لئے منظوم تہنیت نامہ بشکریہ : محترمہ شہناز شازی اور محترم امین جس پوری احمد علی برقی اعظمی



جشنِ خدائے سخن : میر تقی میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے لئے منظوم تہنیت نامہ
بشکریہ : محترمہ شہناز شازی اور محترم امین جس پوری
احمد علی برقی اعظمی
کیوں نہ جشنِ میر ہو قزح میں شاندار
جن کی عصری معنویت آج بھی ہے برقرار
ضوفگن ہے جس سے شمع علم و دانش آج تک
بحر ذخارِ ادب کی تھے وہ درِ شاہوار
تھا یہاں پر میر جیسا صاحب فکر و نظر
اہلِ دہلی کے لئے ہے باعث صد افتخار
میرکا رنگِ تغزل بن گیا ان کی شناخت
مرزا غالب کو بھئ تھا ان کے سخن پر اعتبار
میر کا ثانی نہ تھا کوئی بھی ان کے دور میں
میر اقلیم سخن کے تھے حقیقی تاجدار
ہیں نقوش جاوداں ان کے خزاں ناآشنا
گلشنِ اردو میں ان کی ذات تھی مثلِ بہار
تھی کسی کو بھی نہیں تابِ سخن ان کے حضور
تھے معاصر ان کے ان کے سامنے مثلِ غبار
صرف برقی ہی نہیں ان کے سخن کا قدرداں

سب مشاہیر سخن میں ان کا کرتے ہیں شمار

جشن میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے میری کاوش نذر میر تقی میر احمد علی برقی اعظمی


جشن میر زیر اہتمام قوس قزح ادبی فورم کے میری کاوش
نذر میر تقی میر
احمد علی برقی اعظمی
سب اپنی چُھپا کر جو پہچان  نکلتے ہیں
کس شان سے سڑکوں پر حیوان  نکلتے ہیں
پہچاننا  مشکل ہے اپنے و پرائے کو
انسان کی صورت میں شیطان نکلتے ہیں
ہے میرے نشیمن پر ہر وقت نظر  جن  کی
دربدری کا وہ لے کر فرمان نکلتے ہیں
ہر چیز میں آتا ہے ان کا ہی نظر چہرہ
’’ جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں ‘‘
دستور زباں بندی کردیں نہ کہیں نافذ
ہر روز نئے جن کے فرمان نکلتے ہیں
رہ رہ کے مچلتی ہے اک حسرتِ دیرینہ
سب پورے کہاں دل کے ارمان نکلتے ہیں
محفوظ نہیں ان سے کوئی بھی کہیں برقی
جو لے کے تباہی کا سامان نکلتے ہیں



Amaravati Poetic Prism 2019 - HIGHLIGHTS






Poetic
Compliment To 
5th Amararavati Poetic Prism- 2019
Ahmad Ali Barqi Azmi
Tha yeh ek 21 aur 22
December yaadgar
Thee Vijyawada meiN ek
taqreb e adabi shandar
Padmaja Paddy then is
taqreeb ki rooh e rawaaN
Jis meiN shamil the
kaii mulkoN ke shuara beshumar
Multi-Lingual sheri
majmooye ka ijra tha wahaaN
Jiske hai safhaat ke
zeenat kalam e khaksar
Mukhtalif lehjoN meiM
usloob e bayaaN tha dilnasheeN
Iske mundarjaat haiN
asri adab ke shahkar
Gosh bar aawaaz the
sab log sunne ke liye
Jinke gulha e mazameeN
se fiza thee muskbaar
5 vaaN majmooa e
ashaar haiyeh dilnasheeN
Jiske hai safhaat ki
Barqi zakhamat ek hazaar




دو فی البدیہہ غزلیں نذرِ چراغ حسن حسرت مرحوم


شعرو سخن ڈاٹ نیٹ کینیڈا کی برقی نوازی


لطف ہے شعروسخن کا باعث عزوشرف

میرے رخش فکر کی مہمیز ہے یہ تہنیت

Movie YAADE RAFTAGAN TO NASHTAR KHAIRABADI BY DR AHMAD ALI BARQI AZMI ...



Movie YAADE RAFTAGAN TO NASHTAR KHAIRABADI BY DR AHMAD ALI BARQI AZMI NEW DELHI INDIA


عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقیؔ اعظمی


عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہوگا کیا بام پہ تو جلوہ نما میرے بعد
کون دیکھے گا ترا ناز و ادا میرے بعد
تختۂ مشق بنانا ہے اگر مُجھ کو بنا
ایسا کرنا نہ کبھی حشر بپا میرے بعد
تونے ناکردہ گناہی کی سزا دی ہے مجھے
اب بتا کس کو ملے گی یہ سزا میرے بعد
ہے دعا میری یہی ظلم و ستم سے تیرے
نہ کرے کوئی بھی اب آہ و بُکا میرے بعد
تھا مرے ساتھ ہمیشہ جو رویہ تیرا
ایسے دینا نہ کسی کو بھی دغا میرے بعد
وار ہنس ہنس کے ترا میں نے سہا ہے لیکن
پھر چلائے گا کہاں تیغِ ادا میرے بعد
عیش کرنا ہے تجھے جتنا وہ کرلے کیونکہ
زندگی کا نہ ملے گا یہ مزا میرے بعد
سرخرو میری بدولت ہی تھا جن کا چہرہ
”ان کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا میرے بعد“
میں نے رکھا ہے تجھے اپنی رگِ جاں کے قریب
کون ہے تیرا بہی خواہ بتا میرے بعد
سب کو جانا ہے جہاں میں بھی چلا جاؤں گا
ہوگی ہمراہ ترے میری دعا میرے بعد
شہرِ دہلی میں ہوں گُمنام میں لیکن برقیؔ
ضوفگن ہوگی مرے فن کی ضیا ء میرے بعد

عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقیؔ اعظمی

عالمی ادبی فورم صبا آداب کہتی ہے کے  پندرہ روزہ ۲۳ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی
احمد علی برقیؔ اعظمی
ہوگا کیا بام پہ تو جلوہ نما میرے بعد
کون دیکھے گا ترا ناز و ادا میرے بعد
تختۂ  مشق بنانا ہے اگر مُجھ کو بنا
ایسا کرنا نہ کبھی حشر بپا میرے بعد
تونے ناکردہ گناہی کی سزا دی ہے مجھے
اب بتا کس کو ملے گی یہ سزا میرے بعد
ہے دعا میری یہی ظلم و ستم سے تیرے
نہ کرے کوئی بھی اب آہ و بُکا میرے بعد
تھا مرے ساتھ ہمیشہ جو رویہ تیرا
ایسے دینا نہ کسی کو بھی دغا میرے بعد
وار ہنس ہنس کے ترا میں نے سہا ہے لیکن
پھر چلائے گا کہاں تیغِ ادا میرے بعد
عیش کرنا ہے تجھے جتنا وہ کرلے کیونکہ
زندگی کا نہ ملے گا یہ مزا میرے بعد
سرخرو میری بدولت ہی تھا جن کا چہرہ
ان کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا میرے بعد
میں نے رکھا ہے تجھے اپنی رگِ جاں کے قریب
کون ہے تیرا بہی خواہ بتا میرے بعد
سب کو جانا ہے جہاں میں بھی چلا جاؤں گا
ہوگی ہمراہ ترے میری دعا میرے بعد
شہرِ دہلی میں ہوں گُمنام میں لیکن برقیؔ
ضوفگن ہوگی مرے فن کی ضیا ء میرے بعد



احمد علی برقی اعظمی عالمی تنظیم ادب اردو کے مظفر احمد مظفر(سرپرست ادب اردو لندن ) ایوارڈ سے سرفراز




خاکسار احمد علی برقی اعظمی کو عالمی ادبی تنظیم ادب اردو کی جانب سے مظفر احمد مظفر ایوارڈ ملنے پر منظوم اظہار امتنان و تشکر
احمد علی برقی اعظمی
کرتے ہیں مجھ پر نوازش جو مظفر بار بار
میرے رخشِ فکر کی مہمیز ہے یہ افتخار
جاری و ساری ابھی ہے میرا تخلیقی سفر
یہ سند میرے لئے ہے باعث عز و وقار
ہے دعا اقصائے عالم میں سدا ہوں سرخرو
میرے جو احباب مجھ سے کرتے ہیں بے لوث پیار
ہیں مظفر بھی اُنھیں رُفقا کی صف میں پیش پیش
شہر لندن میں ہیں برقی کے جو اک نادیدہ یار

۱۱ جنوری ۲۰۲۰ کو غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ماہانہ ادبی نشست اور احمد علی برقی اعظمی کے شعری مجموعہ محشر خیال کا جناب فیاض شہریار سابق ڈائیریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو کے بدست اجرا




تھی جو گیارہ جنوری کو بزم غالب میں نشست
گوش بر آواز سننے کے لئے تھے سامعین
ہر سخنور نے سنائےاپنے میعاری کلام
محفل شعرو ادب برقی تھی یہ اک بہترین




غالب اکیڈمی کی ماہانہ ادبی نشست احمد علی برقی اعظمی کے شعری مجموعے محشر خیال کا اجرا : بشکریہ اردو نیٹ جاپان


بشکریہ اردو نیٹ جاپان غالب اکیڈمی کی ماہانہ ادبی نشست احمد علی برقی اعظمی کے شعری مجموعے محشر خیال کا اجرا


بشکریہ اردو نیٹ جاپان
غالب اکیڈمی کی ماہانہ ادبی نشست احمد علی برقی اعظمی کے شعری مجموعے محشر خیال کا اجرا
ان کی اس برقی نوازی کا ہوں میں منت گذار
میرے جو احباب مجھ سے کرتے ہیں بے لوث پیار
جاری و ساری ابھی ہے میرا تخلیقی سفر
یہ سند میرے لئے ہے باعث عزو وقار

Ahamad Ali Barqi Azmi Presenting Poetic Compliment to Former DG AIR Janab Fayyaz Sheheryar In Ghalib Academy New Delhi in Release Ceremony Of His Poetry Collection Mahshar e Khayal By Him


NAYA SAAL KHUSHIYON KA PAIGHAM LAYE A NAZM BY DR AHMAD ALI BARQI AZMI...





NAYA SAAL KHUSHIYON KA PAIGHAM LAYE A NAZM BY DR. AHMAD ALI BARQI AZMI SINGER USTAD NAEEM SALARIA LONDON

احمد علی برقیؔ اعظمی ایک قادرالکلام اور صاحب طرز سخنور فیاض شہریار ڈائیریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو





احمد علی برقیؔ اعظمی ایک قادرالکلام اور صاحب طرز سخنور
فیاض شہریار
ڈائیریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو
احمد علی برقیؔ اعظمی صاحب کے دوسرے مجموعہ شعر ”محشر خیال‘‘ پر اظہار خیال کرنا میرے لئے باعث افتخارہے۔ برقیؔ میرے رفیق کار ہیں اور میں نے زبان اور فن شعر کی کئی باریکیاں ان سے سیکھی ہیں۔
                محشر خیال غزلیات، یاد رفتگاں  اور کچھ فارسی غزلیات کے مننظوم اردو تراجم پر مشتمل ایسا مجموعہ ہے جو تخلیق کار کی بے ساختگی، فنی  پختگی، معنوی تہہ داری، تغزل اور تنوع کی بہترین مثالیں پیش کرتا ہے۔
                برقیؔ نے ہر موضوع، بے شمار شخصیات اور مشاہیراردو و فارسی کے تعلق سے ایک طرح کی منظوم اینتھالوجی لکھی ہے اور ان کا یہ سفر جاری ہے۔ایک کہنہ مشق اور نابغۂ روزگار والد کی صحبت میں نشونما پاکر انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کی خارجی خدمات شعبۂ فارسی کی ۳۳ برس تک تزئین کاری کی ہے۔ ایران کے علمی اور ادبی حلقوں میں اُنہیں کئی بار پذیرائی ملی ہے۔برقیؔ روایت اور تجدد پرستی کا ایک حسین امتزاج ہیں۔ ان کے ہاں اساتذہ کے فن کا اثر اور نئے مزاج کی چمک ہے جس کی وجہ سے یہ معاصرین میں بیحد مقبول ہیں۔
                یہ اَن گِنت انعامات و اکرامات حاصل کرچکے ہیں لیکن پھر بھی دنیائے ادب ابھی تک ان کی خدمات کو پہچاننے میں بُخل کرتی نظر آرہی ہے۔ان کی شعری تخلیقات میں  Felt Thought کی چبھن ہے جسے انگریزی شاعری کے ناقدین نے فن کی معراج کا نام دیا ہے۔
                ان کی دیانت داری، سادہ لوحی اورگہرائی انہیں ممتازوں میں ممتاز تر کرتی ہے
فیاض شہریار
ڈائیریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو

عہد حاضر کا ایک برق رفتار سخنور: احمد علی برقی ؔ اعظمی بقلم حقانی القاسمی



عہد حاضر کا ایک برق رفتار سخنور: احمد علی برقی ؔ اعظمی

احمد علی برقیؔ اعظمی اسم با مسمیٰ ہیں۔ وہ برق رفتاری سے شعر بھی کہتے ہیں اور نئی برق تجلی سے قاری کو روشناس بھی کرتے ہیں۔ اردو میں برقی کی طرح ارتجالا شعر کہنے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔ان کی بدیہہ گوئی یقیناً قابل رشک ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زود گوئی کے باوجود ان کا موضوعاتی دائرہ محدود اور مختصر نہیں بلکہ متنوع اور مختلف ہے۔ان کے موضوعاتی مطاف میں آج کے مسائل، معاملات اورمتعلقات بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر ان کی شاعری میں معاصر عہد کے وہ مسائل بھی ہیں جن کا تعلق انسانی حیات ماحولیات سائنس اورجدید ٹیکنالوجی سے ہے۔ ان کے یہاں شاعری اور سائنس کی مارفولوجی کا اشتراک قابل داد ہے۔ انھوں نے بہت سے خوبصورت استعارے اور تشبیہات آج کی سائنس ٹیکنالوجی خاص طور پر نباتات سے لیے ہیں اور انھیں شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ موضوعاتی اعتبار سے احمد علی برقیؔ کا جہانِ شعر بہت ہی وسیع اور بسیط ہے۔ کوئی بھی موضوع ہو احمد علی برقیؔ اس میں اپنی قدرت کلامی اور حسن بیان کا جوہر ضرور دکھاتے ہیں۔انھیں محال کو کمال میں بدلنے کا ہنر آتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری پڑھ کرمرزا محمد رفیع سودا کا یہ شعر بے ساختہ یاد آتا ہے
میں حضرت سودا کو سنا بولتے یارو
کیا قدرت ِ الفاظ ہے کیازورِ بیاں ہے
گو کہ یہ شاعرانہ تعلی ہے مگر برقی ؔکے باب میں یہ حقیقت ہے۔ کیونکہ ان کی شاعری میں قدرتِ الفاظ بھی ہے اور زورِ بیاں بھی انھوں نے تخلیق اور تشکیلِ شعر میں فارسی لفظیات، تلمیحات اور ترکیبات سے بھی خاطر خواہ استفادہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی شاعری کی کیفیت دو آتشہ ہوگئی ہے۔ اپنی بے پناہ تخلیقی قوت اور لسانی ندرت کے باجود معاصر شعری منظر نامے میں برقی کو وہ مقام اور مرتبہ حاصل نہیں ہے یقیناً یہ ایک طرح سے ادبی بددیانتی ہے کسی بھی جینوئن فنکار کو اس طرح نظر انداز کرنا صحت مند تنقیدی روایت نہیں ہے۔اس لیے ہمارے ناقدین کا فرض بنتاہے کہ برقی ؔکو تنقیدی حوالوں میں ضرورشامل کریں کیونکہ برقیؔ کا جہانِ شعر نہ صرف ہمیں بہت سارے شیڈ سے روشناس کراتا ہے بلکہ اردو اور فارسی زبان کی خوبصورت آمیزش سے ہمارے مشامِ جاں کو معطر بھی کرتا ہے۔ اور زبان کے نئے ذائقے سے ہمیں لطف اندوزبھی کرتا ہے۔

حقانی القاسمی، نئی دہلی

یکم دسمبر 2019

KITABAIN BOLTI HAIN | MAHSHAR E KHAYAL | AHMED ALI BARQI AZMI |







ہے یہ
ادبستان ٹی وی ناشر شعرو ادب


بولتا کالم ہے جس کا سب کا منظور نظر

ہیں رضا صدیقی کے اس پر جو ادبی تبصرے

ان کا اسلوب بیاں ہے بہتر از لعل و گہر

سپاسگذار

احمد علی برقی اعظمی

KITABAIN BOLTI HAIN | MAHSHAR E KHAYAL | AHMAD ALI BARQI AZMI: Courtesy Bolta Column





#KITABAINBOLTIHAIN #mustreadurdubooks #AHMEDALIBARQIAZMI

KITABAIN BOLTI HAIN | MAHSHAR E KHAYAL | AHMAD ALI BARQI AZMI 



میرے دوسرے تازہ تریں
شعری مجموعے ’’ محشر خیال ‘‘ پر محترم رضا  صدیقی ناظم شہرۂ آفاق یو ٹیوب ادبی چینل بولتا
کالم کے بصیرت افروز تجزیئےپر منظوم اظہار امتنان و تشکر
احمد علی برقی اعظمی
بولتا کالم ہے اک یو
ٹیوب چینل باوقار
ہے رضا صدیقی کی جس
سے بصیرت آشکار
اس کے ادبی تبصرے ہیں
مرجعِ اہلِ نظر
جس کے ہیں مداح
اقصائے جہاں میں بے شمار
کل بھی منظور نظر تھے
اس کے ادبی تجزئے
اس کی عصری معنویت آج
بھی ہے برقرار
جن کتابوں پر کئے ہیں
اس نے اب تک تبصرے
بحرِ ذخارِ ادب کی
ہیں وہ دُرِ شاہوار
شعری مجموعوں  پہ ہیں میرے جو اس کے تبصرے
ہیں شعور فکر و فن کے
وہ مرے آئینہ دار
اس کی ان خدمات کا
کوئی نہیں نعم البدل
ہیں جو تہذیبی روایت
کی ہماری پاسدار
پیش کرتا ہوں
مبارکباد میں اس کی اسے
ہوں دعا گو دن بہ دن
اس کا فزوں تر ہو وقار
جاری و ساری رہے اس
کا یونہی ادبی سفر
زیبِ تاریخِ ادب ہوں
اس کے ادبی شاہکار
میری نظروں میں ہے یہ
شعرو ادب کا وہ سفیر
کررہا ہے رشتۂ مہر
ووفا جو استوار
شہر دہلی میں ہوں میں
اک شاعرگوشہ نشیں
اس کی ہے برقی نوازی
باعثِ صد افتخار

Dr Ahmad Ali Barqi Azmi Reciting His Persian Ghazal In Potic Prism 2019





Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi Reciting His Persian Ghazal In Potic Prism 2019